ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • ایاز امیر صاحب، بات اتنی سادہ نہیں!

    سارہ انعام کا قتل، شادی کے دو ماہ بعد ! وڈیو نظر آتی ہے جس میں ایاز امیر بیٹے کی شادی میں بڑھ چڑھ کر شریک ہیں اور والدہ ثمینہ والہانہ طور پہ ناچ رہی ہیں۔ ایاز امیر نے اپنے کالم میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بہت سی باتیں لکھی ہیں۔ لوگ باگ ان کی اس جرات رندانہ کو سراہ رہے ہیں کہ انہ� [..]مزید پڑھیں

  • قفس میں عید

    ہم نے پچھلی عید پہ اپنے لان میں سارا دن اکیلے بیٹھے یہ سوچتے ہوئے گزارا تھا کہ یہ آسیب جو شہر بھر کو گھیرے ہے، سڑکوں اور گلیوں پہ جو پہرہ ہے، دور دور تک کسی متنفس کا وجود نہیں، یہ تنہائی اور زندگی کا انوکھا پن ہمیں دو ہزار بیس کی یاد دلائے گا۔ شقی القلب اور ظالم دو ہزار بیس جو ہمار [..]مزید پڑھیں

  • ہم نے ممتا کیسے سیکھی؟

    اگر آپ شادی شدہ مرد ہیں تو بیگم کے ساتھ کبھی نہ کبھی گائناکالوجسٹ کے کٹہرے میں ضرور کھڑے ہوئے ہوں گے۔ اگر ابھی خوش قسمتی یا بدقسمتی سے یہ بور کے لڈو آپ نے نہیں کھائے تو خاطر جمع رکھیے آپ کا وقت ضرور آئے گا۔ اگر آپ عورت ہیں تو تب بھی آپ نے ایک خشک مزاج، تنک ڈاکٹر کے منہ سے مشین گن � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تشریف لاتی ہیں مردوں کی دشمن

    ’ سنبھل کے بیٹھئے، آ رہی ہیں مردوں کی دشمن۔  انہوں نے عورت کی بے مہار آزادی کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے۔ دیکھتے ہی ڈر لگتا ہے کہ جانے کیا کہہ دیں۔ تحریری کلاس لینے میں تو بہت ماہر ہیں۔سادہ لوح عورتوں کو پٹیاں پڑھا کے خراب کر رہی ہیں ۔  اپنی بیویوں کو ان سے دور ہی رکھو، عورت کا مق [..]مزید پڑھیں

  • کھلونے، کتابیں اور گزرے ہوئے خواب

    ہمیں ایک دھمکی آمیز پیغام وصول ہوا ہے اور مشکل یہ ہے کہ سر تسلیم خم کیے بنا چارہ بھی نہیں۔نئے برس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دور دیس میں رہنے والے ان زمینوں کو لوٹتے ہیں جہاں سے برسوں پہلے وہ نئی منزلوں کی طرف اڑان بھر کے اجنبی سرزمینوں میں اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔ &rsq [..]مزید پڑھیں

  • اماں کا زیور والا ڈبہ

    اماں کی قبر کی مٹی ابھی گیلی تھی، لیکن پردیس رہنے والوں کو تو واپس جانا تھا۔ اماں نامی داستان کا آخری باب ختم ہو چکا تھا اور پیچھے رہ جانے والوں کو زندگی کی گاڑی پھر سے دھکیلنا شروع کرنی تھی۔ ہم بجھے ہوئے دل سے سامان سمیٹ رہے تھے جب ہماری چھوٹی بھاوج کمرے میں داخل ہوئیں۔ کچھ دیر � [..]مزید پڑھیں

  • پرسنل باؤنڈری کے بارے میں کچھ خیالات

    ’اماں، یہ میری پرسنل باؤنڈری ہے، پلیز اس میں دخل اندازی مت کیجیے‘۔ حیدر میاں سے گرماگرم بحث میں الجھنے کے دوران جونہی یہ الفاظ سنے، ہم نہ صرف اپنی جگہ سے اچھلے بلکہ چودہ طبق بھی روشن ہو گئے۔ ’کیا مطلب؟ میں ماں ہوں تمہاری‘  ہم نے ہکلاتے ہوئے کہا ’بے شک! اور میں [..]مزید پڑھیں

  • ایک طویل برس کی آخری شام

    دو ہزار بیس کا آخری سورج ڈھل رہا ہے۔ شام کا ملگجا اندھیرا، درختوں کے لمبے ہوتے سائے، پرندوں کی نیچی اڑان، کچھ کہتا ہوا سناٹا، تھمی ہوئی ہوا، تھکی تھکی لہریں، خاموش سمندر۔ پچھلے برس کی آخری شام کسے معلوم تھا کہ ہماری زندگیوں میں کیا طوفان آنے کو پر تول رہا ہے؟ ہم دو ہزار انیس ک� [..]مزید پڑھیں

  • تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا؟

    نہ جانے کس نے کہا تھا مگر کیا خوب کہا تھا ـ ’ تمہاری آزادی کی حد وہاں تک ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے ‘۔ بخدا ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ ان دانشور کی ناک فطری حدود اربعہ رکھتی تھی یا پناکو کارٹون کی طرح کسی اور جہان کی خبر لاتی تھی۔ جوں جوں عمر ڈھل رہی ہے اس قول کی سچائی پہ م [..]مزید پڑھیں