عبدالقیوم کنڈی

  • بلوچوں سے مذاکرات کا ’شوشہ‘

    غیر جمہوری حکمرانوں کی ایک عادت یہ ہے کہ جب انہیں لگتا ہے عوام ان سے اکتا گئے ہیں تو وہ کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں۔ آج کل کا نیا شوشہ بلوچستان کے ناراض لوگوں کے ساتھ مذاکرات ہے۔ یہ کوئی نئی سنجیدہ کوشش  نہیں ہے۔ یہ کام ہر حکمران نے اپنے دور میں کیا ہے اور بظاہر آئندہ بھی ہ� [..]مزید پڑھیں

  • فرضی کہانی: ایک دفعہ کا ذکر ہے

    آپ نے اکثر ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے شروع میں لکھا دیکھا ہوگا کہ اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں اور کسی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ میں بھی آپ کے سامنے ایک فرضی کہانی پیش کر رہا ہوں۔  ویسے بھی ہمارے ملک میں عوام کو فرضی کہانیاں سچ سے زیادہ پسند ہیں۔ پاکستان ا [..]مزید پڑھیں

  • کرپشن کا خاتمہ یا ذاتی انا کی تسکین؟

    وزیراعظم اکثر گھر کی مثال دے کر ملک کے حالات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی گھر پر قرضہ بہت ہو تو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اگر کسی گھر میں بھائیوں میں دشمنی ہو اور وہ غیر کو اپنے مفاد میں استعمال کریں تو بلآخر فائدہ میں کون رہے گا۔ یقیناً غیر فائدہ اٹھائیں گے اور خاندان کا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اپوزیشن کی کبھی ہاں کبھی ناں

    الیکشن 2018 پر جب حزب اختلاف انگلیاں اٹھاتی ہے تو اسے یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہار کی خفت مٹا رہی ہے۔ لیکن پچھلے دنوں پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے اس بات کی تصدیق کی کہ پچھلے الیکشن میں کھل کر انجینرنگ کی گئی۔ پی ایس پی کی شہرت یہ ہے کہ اسے انجینرز نے ایم کیو ایم کا ووٹ ب� [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان کی اداروں کے ساتھ سیاست

    ایسا لگتا ہے فوج کی موجودہ قیادت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ادارے اور عوام کے درمیان خلیج کو بظاہر گہرا کرنا ہے۔ فوج کی قیادت بار بار یہ بھول جاتی ہے کہ ان کے ذمہ ایک اہم ذمہ داری ہے اس کے علاوہ ان کا کوئی اور کام نہیں ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کراچی میں بارش کے بعد فوج شہری انتظام سنبھال� [..]مزید پڑھیں