افضال ریحان

  • سانحہ سیالکوٹ: ہماری بیمار ذہنیت کا غماز

    درویش نے ساری زندگی مولویت و مذہبیت میں گزاری ہے۔ تفاسیر صحاح ستہ پرافت کی لائف کے ہمہ جہتی پہلو یعنی سیرۃ و مغازی، اسلامی فقہ و تاریخ قانون شریعت کو پڑھنے اور سمجھنے میں اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ آج اس کا سینہ جل رہا ہے، کلیجہ پھٹ رہا ہے۔ برسوں [..]مزید پڑھیں

  • لبرل اپروچ اور آزادیٔ اظہار کا تقاضا؟

    کچھ الفاظ یا فقرے لوگ لکھتے پڑھتے ضرور ہیں لیکن ان کی معنویت پر غور کم ہی کرتے ہیں۔ جیسے کہ ’’تاریخ کا پہیہ الٹا نہیں گھمایا جا سکتا‘‘ یا یہ کہ ’’فوت شدگان کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ زندوں پر حکومت کریں‘‘۔ اپنے عقائد و نظریات ہر انسان کو عزیز ہوتے ہیں، تاوقتی� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اتنا اندھیرا کیوں ہے بھائی؟

    جن دنوں ایک جج کی بحالی کیلئے وکلا تحریک چل رہی تھی، سابق وزیرداخلہ کے ساتھ جاتی عمرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ میاں صاحب آنے والے معزز مہمانوں کا اپنی رہائش گاہ کے باہر استقبال کر رہے تھے۔ ہم بھی ان کے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے، مہمانوں کی گاڑیاں تھوڑے وقفے سے آ رہی تھیں۔ ایک بڑی گا [..]مزید پڑھیں

  • عاصمہ جہانگیر، انسانی حقوق اور آمریت؟

    پاکستان کی تاریخ میں اولوالعزم خواتین کے رول پر جب بھی بحث ہو گی تو محترمہ بے نظیر بھٹو کا تذکرہ اس جدوجہد کے حوالے سے نمایاں تر ہو گا کہ انہوں نے بدترین عسکری ڈکٹیٹر شپ کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے صعوبتیں اٹھائیں، اپنی ٹوٹی پھوٹی بدحال پارٹی میں نئی روح پھونکی اور یوں کامیابی کا [..]مزید پڑھیں

  • قومی دانش کی پرکھ؟

    عام انسانوں یا اقوام کی ایک قیادت تو وہ ہوتی ہے جو سیاسی یا انتظامی حوالے سے ان کی رہنمائی کرتی ہے۔ پچھلے زمانوں کا دستور یہ رہا ہے کہ جس کے پاس لاٹھی کی طاقت ہوتی تھی وہ جبری طور پر یا سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے ذریعے قیادت کے منصب پر فائز ہوجاتا تھا۔ آج بھی جن معاشروں میں شعو [..]مزید پڑھیں

  • مظلوم بچوں کے خون کا سودا کیوں؟

    میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ اے پی سی کیس کی گزشتہ روز سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے، تین صفحات پر مشتمل حکمنامہ جناب چیف جسٹس نے قلمبند کیا ہے، جس میں کہا گیاہے کہ سانحہ میں مرنے والے بچوں کے والدین کئی اہم افراد کو اس کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ 20اک� [..]مزید پڑھیں

  • ریاست مدینہ ثانی کی بے بسی کیوں ؟

    تقدیس کے لبادے میں ہمارے یہاں ’’ریاست مدینہ‘‘ کے نام سے اس قدر پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ بھی بالعموم یہی خیال کرتے ہیں کہ گویا اس نام کی کوئی ریاست کبھی قائم ہوئی تھی حالانکہ اس دور کے عربستان میں ریاست کے معیار پر پورا اترنے والا کوئی ایسا تصور، سر� [..]مزید پڑھیں

  • کیا ہم بھیڑوں کا ریوڑ ہیں؟

    ہمارے بائیس کروڑ عوام میں سے چند لاکھ ضرور امیر ہوں گے باقی ہم کروڑوں تو غریب ہیں، جن میں اگر کچھ امیر تھے بھی تو ہماری صادق و امین حکومت نے انہیں کھینچ کر غریبوں میں پھینک دیا ہے۔  کیونکہ ریاست مدینہ ثانی کو غریبوں سے اتنی محبت ہے کہ وہ ان کی میجارٹی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا [..]مزید پڑھیں

  • حکومتی قلابازی یا امن پسندی ؟

    الحمدللہ اب ریاست مدینہ ثانی میں امن ہی امن اور خوشحالی ہی خوشحالی ہو گی کیونکہ کالعدم تحریک لبیک کے مبینہ دھرنوں کی دہشت کے خوف سے ہماری بیچاری کمزور حکومت جس طرح لرزہ براندام تھی یا اس کی نحیف ٹانگیں جس طرح کانپ رہی تھیں ان میں ایک طرح سے ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ خدا بھلا کرے پیچھے [..]مزید پڑھیں