ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • چاند پہ چہل قدمی کون کر رہا ہے؟

    وہ ایسے چلتا جیسے چاند پہ چل رہا ہو، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے۔پھونک پھونک کے رکھے قدم، کشش ثقل سے آزاد ایک مخصوص جنبش۔ کون کر سکتا تھا بھلا ایسا، بریک ڈانس کے شہنشاہ مائیکل جیکسن کے سوا! حیدر میاں ڈانس سیکھنے کے شوقین اور وہ بھی بریک ڈانس۔ کل ان کو اپنی مشق کرتا دیکھ کے ہمیں نہ [..]مزید پڑھیں

  • ٹھنڈی عورت اور نس نس میں کھولتا آتش فشاں

    گزشتہ کالم میں ہم بات کر رہے تھے گیس لائٹنگ پہ جو اختیار اور طاقت کے کھیل کا ایک اہم ہتھیار ہے۔ فلم گیس لائٹ میں ہیروئن انگرڈ برگمین اور شوہر کے درمیان ایک اور مکالمہ دیکھیے جس میں ہیروئن پہ اپنا اختیار قائم رکھنے کے لئے بے بنیاد الزامات پہ شرم دلا کے اسے احساس جرم میں مبتلا کیا [..]مزید پڑھیں

  • تپتے توے پہ پھدکتا مینڈک!

    ہماری بیٹی اور بیٹا خلاف معمول باورچی خانے میں تھے۔’ اماں! اماں، کچن میں آئیے، چولہے میں گیس رک رک کے آ رہی ہے اور لائٹر بھی کام نہیں کر رہا‘۔ ’اف، انہیں آج کیا چولہا چوکی کا شوق لاحق ہوا؟‘ ہم زیر لب بڑبڑاتے ہوئے کچن میں پہنچے۔ کچھ جدید زمانے کی غذا تیار کرنے کے اجزا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اردو سماج اور ادب میں عورت کا کردار!

    روز ازل سے انسانی معاشرے کا تانا بانا جن بنیادوں پہ بنا گیا ان میں طبقات، زبانوں اور پیشہ ورانہ شناخت کے علاوہ جسمانی ساخت کی تقسیم بھی شامل تھی جسم کی خصوصیات پر کی گئی تقسیم، انسانی جسمانی ساخت (اناٹومی) کی بنیاد پہ کی گئی تقسیم۔ یہ تقسیم ارتقائے حیات کے اس مرحلے پر ناگزیر تھی [..]مزید پڑھیں

  • اللہ میاں کے نام ایک خط

    یقین جانئے ہم پہ غیب سے مضامین قطعی وارد نہیں ہوتے۔ یہ تو آپ کے رنگا رنگ چٹکلے ہیں جو ہمیں لکھنے پہ اکساتے ہیں۔ علی افتخار جعفری نے کیا خوب کہا تھا: ‎راہ کے پتھر کی جگہ کاسہ سر رکھتا ہوں ‎خلق پر آپ کی ٹھوکر کی حقیقت تو کُھلے کچھ ایسا ہے کہ ہمارے کالمز پڑھنے کے بعد ہمارے بہت [..]مزید پڑھیں

  • کیمیائی طور پہ جنسی نامردمی اور منٹو!

    منٹو، عہد حاضر کا سب سے بڑا نباض! دیکھئے کیا لکھتا ہے: ’خان بہادر کی بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں گئی جو کہ خالی تھا مگر بتی جل رہی تھی۔ بستر پر سے چادر غائب تھی۔ فرش دھلا ہوا تھا، ایک عجیب قسم کی بو کمرے میں بسی ہوئی تھی۔ خان بہادر کی بیوی چکرا گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے، پلنگ کے نی [..]مزید پڑھیں

  • کاظمی اینڈ سنز عرف سترہ برس کا بیٹا

    حمل کے پانچویں مہینے میں ہونے والا الٹرا ساؤنڈ تھا۔ ادھیڑ عمر ریڈیولوجسٹ انہماک سے سکرین پہ نظریں گاڑے، ہاتھ سے مشین پروب کو پکڑے تصویر پہ توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔ یکایک ان کی پیشانی پہ کچھ شکنیں ابھریں اور آنکھیں سکڑ گئیں۔  چہرے پہ لکھی تشویش پڑھی جا سکتی تھی۔ کاؤچ پہ د� [..]مزید پڑھیں

  • پردہ بکارت میں اٹکی عقل اکارت

    خدا غریق رحمت کرے، اکبر اللہ آبادی کی آدھی عمر کلرکوں اور باقی عمر عورتوں پر چاند ماری کرنے میں گزری۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی ہو گا جس نے اکبر کا یہ معروف شعر نہ پڑھ رکھا ہو: پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا اب نہ معلوم اکبر کی مراد کس پرد [..]مزید پڑھیں

  • ویران سڑک پہ سائیکل، تانگہ اور مردانگی

    سائیکل کا ہینڈل ایک ہاتھ سے پکڑے سائیکل لہراتا، بلند آواز میں ماہیا گنگناتا پچیس چھبیس برس کا مرد، گرما کی سہ پہر، سنسان سڑک، تیز رفتاری سے دوڑتا تانگہ اور اس کی پچھلی نشست پہ بیٹھی تین خوفزدہ عورتیں اور ایک پانچ چھ برس کی ناسمجھ بچی! سائیکل والا کبھی تانگے کے بالکل قریب آ جات [..]مزید پڑھیں

  • علیشا مررہی ہے!

    اماں مجھے ڈر لگ رہا ہے، اماں تم کہاں ہو؟ اماں مجھے بھوک لگ رہی ہے، اماں کمرے کا دروازہ کھلتا کیوں نہیں؟ اماں تم مجھے اکیلا چھوڑ کے کہاں چلی گئی ہو؟ اماں تم نے تو کہا تھا ہم بہت اچھی جگہ جا رہے ہیں جہاں کھانا ملے گا تم مجھے آئس کریم کھلاؤ گی۔ اماں…. اماں.. … آ جاؤ نا اماں! دیک [..]مزید پڑھیں