افضال ریحان

  • کیا مذہب اور بادشاہت کو تاریخ میں جینا چاہئے ؟

    آئین، جمہوریت اور انسانی عظمت وقار پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص اگر کسی کنگ یا کوئین کی مدح سرائی میں قلم اٹھائے تو بلاشبہ کچھ عجیب ہی نہیں برا سا لگتا ہے۔ لیکن اگر وہی کنگ یا کوئین عوام کو طاقت و اقتدار کا منبع و چشمہ تسلیم کرتے ہوئے ان کی عظمت و خودمختاری کے سامنے سرنگوں ہو جا [..]مزید پڑھیں

  • میں ہوں پچھتر سالہ میاں مٹھو؟

    آج جنوبی ایشیا میں آزادی یا پارٹیشن کی پچھتر سالہ ڈائمنڈ جوبلی منائی جا رہی ہے اور مزید پچیس برس گزرنے کے بعد یہاں صدی کے شادیانے بھی بجائے جائیں گے۔ ہم بائیس یا تیئس کروڑ پاکستانی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں کہ ہم نے پون صدی قبل انگریز اور ہندو کی غلامی سے نجات حاصل کرلی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی

    آج موجودہ اتحادی حکومت کی بڑھائی ہوئی مہنگائی اور روپے کی ناقدری کا رونا ہر کوئی رو رہا ہے۔ عوام سچے ہیں کہ یہ لوگ سابقہ اناڑی حکومت کو جس نوع کے طعنے دیتے نہیں تھکتے تھے، آج وہ سبھی کچھ ان کے کہنہ مشق ہاتھوں سے ہو رہا ہے۔ عوام پونے چار سالوں سے معاشی تباہی کےنتیجے میں غربت و [..]مزید پڑھیں

  • کرم فرماؤں کا زیادہ چاپلوس کون ؟

    ان دنوں ہماری ایک لاڈلی پاپولر ہستی اپنے عوامی جلسوں میں گڈ گورننس کی سابقہ شہرت رکھنے والی شخصیت کا کلپ باقاعدگی سے دکھا رہی ہے جسے وہ اپنا اصل حریف خیال کرتے ہوئے ’چیری بلاسم‘ جیسے القابات سے نوازتی رہتی ہے۔ جس میں بلند پروازی کی شہرت رکھنے والا کہہ رہا ہے کہ میں نے اپ� [..]مزید پڑھیں

  • حضور پہلے تولو پھر بولو

    ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں جو بھی قومی، سیاسی یا مذہبی قیادت پر فائز ہوتا ہے وہ خود کو اچھوتا، انوکھا، ماورائی مخلوق یا نجات دہندہ سمجھنے لگتا ہے۔ خودنمائی و خودستائی کے مرض میں مبتلا ہو کر خود کو ایسی بڑی توپ خیال کرتا ہے جیسے وہ کوئی اوتار یا قابل پرستش ہستی ہے۔ جیسے آقا کے د [..]مزید پڑھیں

  • منہ پھٹ ہے خوار ہوگا

    علامہ اقبال نے کیا خوب فرما رکھا ہے : کیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں تو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہو گا۔ حضرت علامہ متحدہ ہندوستان میں جس آزاد روی کے ساتھ شراب نوشی یا شراب پلانے والے ساقی یا مے خانے کے مالک کو عزت و حرمت کے ساتھ پیر یا ’&rsqu [..]مزید پڑھیں

  • کیا انصاف ہوتا دکھنا بھی چاہیے؟

    سر ونسٹن چرچل کا عالمی جنگ کے دوران بولا گیا فقرہ یا مقولہ زبان زد عام ہے کہ ’’اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو انگلستان کو کوئی خطرہ نہیں‘‘۔ حالانکہ اس وقت ہٹلر کی بے لگام ایئر فورسز لندن تک رسائی کرتے ہوئے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا رہی تھیں۔ جن لوگوں کو اس [..]مزید پڑھیں

  • سیلاب،عالمی برادری اور بھارت سے تجارت

    ہمارے ملک کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کیلئے ان دنوں آئی ایم ایف کے قرضے کا پیکج منظور ہوا ہے تو ساتھ ہی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ کہا جا رہاہے کہ شدید بارشوں نے سابقہ کئی سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے جس کے نقصانات کا تخمینہ اربوں روپے لگایا جا رہا ہے۔  پورے ملک میں بحث ہو رہی ہے ک� [..]مزید پڑھیں

  • سابق کھلاڑی کا ذہنی کنفیوژن؟

    آج جو لوگ اس نوع کی خوش فہمی کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں کہ دیکھو کرکٹر کس جرات کے ساتھ انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر کھڑا ہے اور ہمارے طاقتوروں کی ستر سالہ خود سری کو ننگا کرنے کا جو فریضہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سرانجام نہیں دے سکی، وہ اس اناپرست کی ضد نے تنہا سرانجام دے دیا ہے ۔ [..]مزید پڑھیں