رضی الدین رضی

  • ڈاکٹر ڈھکن اور خراٹے لینے والا خرانٹ بکرا

    ڈاکٹر ڈھکن قربانی دینے کا ارادہ تو ہرسال کرتے تھے لیکن پھر خود ہی قربانی نہ دینے کا کوئی معقول جواز بھی تلاش کر لیتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں مالدار ہونے کے باوجود مقروض ہوں۔ ابھی مجھے بہت سے دوستوں کی محبتوں کا قرض چکانا ہے، اس لیے پہلے قرض چکا لوں پھر قربانی دوں گا ۔ وہ ہر سال م [..]مزید پڑھیں

loading...
  • من کا اجلا ناصر کالیا

    ہم سب ویسٹ انڈیز اور پاکستان کا میچ ’’نوائے وقت ‘‘ کے نیوز روم میں دیکھ رہے تھے ۔ فیصلہ کن لمحات تھے ۔ سب سانس روکے ہوئے ایک ایک بال کا لطف لے رہے تھے ۔ اس سناٹے میں ایک جملہ نیوز روم میں گونجا ۔ ’’ شاہ جی (عاشق علی فرخ) کالا تو میں بھی ہوں لیکن یہ ب چ تو بہت ہی کالے ہ [..]مزید پڑھیں

  • سہیل اصغر : جو آدمی تھا ذرا وکھری ٹائپ کا

    یہ کم وبیش چالیس برس پرانی کہانی ہے سال 1985 اور مہینہ جون کا۔ میں ملتان سے شمع ریل کار (جس کا نام بعدازاں موسیٰ پاک ایکسپریس ہوگیا) پر لاہور جارہاتھا۔ ٹرین چونکہ ملتان سے ہی چلتی تھی اس لیے سیٹ بک کروانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ جیسے ہی ٹرین پلیٹ فارم پر آتی ہم اپنے بیگ ا [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر اسلم انصاری : وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے ہونے سے ہم خود کو معتبر سمجھتے ہیں ۔ وہ مسلسل کام کرتے ہیں ، انتھک محنت کرتے ہیں ۔ وہ کوئی شارٹ کٹ اختیار کرنے کی بجائے اپنی محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں ۔ وہ اپنی شہرت کے لیے کسی ادبی مرکز کے محتاج نہیں ہوتے۔ کسی بڑے شہر میں ہجرت کرنے کی بجائے ا [..]مزید پڑھیں