رضی الدین رضی

  • بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کیوں توڑی گئی؟

    چھ اگست 1990 کو صدرغلام اسحاق خان نے محترمہ بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے احکامات تو شام پانچ بجے جاری کئے، لیکن ملتان کے اخبارات کو اسمبلی توڑے جانے اور بے نظیر حکومت کے خاتمے کے بارے میں نوابزادہ نصراللہ خان کا بیان سہ پہر کو ہی موصول ہو گیا تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان � [..]مزید پڑھیں

  • سٹاپ پریس: ہیرالڈ کی یاد میں

    انگریزی جریدے ہیرالڈ نے جولائی کے مہینے میں اپنی بندش کا اعلان کیا تو گویا انگریزی صحافت کے ایک پورے عہد کا اختتام ہوگیا۔ایک ایسا جریدہ جس نے پاکستان میں تحقیقاتی صحافت کو ایک نئی جہت دی۔ جس نے تجزیاتی رپورٹوں میں ایک نیا معیار قائم کیا اور اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر اس شان و ش [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سقراط کا زہر پیالہ اور لیاقت علی عاصم کی شاعری

    ہم اب تک اس شش وپنچ میں ہیں کہ لیاقت علی عاصم کی یاد میں اس کالم کا آغاز کہاں سے کریں؟ ہم ان کے ساتھ پہلی ملاقات کے احوال سے بھی بات شروع کر سکتے ہیں، سقراط کے زہر پیالے اور لیاقت علی عاصم کے وجود کو خاک کردینے والے کینسر کے زہرکو بھی موضوع بنایا جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ادب [..]مزید پڑھیں

  • ’احترام عمران آرڈی ننس‘

    جو کام بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا بہت تاخیر سے ہوا۔ المیہ یہی ہے کہ ہم قومی اہمیت کے فیصلے بھی وقت پر نہیں کرتے لیکن اگر ہم ہرکام وقت پر کرنے لگیں تو پھر ’دیر آید درست آید والا محاورہ کون استعمال کرے گا۔ سو ہم جمہوریت کے ساتھ ساتھ فی زمانہ شاید محاوروں کے بقا کی جنگ بھی لڑ رہے [..]مزید پڑھیں

  • تبدیلی کا آسان نسخہ : ’اس کے پیچھے گرمی ہے‘

    جون کے مہینے میں تپتی دھوپ اور جھلسادینے والی لو کے دوران ہمیں اپنے ایک دوست کی گفتگو بہت یادآتی ہے۔ ہمارے اس دوست کاکہنا ہے کہ یہ گرمیوں کا موسم بھی بہت غلط وقت پرآتا ہے۔ اتنے غلط وقت پر کہ ہم اس سے ٹھیک طرح سے لطف اندوز بھی نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا ہے اگریہ موسم کبھی سردیوں میں [..]مزید پڑھیں

  • خزاں کی رُت کیوں سنہری ہے

    ”خزاں کی رُت سنہری ہے “۔ عظمی جون کی یہ بات گہری ہے۔ انہوں نے  خزاں کی رُت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑکراورخزاں کو سنہرا کہہ کراپنی شاعری کے مجموعی تاثر کابھی پتہ دے دیاہے ۔ عظمی بھی ہماری طرح اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، جس نے آنکھوں میں بہت سے خواب سجائے ، بہاروں کی امیدرکھی ل� [..]مزید پڑھیں

  • سیاست میں جوتے اور کالک کا چلن

    ورکرز کنونشن میں کارکنوں کی موجودگی میں کسی بھی لیڈرپر سیاہی پھینکنا آسان ہوتا ہے خواہ وہ لیڈر وزیرخارجہ ہی کیوں نہ ہو۔ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گڑھ، گڑھی شاہو میں واقع جامعہ نعیمیہ کی ایک تقریب کے دوران ان پر جوتا پھینکنا بھی بہت آسان ہے ۔ اس کے لئے کسی لمبی چوڑی منصوبہ [..]مزید پڑھیں

  • غلاموں کی بغاوت اور سرکس والوں کی سرکشی

    ہمارے ساتھ ہوا تو یہی کہ انتہا پسندوں کو ترقی پسندی کے چولے پہنا کر ہماری صفوں میں بھیج دیا گیا اور ہم اسی کو اپنی کامیابی سمجھتے رہے۔ جماعتِ اسلامی والوں نے جب مشرف کے خلاف نام نہاد عدلیہ تحریک کے دوران فیض صاحب کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ لہک لہک کر کورس کی صورت میں گانا شروع ک� [..]مزید پڑھیں