رؤف طاہر

  • کوئٹہ کے جلسے میں یکجہتی کے مظاہرے

    ایک بڑے نصب العین نے قوم کو ایک بار پھر ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ گوجرانوالہ اور کراچی کے بعد اتوار کی سہ پہر کوئٹہ میں بھی اس نعرے کی گونج تھی۔ 15نومبر کو پشاور میں بھی یہی پکار ہوگی۔فیض یاد آئے : ہم نے جو طرزِ فغاں کی تھی قفس میں ایجاد فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے بلوچس [..]مزید پڑھیں

  • عنایت علی خان: ’لوگ ٹھہرے نہیں، حادثہ دیکھ کر‘

    پروفیسر عنایت علی خاں بھی راہی ملکِ عدم ہوئے۔ 85سالہ زندگی میں نصف صدی درس وتدریس میں گزاری۔ ان میں 25سال مسلم کالج حیدر آباد میں تھے جو جئے سندھ والوں کا گڑھ تھا اور خاں صاحب کی  ’جماعتی‘  شناخت بھی ظاہر وباہر تھی، لیکن انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ  اہلیت اور اپنے حسنِ ع [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر مغیث: نصف صدی کا قصہ ہے

    سوشل میڈیا مغفرت کی دعاؤں اور تعزیتی پیغامات سے بھر گیا تھا۔ ان میں آسٹریلیا اور کینیڈا تک سے آنے والے پیغامات بھی تھے۔ علی طاہر نے صحیح لکھا: ہم تو سمجھتے تھے کہ ہم تین ہی ان کے بچے ہیں، ڈاکٹر عائشہ مغیث، اقصیٰ مغیث اور علی طاہر لیکن اب اندازہ ہوا کہ دنیا بھر میں ان کے سینکڑو [..]مزید پڑھیں

loading...