افضال ریحان

  • محترمہ عاصمہ جہانگیر: انسانی حقوق کی چیمپئن

    محترمہ عاصمہ جہانگیر محض ایک قانون دان نہیں، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کی معروف چیمپئن تھیں۔ وہ جب تک زندہ رہیں اپنے ان اعلیٰ انسانی آدرشوں کیلئے برسرپیکار رہیں۔ انڈین ایجنٹ سے لے کر پاکستان اور اسلام دشمن ہونے کا کون سا گھٹیا الزام ہے جو ان پر نہیں لگایا گیا مگر آف� [..]مزید پڑھیں

  • سرسیدؒ: قومیتی اشتراک کا پاسبان

    17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں جنم لینے والے جنوبی ایشیا کے عظیم مذہبی و سماجی اور تہذیبی و تعلیمی مصلح سرسیدؒ درویش کے پیرومرشد ہیں۔ زندگی انہیں پڑھتے اور ان کی حیات و خدمات اور نگارشات و افکار پر تحقیق کرتے گزری ہے۔ مگر ہمارے مطالعہ پاکستان میں ان کا بھی مثلہ بنا دیا گیا ہے ساری تو� [..]مزید پڑھیں

  • ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

    ایران میں حجاب کو ایشو بنا کر جو ظلم وجبر روا رکھا جا رہا ہے اور عوامی احتجاج کو جس سفاکی و بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے، آج ارادہ تھا اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوۓ اصلیت واضح کرنے کا۔ دوسرے 17اکتوبر یونائیٹڈ انڈیا کے عظیم مصلح دانشور اور محسن سرسید ؒکا یوم پیدائش یعنی ’’سرسید ڈے&lsq [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب…..

    اردو محاورہ ہے کہ ہر چمکدار چیز سونا نہیں ہوتی لیکن کسی شے کی حقیقت تک پہنچنے سے عاری ہمارے ظاہر پرست میڈیا اور مفادات کی پجاری مقتدرہ نے بنٹے کو ہیرا اور سرکے کو شہد سمجھ لیا اور پھر اس ہینڈسم کے محض پروپیگنڈے پر اکتفا نہیں کی،ا اسے اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچانے اور وزارت عظمیٰ [..]مزید پڑھیں

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ: مذہبی یا انسانی حقوق کا معاملہ

    ٹرانس جینڈر ( تحفظ حقوق ) ایکٹ مئی 2018 میں سوائے تین افراد کے پوری قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر پاس کیا۔ ہماری قوم میں کم ہی ایسے مواقع آئے ہیں جب اس نوع کا اتفاق رائے ہوا ہو۔ ورنہ بالعموم افتراق و انتشار ہی ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے۔ خوش قسمتی سے اگر پارلیمینٹ کسی ایشو پر یکس [..]مزید پڑھیں

  • یہ کھیل تماشا اور مذاق کب تک ؟

    اگر کوئی انسان مہذب، با ضمیر یا بااصول ہو تو وہ انسانی و اخلاقی معیار سے گری ہوئی کوئی بات کرے گا نہ حرکت، اگر بھولے سے اس نوع کی کوئی لغزش ہو بھی جائے گی تو وہ شرمندگی سے معافی کا طلب گار ہو گا۔ اس کے برعکس بے ضمیر اور بے اصولے لوگ کبھی بھولے سے اچھائی بھی کر رہے ہوں گے تو اس کے ا [..]مزید پڑھیں

  • برطانوی بادشاہت اور جمہوری روایت

    دوسری طرف یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ انگریز جنہیں ٹھہر کر کسی سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی، کوئین الزبتھ دوئم کی بڑھاپے میں یوں طبعی وفطری موت پر ہجوم کی صورت سارا سارا دن کیوں سڑکوں پر کھڑے رہے؟ ان کو تو کوئی سیاسی پارٹی لے کر بھی نہیں آئی تھی۔ آخر یہ لوگ اپنی کوئین یا را� [..]مزید پڑھیں

  • کیا مذہب اور بادشاہت کو تاریخ میں جینا چاہئے ؟

    آئین، جمہوریت اور انسانی عظمت وقار پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص اگر کسی کنگ یا کوئین کی مدح سرائی میں قلم اٹھائے تو بلاشبہ کچھ عجیب ہی نہیں برا سا لگتا ہے۔ لیکن اگر وہی کنگ یا کوئین عوام کو طاقت و اقتدار کا منبع و چشمہ تسلیم کرتے ہوئے ان کی عظمت و خودمختاری کے سامنے سرنگوں ہو جا [..]مزید پڑھیں

  • میں ہوں پچھتر سالہ میاں مٹھو؟

    آج جنوبی ایشیا میں آزادی یا پارٹیشن کی پچھتر سالہ ڈائمنڈ جوبلی منائی جا رہی ہے اور مزید پچیس برس گزرنے کے بعد یہاں صدی کے شادیانے بھی بجائے جائیں گے۔ ہم بائیس یا تیئس کروڑ پاکستانی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں کہ ہم نے پون صدی قبل انگریز اور ہندو کی غلامی سے نجات حاصل کرلی [..]مزید پڑھیں