رضی الدین رضی

  • واسطی صاحب کئی واسطوں سے ہمارے تھے!

    فون کی گھنٹی بجتی اور واسطی صاحب کی آواز سنائی دیتی ’’کیاکر رہے ہو؟ بس آ جاؤ ’’۔ اور ہم ان کے دفتر پہنچ جاتے تھے۔ دفتر بھی تو اے پی پی آفس کے اور ہمارے گھر کے قریب ہی تھا۔ وہ اصلی ملتانی تھے۔ خانیوال میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1970 میں لاہور جا ک� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جنگ والو، کالم بھی غیر ضروری ہیں

    گزشتہ ہفتے روزنامہ جنگ نے اداریہ ختم کیا تو ہم نے اُس پر ایک مختصر تحریر فیس بک کی دیوارِ گریہ پر آویزاں کردی۔ اس تحریر میں ہم نے اداریے کی روایت ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ جب اداروں میں مدیر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ اور مدیر کا منصب ایسے لوگوں کو [..]مزید پڑھیں

  • بلاول قتل ہوتا ہے!

      (لورالائی میں قتل ہونے والے گجرات کے بلاول کی نذر ) بلاول سندھ کاچہرہ بلاول اجرکوں والا بلاول سندھ والا خود بلوچسستان بھی تو ہے شہیدوں کا بھی وہ وارث کہ نوڈیرو کے قبرستان میں آباد قبروں کی مہک اس کی وراثت ہے وہاں جو کربلا ہے اس میں بھی ماتم ہے گریہ ہے یہ گریہ ہی عزاد� [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر ڈھکن اور خراٹے لینے والا خرانٹ بکرا

    ڈاکٹر ڈھکن قربانی دینے کا ارادہ تو ہرسال کرتے تھے لیکن پھر خود ہی قربانی نہ دینے کا کوئی معقول جواز بھی تلاش کر لیتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں مالدار ہونے کے باوجود مقروض ہوں۔ ابھی مجھے بہت سے دوستوں کی محبتوں کا قرض چکانا ہے، اس لیے پہلے قرض چکا لوں پھر قربانی دوں گا ۔ وہ ہر سال م [..]مزید پڑھیں