ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • شہر بانو اور شہر زاد!

    اماں کا ڈنڈا سر پہ تھا اور بیٹی کی دہائیاں۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان دو محبت کرنے والیوں کو کیسے سمجھائیں کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرمئی شام کا جھٹپٹا رات کی تاریکی میں ضم ہونے کو ہے، تبھی تو کہانیوں کی پٹاری سے کوئی دھیرے دھیرے سر اٹھا رہا ہے۔ وہ سب [..]مزید پڑھیں

  • اکھ وچ باقی نیر نئیں۔۔۔

    ایک باپ کو بیٹی کی قبر پہ پچھاڑیں کھاتے دیکھ کے کچھ زخموں کے منہ کھل گئے اور پھر سے رسنے لگے ۔ ہم گزشتہ واقعات سے لگے زخموں کے تعفن اور سڑاند کو عارضی طور پہ فراموش کرتے ہوئے رہ حیات پر پاؤں گھسیٹنا چاہتے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی منظر دانستہ موندی گئی آنکھ میں اس قدر ارتعاش پیدا کرت� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جانا مے خانے میں ثنا خوان تقدیس مشرق کا

    کلاس ختم ہونے کے بعد اس سے پہلے کہ ہم تتر بتر ہوتے، کینیڈا سے تعلق رکھنے والی کیتھرین اچھل کے اپنی نشست سے کھڑی ہو گئیں: ’ آج میری سالگرہ ہے سو آپ سب شام سات بجے مدعو ہیں ‘۔ سب تھکے ماندوں میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا، کچھ نے اونچا اونچا ہیپی برتھ ڈے گانا شروع کر دیا، کچھ تالیاں � [..]مزید پڑھیں

  • ڈااکٹری سے طالب علمی تک

    امتحان کی دبدھا میں گم ہم شاید اسی طرح بھٹکتے رہتے اگر جان نورسینی سے ملاقات نہ ہو گئی ہوتی۔ انہوں نے ہمارے تمام سوال سنے بلکہ تابڑ توڑ حملے برداشت کیے، مسکرائے اور کہنے لگے:  ’آپ کو ایجوکیشن کی فیلڈ بلا رہی ہے‘ ’ایجوکیشن‘،  ہم نے آنکھیں پٹپٹائیں۔ ’آپ جانتے [..]مزید پڑھیں

  • امتحان ہم نے دیے اور امتحاں ہم نے لئے۔۔۔

    ڈگری اور امتحان کا ذکر نکلا تو بہت سے گزرے زمانوں کی کہانیاں یاد آ گئیں۔ بتائے دیتے ہیں کہ امتحان ہماری کمزوری تب سے رہا ہے، جب سے سوچ کے دروازے وا ہوئے، چاہے وہ زندگی کا امتحان ہی کیوں نہ ہو! بچپن میں جب امتحانی پرچہ سامنے آتا تو دیکھتے ہی ایک خیال سنپولیے کی طرح سر اٹھاتا کہ آ� [..]مزید پڑھیں

  • قصہ ایک پائیلٹ کی ڈگری کا

    ایک تھے نواب اسلم رئیسانی۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے ۔جب فرمایا کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا جعلی۔ جملہ مفید مطلب تھا، خوب اچھالا گیا۔ پھر 2015 میں نیویارک ٹائمز کے صفحات پر شعیب شیخ نمودار ہوئے اور کوئی 140 ملین ڈالر کی جعلی ڈگریوں کا بین الاقوامی سکینڈل۔ شعیب شیخ ایک آز [..]مزید پڑھیں

  • مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے!

    ’مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے‘ ’ایسا کیا کر دیا اس نے؟‘ ’وہ ایک لڑکے کی محبت میں مبتلا ہے، اس سے رہ و رسم رکھے ہوئے ہے، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا‘ ’کیا قتل کے سوا کوئی اور راستہ نہیں؟‘ ’یہ میری عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے، بیٹی نے باپ کی پگ اچھالی ہے&l [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے ابا ڈکٹیٹر نہیں تھے

    اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ اپنے ابا کی شخصیت کی ایک خوبی بتاؤ جو نظر کو خیرہ کرتی ہو، صرف ایک!کیا کہیں گے ہم؟ سوچ کے سمندر میں غوطہ لگا کے کیا چننا چاہیں گے؟ ذہانت؟ آزادی نسواں کی حمایت؟ کتابوں کے رسیا؟ خلق خدا سے محبت؟ مصفح گفتار؟ مروت و انکساری؟ مہمان نواز؟ کشادہ دل؟ شفقت ومحبت؟ ا [..]مزید پڑھیں

  • ویانا کی گلیاں اور باپلو نیرودا کی نظم

    ویانا یاد آ گیا۔ایسا تو ہونا ہی تھا۔ وکٹر فرینکل کا ذکر ہوا تھا، ویانا تو یاد آنا ہی تھا۔ خوابوں کا شہر ویانا۔شام دلفریب تھی، یورپ کے موسم گرما کی شام۔  آسٹریا سنٹر کے وسیع و عریض ہال کے سٹیج پہ کچھ لڑکیاں وائلن اور پیانو بجاتی تھیں گویا دل کے تار چھیڑتی تھیں۔ ہال میں ایسا سنا [..]مزید پڑھیں