حسین حقانی

  • نعرے، اساطیر اور سازش کی تھیوریاں

    یقیناً قوموں اور قومیتوں کو بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ محض بیانیے کے بل بوتے پر ترقی نہیں کر سکتیں۔ اُنہیں تعلیم، صحت، اختراع، داخلی تعلقات اور معاشی ترقی کے عملی تصورات بھی درکار ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستانی سیاست ایک طویل عرصے سے نعروں، اساطیری کہانیوں اور سازش کی ت [..]مزید پڑھیں

  • غیرسیاسی ذرائع سے سیاسی مسائل کا حل

    تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا، جن کا فوج نے ستمبر 2006 میں تختہ الٹ دیا تھا، اور پھر اُنہیں بدعنوانی کی پاداش میں سزا بھی سنادی، کئی برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس آگئے ہیں ۔ اُن کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آچکی ہے۔ تھائی لینڈ کے بادشاہ نے تھاکسن کی سزا میں تخف� [..]مزید پڑھیں

  • بدلتی دنیا سے بے خبری

    گزشتہ تین عشروں سے پاکستانی اپنے ہمسائے میں جہاد اور اپنے وطن میں اقتدار کی نہ ختم ہونے والی جنگ میں مصروف رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کا قومی تفکر اُن تبدیلیوں کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا جو سرد جنگ کے بعد دنیا میں آئی ہیں۔ سرد جنگ دسمبر 1991 میں سوویت یونین کے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • معاشی عملیت پسندی اور نظریاتی جمود

    گزشتہ ہفتے کے اخبارات کی شہ سرخیوں کا 1990 کی دہائی سے موازنہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت سے آج تک پاکستان کے معاشی حالات میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی۔ 1990  کی دہائی کی طرح آج بھی ملک کو زرمبادلہ کی کمی کا سامنا ہے کیوں کہ اس کی درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں۔ اس خلا ک� [..]مزید پڑھیں

  • قومی مفاہمت یا جمہوریت کا زوال ؟

    پاکستان خطرناک حد تک قطبیت کا شکار ہے ۔ پاکستانی کسی کرشماتی رہنما کے یا تو جذباتی حامی ہیں یا اندھے مخالف۔ حامی اُس رہنما کو ملک کے ہر دکھ درد کا مسیحا قرار دیتے ہیں۔ جبکہ ناقدین اسے مجسم تباہی دیکھتے ہیں۔ معاشرے میں تقسیم کی اور بھی نازک لکیریں ہیں، خاص طور اُن کے درمیان جو [..]مزید پڑھیں

  • افغانستان میں معاملات کیسے آگے بڑھائے جائیں؟

    افغانستان میں متعدد ایسے اضلاع پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کی حالیہ اطلاعات سے طالبان حکومت کی واپسی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جہاں پہلے سے فریقین میں عسکری کشمکش جاری تھی۔ افغانستان کے بارے میں حالیہ خبروں اور ذرائع ابلاغ کے تبصروں نے اس خوف و ہراس کی یاد تازہ کردی ہے جو 2011 � [..]مزید پڑھیں

  • باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دو شراکت دار ممالک کے مابین پیدا ہونے والی حالیہ رنجش کو ختم کرنے کی کوشش میں سعودی عرب کا دورہ کررہے ہیں۔ ریاض اور اسلام آباد کے مابین اختلافات اس وقت سامنے آ ئے تھے جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الٹی میٹم دیا تھا کہ سعودی عر [..]مزید پڑھیں

  • پاک امریکہ تعلقات: مکالمہ تبدیل کرنے کی ضرورت

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ بھارت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے اس عمل کا نتیجہ ہے جس کا آغاز کرتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے اسے اکیسویں صدی کی فیصلہ کن شراکت داری قرار دیا تھا۔ اس عمل کا آغاز دو دہائی قبل ہوا تھا لیکن اس کے لئے نئ� [..]مزید پڑھیں