ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • میں (بھی) کرنل کی بیوی ہوں

    ’میں کرنل کی بیوی ہوں‘  نامی وائرل ہوتا وڈیو کلپ دیکھ کے دل اندر ہی اندر کلس رہا ہے۔ رہے نا ہم پھسڈی کے پھسڈی! مشہور ہونے کا ایک اور موقع گنوا دیا۔ گھر میں ایک چھوڑ، تین تین کرنل موجود اور ہم اس طنطنے سے بات کرنا سیکھ ہی نہ سکے کہ آج ہماری بھی وڈیو وائرل ہوتی اور ہم لاکھوں � [..]مزید پڑھیں

  • وبا کے دنوں میں عید کی خریداری

    کورونا کی ستم کاریاں اپنی جگہ مگر عید کا تصور دل کو بالکل ویسے ہی گدگداتاہے جیسے ہم بچپن میں بے قراری سے عید کا انتظار کیا کرتے تھے۔ ہفتوں پہلے خریداری شروع ہوتی، رنگ برنگ کپڑے، ہم رنگ جوتے، پرس، کلپ اور جانے کیا کچھ۔ چاند رات گزرنے میں ہی نہ آتی اور اس کی طوالت دل کو بے چینی میں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فحش نگار منٹو کی سالگرہ

    کہتے ہیں وہ فحش نگار تھا۔ بات کچھ سمجھ میں آتی نہیں۔ کیا جو اس نے لکھا وہ ہوا نہیں؟ یا جو کچھ ہوا وہ لکھا نہیں؟ کیوں تھا آخر وہ ایسا؟ ایک معما، اپنے محبت کرنے والوں کے لئے بھی، اور نفرت کرنے والوں کے لئے بھی! کہتے ہیں، کثرت شراب نوشی نے اس کا جگر چھید ڈالا۔ کیا محض شراب وجہ بنی یا [..]مزید پڑھیں

  • میرے ابا جی، حقہ اور عورت کا مرتبہ

    ابا نے اپنا امتحان امتیاز سے پاس کیا، پورے نمبر لے کے، دس میں سے دس۔ آپ نے جدید دنیا کا ایک فیشن ’شیشہ‘ تو دیکھ ہی رکھا ہو گا۔کیا شیشہ پینے کا اتفاق بھی ہوا یا دیکھنے کی حد تک ہی شناسائی ہے؟ ماضی کی گلیوں میں جھانکتے ہوئے اگر کبھی ہم یہ کہہ بیٹھیں کہ ہم نے تو بچپن میں ہی شیش [..]مزید پڑھیں

  • مولانا ضمیر اختر نقوی عرف ’یہ تو ہو گا‘

    رہ رہ کے تاؤ آ رہا ہے اپنے آپ پہ۔تیس برس ہو گئے ڈاکٹر بنے، پچیس برس ہو گئے گائنی میں کام کرتے۔ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں سے سائنس میں ڈگریاں حاصل کر ڈالیں، ہزاروں مریضوں کا علاج کر لیا، لیکن پھر بھی ہم نالائق کے نالائق ہی ٹھہرے۔ موئے انگریزوں کی کتابیں پڑھ پڑھ کے اپنے ہاں کا جو [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر لورنا برین نے خود کشی کر لی

    ہم کہانیاں سنتے ہیں اور دیکھتے بھی ہیں، دن رات، صبح شام۔رنج و الم، مظلومیت، محکومیت، بےبسی، درد، انہونی کا ڈر، بے چینی، مجبوری، آس و نراس، پریشانی، امید و ناامیدی، موت و زندگی، خوف، ڈپریشن، انگزائٹی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم یہ کہانیاں وہیں کے وہیں بھلا دیں؟ ہم وہی رہیں جو داس� [..]مزید پڑھیں

  • بے حیا عورتوں سے ملاقات

    میں عورتوں کے ہجوم میں گھری ہوں۔ مضمحل، تھکی ماندی، مضروب عورتیں …کرب و اذیت چہرے پہ نمایاں! ہر ایک میرا دامن پکڑ کے کچھ کہنے کی کوشش میں ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہے کہ وہ اپنا درد کہہ ڈالے جو اسے مصلوب کیے ہوئے ہے۔ ہر عورت اپنا تعارف کروانا چاہتی ہے! یہ عورتیں نہیں ہیں، زندہ لاش� [..]مزید پڑھیں