رضی الدین رضی

  • جب لال کمال میں کمال ہوا

    صحافی کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ جس ماحول میں یا جس ذ ہنی کیفیت میں دفتر جارہا ہے واپسی پربھی کیا وہ اسی ذہنی کیفیت میں ہوگا ۔ بسا اوقات تو دفتر جانے اور گھرواپس آنے کے درمیانی وقفے میں دنیا ہی تبدیل ہوچکی ہوتی ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ وہ بہت اداس تھکا � [..]مزید پڑھیں

  • 70 برس کے جھوٹ اور سچ

    پاکستان کی 70ویں سالگرہ کے موقع پرجی چاہا کہ ایک کالم حکمرانوں کی زبان میں تحریر کیاجائے اوراس میں وہ تمام وعدے اوردعوے یک جا کردیئے جائیں جو قیام پاکستان کے بعد سے تسلسل کے ساتھ کئے جارہے ہیں۔ آج سے 20 برس قبل پاکستان کی گولڈن جوبلی بہت دھوم دھام کے ساتھ منائی گئی تھی۔ اس موقع پر [..]مزید پڑھیں

  • شطرنج کی بساط پر پیادوں کا انجام

    یقین جانئے کہ ہم بہت بے یقینی کی صورت حال سے گزررہے ہیں۔ اگر ہماری اس بات پر یقین نہ آئے تو کسی بھی روز رات کو ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز سنئے۔ بے یقینی کے عالم میں خواب خرگوش یا بے خوابی کے مزے لیجئے اور جب آپ صبح اٹھیں گے تو صورت حال یکسر مختلف پائیں گے۔ یقین اور بے یقینی کا یہ عالم ی� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • زندہ قوم یا شرمندہ قوم؟

    چاہیے تو یہ تھا کہ ہم آج سیاست پر بات کرتے۔ ملک اس وقت جس صورتحال کا شکار ہے۔ نوازشریف کو نااہل قراردیئے جانے کے بعد قائم مقام وزیراعظم کے طور پر شاہد خاقان عباسی حلف اٹھا چکے ہیں اور جب تک یہ کالم آپ کی نظروں سے گزرے گا کابینہ بھی حلف اٹھا چکی ہوگی۔ ایوان صدرمیں کابینہ کی حلف بر� [..]مزید پڑھیں

  • منتخب وزیراعظم کی رخصتی پر ایک تہنیتی کالم

    جب پوری قوم مٹھائیاں تقسیم کررہی ہے، ڈھول بجارہی ہے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہی ہے تو حب الوطنی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بھی اس جشن میں شریک ہوجائیں۔ ظاہرہے اگر پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے منتخب وزیراعظم کو نااہل قراردے کر گھر بھیج دیا ہے تو صالحین کی طرح ہمیں بھی اس فیصلے کو [..]مزید پڑھیں

  • شیر کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا

    کئی روز بعد آج قارئین سے ہم کلام ہوں۔ اس دوران بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے، بہت سے انکشافات ہوئے اور پانامہ کیس اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔ صبح سے شام تک چینلز پر تجزیئے، تبصرے اور پیش گوئیاں جاری رہیں۔ کرپشن کی کہانیاں سنائی دیں۔ اصلی اور جعلی ثبوت پیش کیے � [..]مزید پڑھیں

  • سانپ ۔ می لارڈ ! سانپ

    می لارڈ ! ہمارے ساتھ پہلی مرتبہ تو ایسا نہیں ہوا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ کھیل آخری مرتبہ بھی نہیں دہرایا جا رہا۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہم یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں اور برداشت بھی کر رہے ہیں۔ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل ہے می لارڈ ۔۔۔ اور ہم سب سے پہلے تو یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ [..]مزید پڑھیں

  • 5 جولائی: ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے

    اپریل 1977میں ملک بھر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک جاری تھی ۔ یہ تحریک اسی سال مارچ میں منعقد ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاند لیوں کے نتیجے میں شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ پاکستان قومی اتحاد کے پاس اگرچہ عوامی قوت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ � [..]مزید پڑھیں