حاشر ارشاد

  • پرانی چٹخنی، نادیدہ دروازہ

    بات تازہ ہے۔ تیس جولائی کو اسلام آباد میں پہلی پاکستان اکنامک سمٹ کے سٹیج پر، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وہ بات پھر کہہ دی جو ہر چند برس بعد کہی جاتی ہے : موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور نئے انتظامی یونٹ یا صوبے بنانے پر اتفاق کریں، ورنہ دس سال بعد بھ� [..]مزید پڑھیں

  • فتوے مر رہے ہیں

    نیل ڈی گراس ٹائی سن نے کہا تو خدا کے تصور کے بارے میں تھا کہ یہ تصور انسان کی اس لاعلمی کا مظہر ہے جو روز بہ روز کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بات قریباً ہر اس تصور پر لاگو ہوتی ہے جو نامعلوم کی سرحد کے آس پاس مقیم ہے۔ انسان کی زندگی اس نیلی گیند پر بہت مختصر ہے۔ بہت کچھ ہم نے کھ� [..]مزید پڑھیں

  • کیا بلاسفیمی کے قوانین کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟

    ہم عموما بلاسفیمی کا ترجمہ توہین کرتے ہیں تاہم یہ ترجمہ اس وسیع المعانی ترکیب کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ بلاسفیمی مذہب کی نگاہ میں جرم اور گناہ کے توافق کی اعلی ترین مثال ہے اس لیے سامی مذاہب کی حد تک اس کی سزا بھی شدید ترین ہے۔ آج کے دن گرچہ عیسائیت اور یہودیت بلاسفیمی کی سزا کو ت [..]مزید پڑھیں

loading...
  • امریکی ’شکست‘ کی تین وجوہات

    ایک ڈوبتی شام کو آخری جہاز بھی رخصت ہوا تو یاروں نے عزت اور ذلت کا ترازو ہاتھ میں تھام کر فتح اور شکست کا وہی راگ چھیڑ دیا جو افغانستان کے لیے کئی دہائیوں سے ان کو یاد واحد نغمہ ہے۔ ان یاروں کا خیال ہے کہ افغانستان اور امریکا کے مابین غالباً کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا تھا جس میں ا� [..]مزید پڑھیں

  • محمد علی سدپارہ بہادر نہیں تھا

    راکھیوٹ پل کے کنارے ایک کھنڈر نما عمارت کے ویران کمرے میں ٹارچ کی دم توڑتی بیٹری کی آخری لو ٹمٹماتی تھی اور خاموشی میں سندھ سے ملتے گندھک بھرے پانی کی ایک نامانوس بو سرسراتی تھی۔ اس بیچ  ہم صبح کے انتظار میں اپنے سلیپنگ بیگز میں ٹھٹھرتے تھے۔ یہ اس وقت کا قصہ ہے جب فیری میڈوز [..]مزید پڑھیں

  • دنیا کی اداس ترین کہانی

    سنہ 1910 میں امریکہ کے ایک چھوٹے سے مقامی اخبار میں ایک اشتہار شائع ہوا: ’ہاتھ سے بنے ہوئے چھوٹے بچے کے کپڑے اور ایک جھولا برائے فروخت۔ دونوں استعمال نہیں ہوئے‘۔ شاید اسی اشتہار کو پڑھنے والے کسی نامعلوم شخص نے برسوں بعد وہ کہانی تخلیق کی جو آج بھی دنیا کی اداس ترین کہانی س [..]مزید پڑھیں

  • شطرنج کی تین بازیاں

    ’شطرنج سیکھو گے‘ ابو نے مہرے سمیٹتے ہوئے پوچھا۔ میری عمر کوئی آٹھ سال کے لگ بھگ ہو گی۔ اسکول کی چھٹیاں تھیں۔ چھٹیوں کا کام پہلے ماہ ہی ختم کرنے کے بعد میرے پاس کرنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ٹیلی ویژن کے اکلوتے چینل پر پروگرامز کا دورانیہ چند گھنٹے ہوا کرتا � [..]مزید پڑھیں

  • فرانس پہ، سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

    ولیم میور نے 1866 میں چار جلدوں پر مشتمل ”لائف آف محمد“ تحریر کی۔ اس کتاب کے ماخذ تاریخ طبری، کتب احادیث اور سیرت کے اولین نسخہ جات تھے۔ کتاب تنقیدی نقطہ نظر سے لکھی گئی تھی اور اس میں موجود تجزیے عقیدت اور مدح کی قید سے آزاد تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نبی ﷺ کی ذات کے ایسے زاویے � [..]مزید پڑھیں

  • کورونا، مولانا، مفتی اور علامہ

    خدا بخشے پروفیسر فضل حسن کو۔ یونیورسٹی میں فنانس پڑھاتے پڑھاتے اکثر سیاست کی گلی میں نکل جاتے۔ سیاست سے سماجیات اور عمرانیات پر پہنچتے پہنچتے فنانس کہیں دور رہ جاتی۔ اکثر اوقات انہی لیکچرز میں قوم کے بے لوث رہ نماؤں کا ذکر آتا تو وہ موٹی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے گول گول دید� [..]مزید پڑھیں