خالد محمود رسول

  • ادھوری بشارتوں اور پوری تشہیر کے سلسلے

    گزشتہ دو تین ہفتے بہت مصروف گزرے، عوام کے بھی اور حکومت کے بھی۔ عوام پٹرول اور آٹے دال کے بھاؤ جاننے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالنے میں مصروف رہے، گاہے تین حرف آئی ایم ایف پر بھیجنے کو، گاہے اپنی قسمت اور گاہے سیاسی رزم آرائی کو۔ حکومت کے یہ دو تین ہفتے عوام سے بھی زیادہ مصروف [..]مزید پڑھیں

  • الیکشن کے بارے میں اتنی بے اعتباری کیوں ہے؟

    ایکسپورٹ وزٹ تو ٹھیک رہا ، آرڈرز میں کچھ کمی ہے لیکن اصل مسئلہ کچھ اور ہے؟ وہ کیا؟ یورپ کے بڑے برانڈز ہمارے ملک کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ ملک میں اگر عدم استحکام بڑھ گیا تو ان کے آرڈرز کیسے فراہم ہو سکیں گے؟ آئی ایم ایف کی ڈیل سے پہلے وہ ڈیفالٹ کے خدشے [..]مزید پڑھیں

  • الیکشن شیڈول: پردہ داری کیوں؟

    الیکشن کب ہوں گے؟ ایک جمہوری ملک میں یہ سوال اس قدر مشکل ہونا نہیں چاہیے۔ لیکن وطنِ عزیز میں یہ سوال جواب کی تلاش میں ابھی تک خوار ہو رہا ہے۔ درویش صفت شاعر احسان دانش یاد آئے: عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھا یوں نہ مل ہم سے خدا ہو جیسے خدا جانے حکومت اور اس کے اتحادیوں کو اپنے آ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

    موت بر حق ہے اور اس کا ایک وقت معین ہے۔ بزرگوں سے اکثر سنا کہ اللہ تعالی چلتے پھرتے یہ وقت لائے، اپنوں کے درمیان ہوں،   ٌ اس  وقت  ٌ دیارِ غیر   ہونے کے عذاب سے بچائیو۔ گزشتہ چند روز میں چار  واقعات نے ان دعاؤں  کو  پھر سے  تازہ کر دیا۔ پہلا واقعہ:  ٹائٹ� [..]مزید پڑھیں

  • جیو پالٹیکس، آئی ایم ایف اور ہم

    خلیل جبران سے منسوب قول کہیں پڑھا تھا: اس نے کہا اور میں نے مان لیا، اس نے  دوبار ہ کہا تو مجھے شک ہوا، اس نے بار بار اصرار کیا تو مجھے  یقین ہو گیا کہ وہ صحیح نہیں کہہ رہا۔ یہ قول ہمیں آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات پر یاد آیا۔  ہمیں پہلے ہی شک تھا کہ آئی ای [..]مزید پڑھیں

  • آرٹ آف وار: اڑھائی ہزار سال پرانے نسخے

    عجیب اتفاق ہے کہ زمانے  میں ہمیشہ تغیر کو ثبات رہا جب کہ ہمارے  ہاں گزشتہ 75  سال  میں نازک دور کو  ثبات رہا۔  ہر حکمران نے  کرسی اور ملک کو ٹھونک بجا کر پوری ذمہ داری سے یہی بتایا کہ ملک  نازک دور سے گزر رہا ہے۔  ہم ٹھہرے سادہ لوح، ہمیشہ  یقین کر بیٹھے۔ اب& [..]مزید پڑھیں

  • وہی رونا دھونا

    حالات حاضرہ کی تبدیلی  کی کسے خواہش نہیں ہوتی لیکن یہ خواہش  اس وقت سراسر زیاں کاری محسوس ہوتی ہے جب حالات ِ حاضرہ بجائے خود مستقل ہو جائیں۔ اس مضحکہ خیز صورت حال کو مشہور شاعر دلاور فگار نے یوں قلم بند کیا: حالاتِ حاضرہ میں اب اصلاح ہو کوئی اس غم میں لوگ حال سے بے حال ہو � [..]مزید پڑھیں

  • نزدیک کے سہانے ڈھول

    آپ ٹی وی دیکھ رہے ہیں؟ جی نہیں، ہم نے جواب دیا۔ بھائی، یہاں انگلینڈ میں آج نئے بادشاہ چارلس کی تاج پوشی ہے۔ لائیو دکھائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ہمارے دیرینہ دوست سلیم سولنگی فون پر تھے۔ اوہ! مجھے معلوم تو ہے لیکن ٹی وی آن نہیں کیا، ابھی دیکھتا ہوں کہ کیا رونق ہے۔ جواب ملا، رون� [..]مزید پڑھیں

  • عجب گورننس کی غضب کہانی

    آج کل جسے دیکھو چیٹ جی  پی ٹی اور اسی قسم کے دیگر سافٹ وئیرز کا ذکر کرتے نہیں تھکتا۔ کچھ بندگان خدا مہربانی کرتے ہیں کہ اس کا ذکر ایک  سائینسی تخلیق  کے طور پر کرتے ہیں جسے عرفِ عام میں مصنوئی ذہانت کہا جاتا ہے۔  البتہ بہت سے احباب دھمکانے کے انداز میں اس کی شان بیان کر [..]مزید پڑھیں

  • ریزہ ریزہ جو کام تھے مجھے کھا گئے

    زندگی میں معمول بھی عجیب شے ہے، شب و روز جن مشاغل اور اسباب کے ساتھ وقت گزرتا ہے ان کے ہونے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ موجود نہ ہوں۔ ہوا، پانی، سونا، جاگنا، سانس لینا وغیرہ، ان کے ہونے کا احساس تبھی ہوتا ہے جب ان کے نہ ہونے یا ہونے میں خلل واقع ہو جائے۔ ماڈرن زمانے کی دیگر ایس� [..]مزید پڑھیں