خالد محمود رسول

  • نازک دور کے مکینوں کا المیہ

    بہت سال پہلے ہانگ کانگ جانے کا اتفاق ہوا۔ جس ہوٹل میں قیام تھا اس کے نزدیک لیدر ٹریول گڈز کی ایک بڑی دکان تھی۔ دکان پر آویزاں نمایاں بینرز چیخ چیخ کر گاہکوں کو متوجہ کر رہے تھے کہ یہ دنیا چار روزہ ہے لیکن ہماری کلئیرنس سیل کے صرف دو ہی روز باقی ہیں۔ یہ دو روز آپ نے اگر ضائع کر � [..]مزید پڑھیں

  • کوئی تو آئے خزاں میں پتے اگانے والا

    بچہ کیا کرتا ہے؟ پڑھتا ہے، ترکھان نے فرنیچر کی تراش خراش جاری رکھتے ہوئے کہا۔ یہ اگر پڑھ لکھ گیا تو ہمارا فرنیچر کون بنائے گا۔ زمیندار نے بغیر لپٹی لگی رکھے بغیر اپنی ناگواری اور پریشانی کا اظہار کیا۔ ترکھان خاموش رہا۔ زمیندار کے جانے کے بعد باپ نے بیٹے سے کہا، بیٹا! یاد رکھنا [..]مزید پڑھیں

  • خوش قسمت اور ہوشیار حکمران اشرافیہ

    عوام جنہیں مسیحا جان کر پکار رہے ہیں ، ان کی پکار بھی سنیے : نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے گزشتہ روز ارشاد فرمایا کہ بجلی کے بلز کا معاملہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر دیکھ رہے ہیں۔ بل تو دینا ہوگا ، جو معاہدے ہوئے وہ ہر صورت پورے کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف بجلی کے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • 300 کا ڈر تو ختم ہوا

    انٹر بینک میں روپے ڈالر کی شرح مبادلہ نگرانی سے آزاد ہوئی تو چند ہی دنوں میں 300کی حد پھلانگ گئی۔ کرنسی ہو یا اسٹاک ایکسچینج ، جب بھی یہ چھلانگیں مارتے ہوئے نئی بلندی پر جائے یا لڑھکتی ہوئی مندی کی ڈھلوان پر ہو تو ہر اونچائی یا مندی کے نزدیک ترین بڑے نئے عددی لیول کو ماہرین نفسیا [..]مزید پڑھیں

  • نگران اور نگرانی کا مشکل امتحان

    انتظار اور تجسس اپنے انجام کو پہنچا، نگران حکومت کے قیام کا پہلا مرحلہ طے ہو گیا۔ جن ناموں کی مارکیٹ میں دھوم تھی ان کے برعکس ’ڈارک ہارس‘ سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا نام بطور نگران وزیر اعظم سب کو حیران کر گیا۔ اتحادی جماعتوں میں سے کچھ شش و پنج میں تھے کہ لگی بندھی مبارک ب� [..]مزید پڑھیں

  • پیچ و تاب زندگی کے

    زندگی  کی ایک خوبی یہ بھی  ہے کہ اس کے  پیچ و تاب انسان کو یکسانیت کا شکارنہیں ہونے دیتے۔   ان پیچ و تاب کو اگر پلٹ کر  سوچنے کا کبھی  موقع ملے تو  کھٹی میٹھی یادوں کا ذائقہ تا دیر قلب و ذہن کو  تازہ کئے رکھتا ہے۔   اگر  کردار وہ ہوں جن سے ہماری تاریخ  [..]مزید پڑھیں

  • ادھوری بشارتوں اور پوری تشہیر کے سلسلے

    گزشتہ دو تین ہفتے بہت مصروف گزرے، عوام کے بھی اور حکومت کے بھی۔ عوام پٹرول اور آٹے دال کے بھاؤ جاننے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالنے میں مصروف رہے، گاہے تین حرف آئی ایم ایف پر بھیجنے کو، گاہے اپنی قسمت اور گاہے سیاسی رزم آرائی کو۔ حکومت کے یہ دو تین ہفتے عوام سے بھی زیادہ مصروف [..]مزید پڑھیں

  • الیکشن کے بارے میں اتنی بے اعتباری کیوں ہے؟

    ایکسپورٹ وزٹ تو ٹھیک رہا ، آرڈرز میں کچھ کمی ہے لیکن اصل مسئلہ کچھ اور ہے؟ وہ کیا؟ یورپ کے بڑے برانڈز ہمارے ملک کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ ملک میں اگر عدم استحکام بڑھ گیا تو ان کے آرڈرز کیسے فراہم ہو سکیں گے؟ آئی ایم ایف کی ڈیل سے پہلے وہ ڈیفالٹ کے خدشے [..]مزید پڑھیں

  • الیکشن شیڈول: پردہ داری کیوں؟

    الیکشن کب ہوں گے؟ ایک جمہوری ملک میں یہ سوال اس قدر مشکل ہونا نہیں چاہیے۔ لیکن وطنِ عزیز میں یہ سوال جواب کی تلاش میں ابھی تک خوار ہو رہا ہے۔ درویش صفت شاعر احسان دانش یاد آئے: عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھا یوں نہ مل ہم سے خدا ہو جیسے خدا جانے حکومت اور اس کے اتحادیوں کو اپنے آ [..]مزید پڑھیں

  • کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

    موت بر حق ہے اور اس کا ایک وقت معین ہے۔ بزرگوں سے اکثر سنا کہ اللہ تعالی چلتے پھرتے یہ وقت لائے، اپنوں کے درمیان ہوں،   ٌ اس  وقت  ٌ دیارِ غیر   ہونے کے عذاب سے بچائیو۔ گزشتہ چند روز میں چار  واقعات نے ان دعاؤں  کو  پھر سے  تازہ کر دیا۔ پہلا واقعہ:  ٹائٹ� [..]مزید پڑھیں