ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • کرنال اور ملتان ایک گھر میں رہتے ہیں!

    ’میں لمحہ موجود میں سانس لیتا ہوں لیکن زندہ میں اس لمحے میں ہوں جب میں نے اپنی دھرتی، اپنے شہر کی مٹی کو آخری دفعہ دیکھا۔ میں اس وقت میں جیتا ہوں جب مجھ سے میرا گھر چھوٹا اور میں اپنے محلے، اپنے شہر، اپنی سرزمین سے جدا ہوا۔ مجھے آج بھی وہ گلیاں بلاتی ہیں جہاں میں اپنے دوستوں � [..]مزید پڑھیں

  • مرد کی آنر کلنگ آخر کیوں نہیں؟

    رب کائنات! کیا مجھے دیکھ رہا ہے تو؟ کیا میری اذیت بھری سسکیاں پہنچ رہی ہیں تم تک؟ ماں تو ہے نہیں جسے میں اپنا ریزہ ریزہ جسم دکھاؤں۔ باپ بھی کچھ برس پہلے داغ مفارقت دے چکا کہ جس سے لپٹ کے میں اپنے دل کا حال کہوں۔ تین معصوم بھائی جو زمانے کی کھٹنائیوں سے انجان اپنی آپا کو ہر دکھ کی د� [..]مزید پڑھیں

  • ازدواجی زندگی کی غلام گردشیں

    وہ میرے سامنے بیٹھی رندھی آواز میں بول رہی تھی: ’ڈاکٹر ! میرا دل چاہتا ہے میں خود کشی کر لوں ‘ ’کیوں بھئی، کیا ہوا ‘ ’ شادی کے بعد میری ساس نے ایک دن مجھے سانس نہیں لینے دیا۔ دن رات کام ہے اور طعن و تشنیع۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم لڑکیاں خوشی خوشی سولی کیوں چڑھ جات� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • خانہ بدوشی میں نانی اماں والی عید؟

    ’اماں، عید کے دن میٹھے میں کیا بنائیں گی آپ؟‘ ’ارے بیٹا تم لوگ تو ہو نہیں تو کیا اہتمام کروں، آئس کریم سے کام چل جائے گا‘ صاحب اپنوں سے سات سمندر دور رہنے کا قطعی یہ معنی نہیں کہ دور کی خبر ہی نہ لی جائے۔ سو یہ گفتگو عید سے ایک دن پہلے ماں بیٹی کے درمیان ہو رہی تھی۔ [..]مزید پڑھیں

  • گیتوں میں گندھی اردن کی ایک شام!

    عجیب سا اشتہار تھا! ’آپ کے ووٹ کی ضرورت ہے، دنیا کے نئے سات عجائبات کے چناؤ ميں حصہ لینے کے لئے  اپنا ووٹ ڈالیے‘۔ ساتھ دی گئی فہرست میں ڈھیروں ڈھیر مقامات کے نام شامل تھے۔ ہم نے حیرت سے پڑھا اور سوچا، تو کیا وہ عجائبات قصہ پارینہ ہوئے؟ کوئز ٹیم کے کیپٹن ہونے کے ناطے ب [..]مزید پڑھیں

  • لمس کوئی سا بھی ہو، نہیں چاہیے!

    مسافروں سے بھری ٹرین چھکا چھک دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ زیادہ تر لوگ کھڑے تھے، کچھ سائڈ پہ نصب نشستوں پہ تشریف رکھتے تھے، ہر کوئی اپنے حال میں مست، اپنے آپ میں گم نظر آتا تھا۔ جب بھی کوئی سٹیشن آتا، کچھ لوگ اتر جاتے، کچھ سوار ہو جاتے لیکن کہیں بھی کوئی بدنظمی نظر نہ آتی۔ ہمارے ساتھ [..]مزید پڑھیں

  • زہرا ضمیرِ صدف میں بھی محفوظ نہیں

    زہرا  صدف! تمہاری موت پہ کچھ لکھیں یا چپ رہیں۔ ستم یہ ہے کہ اعصاب شل ہو جانے سے لکھنے کی ہمت نہیں اور چپ رہنے کی صورت ضمیر کچوکے دیتا ہے۔ کیا قسمت پائی ہے ہم نے کہ یہاں نہ زینب محفوظ ہے، نہ صغرا مامون ہے اور نہ زہرا کو امان ملتی ہے۔ کیا لوگ ہیں کہ کہ نام میں علویت کا دعویٰ رکھتے ہ� [..]مزید پڑھیں