فیضان عارف

  • عوام خوابِ غفلت سے جاگیں

    یہ لندن کی ایک نجی محفل کا احوال ہے جس میں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی مرد اور خواتین بھی موجود تھے۔ پاکستان سے آئے ہوئے بائیں بازو کے ایک دانشور ان سے مخاطب تھے۔ پاکستان کے حالات کے بارے میں ان کا دلچسپ تجزیہ سننے والوں میں مجھ سمیت اور بہت سے اوورسیز پاکستانی بھی [..]مزید پڑھیں

  • موسم رنگا رنگی اور برطانیہ میں گرمی کی شدت

    موسم اور ان کی تبدیلی قدرت کا ایسا کرشمہ ہے جس پر غور کرنے سے نہ صرف انسان پرخالق کائنات کی مصلحتوں کا بھید کھلتا ہے بلکہ انسان سجدہ شکر ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انہی موسمی تغیرات کی وجہ سے نہ صرف ہمیں رس بھرے خوش ذائقہ پھل اور میوے میسر آتے ہیں بلکہ رنگ برنگے پھولوں کی رع� [..]مزید پڑھیں

  • لندن اعلی تعلیم کے لئے دنیا میں سر فہرست ہے

    برطانیہ میں ایک ادارہ کیو ایس کے نام سے قائم ہے۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ اور ذہین طلبا کی رہنمائی کے لئے 1990 سے سرگرم عمل ہے۔ اس ادارے کے ماہرین تعلیم عالمی سطح پر یونیورسٹیز کے معیار تعلیم کی جانچ پڑتال کر کے ان کی درجہ بندی بھی کرتے اور گاہے بگاہے دنیا کی بہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • گرینڈ اوور سیز کلب

    کہتے ہیں کہ جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئے۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو اقتدار سے باہر ہونے کے بعد خیال آیا کہ انہیں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرانے کے لئے گرینڈ اوورسیز کلب بنانا چاہئے۔ اگر ان کے دل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں ک� [..]مزید پڑھیں

  • جلسے پاکستان کے مسائل کا حل نہیں

    برطانیہ یعنی یونائیٹڈ کنگڈم دنیا بھر کے سیاسی نظام جمہوریت کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہاں لوگ ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے پارلیمنٹ تک پہنچاتے ہیں۔ دوتہائی اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی پارٹی اپنی حکومت بناتی ہے اور عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں اور قوانین کی منظوری [..]مزید پڑھیں

  • کوہ نور: جو مردوں کے لئے بدشگونی سمجھا جاتا ہے

    ٹاورآف لندن برطانیہ کے ایک ہزار آٹھ سو عجائب گھروں  میں سے ایک منفرد عجائب گھر ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں شاہی خاندان کے نوادرات اور جواہرات محفوظ ہیں۔ سنٹرل لندن میں ٹاور برج کے ساتھ اس عجائب گھر کی عمارت میں ملکہ برطانیہ کے قیمتی تاج اور زیوارات کے علاوہ کوہ نو� [..]مزید پڑھیں

  • خاموشی کے فوائد: اگر کوئی جاننا چاہے

    بچے عام طور پر دو سے ڈھائی سال کی عمر میں بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ صرف سنتے اور اپنے ارد گرد کے ماحول کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ویسے بھی خالق کائنات نے انسان کو 2کان اور ایک زبان دی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو بولنا کم اور سننا زیادہ چاہئے۔ جو لوگ کم بولتے ہیں ان کی قوت [..]مزید پڑھیں