ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • کفن کی بات کرتے ہو۔۔۔

    ’کالج میں پڑھنا چاہتی ہو تو برقعے کے ساتھ کفن بھی لے کر آنا‘۔  یہی لکھا ہے نا تم نے لوئر دیر میں لڑکیوں کے کالج کے باہر چسپاں حکم، دھمکی اور قہر میں بجھے اس کاغذ کے ٹکڑے پر؟ جی چاہتا ہے یہ پوچھنے کو کہ کیا اس ڈھائی گز لٹھے کی سفید دھجی کو تم کفن کہتے ہو جس میں اپنی گونگی بہر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • قاسم علی شاہ کا امتحانی پرچہ آؤٹ

    موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کہتے ہیں ’اچھی بیوی کیسے بننا ہے، یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ آپ کسی سکول میں چلے جائیں، میٹرک کی ڈگری تک، 10 برس میں یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ حالانکہ ایک عورت کی زندگی میں ان دو کرداروں کی بڑی اہمیت ہے، یعنی اچھی بیوی اور اچھی ماں بننا‘۔ ہمیں � [..]مزید پڑھیں

  • سلامت مسیح چوڑھا اور اونچ نیچ کی شطرنج

    نانی کی بڑبڑاہٹ اس وسیع و عریض آنگن میں گونج رہی تھی: ’کم بختی مارا، ابھی تک نہیں آیا۔ ہزار بار کہا کہ جب تک بچے ادھر ہیں، وقت پہ آیا کرو۔ بچے معصوم بھی کیا سوچتے ہوں گے کہ نانی کا گھر ہے یا تعفن کا ڈھیر، ہم ایسے ہی شہر سے چھٹیاں گزارنے گاؤں آئے ‘۔ ’بےبے جی، کون نہیں آیا؟& [..]مزید پڑھیں

  • کافر عشقم، مسلمانی مرا درکار نیست

    گزشتہ اٹھارہ ماہ میں اپنوں اور غیروں سے طعن و دشنام سننے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ لیکن اب کی بار جو پتھر آئے ہیں انہوں نے نہ صرف روح کو تار تار کیا ہے کہ برس ہا برس کے تعلق داروں نے بھرم توڑ دیا ہے۔ پریم رس کا پیالہ پھوڑ دیا، جو مے تھی، بہا دی مٹی میں۔ اور ہمیں سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ [..]مزید پڑھیں

  • آٓرزو راجہ سے آرزو فاطمہ تک کی کہانی

    تیرہ برس کا سن، تبدیلئ مذہب اور عقد۔ گزشتہ کچھ دنوں میں اس پہیلی کو اگر حل کرنے کا سوچا جائے تو ایک ہی نام فٹ بیٹھتا ہے، اور وہ ہے آرزو راجہ۔ خبر ہے، کراچی سے تعلق رکھنے والی تیرہ سالہ مسیحی بچی آرزو راجہ کو تیرہ اکتوبر کو اغوا کے بعد جبراً مسلمان کیا گیا اور چھیالیس برس کے اظہر ع [..]مزید پڑھیں

  • بچے کی پیدائش: طبعی یا سیزیرین؟

    نصف شب کا عالم، گہری نیند اور ہم چونک کے اٹھ بیٹھے۔ کیا کہیں گجر بجا تھا یا دور کسی قافلے کے اونٹوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں نے سر جگایا تھا! افوہ، ہمارے فون کی گھنٹی بج رہی تھی اور ہمیں ہسپتال بلایا گیا تھا۔ لیبر روم میں ایمرجنسی تھی کہ درد زہ میں مبتلا خاتون کی زچگی کے آخری مرح� [..]مزید پڑھیں

  • موت کو الوداعی بوسہ!

    بے جان سرد جسم، بے نور آنکھیں، ساکت چھاتی، دل کی بیرونی عضلاتی دیوار اور ہمارے تیزی سے حرکت کرتے ہاتھ، بے ترتیب سانسیں، سینے سے باہر کو آتا دل۔ ہم بے طرح ہانپ رہے تھے لیکن رک نہیں سکتے تھے۔ اس ٹھٹھرے ہوئے جسم میں بے بس دل کی منجمد حرکت کو واپس لانا تھا ہمیں۔ ایک دو تین چار پانچ & [..]مزید پڑھیں

  • مسقط سے لاس اینجلس تک

    ’مہتمم مطبخ یا دروغه مطبخ‘  ہم خود کلامی کرتے ہوئے مسکرائے، کیا نام دیں اپنے آپ کو؟دیکھیے گردش دوراں نے یہ دن بھی دکھانا تھا کہ ہمارے حصے میں یہ ڈیوٹی آئی تھی۔ وہ جو فرائض سونپنے کا چارٹ بنایاگیا تھا اس میں یہ کہتے ہوئے لکھا گیا: ’قیام میرے ذمے،  طعام آپ کے ذمے‘۔ [..]مزید پڑھیں