خالد محمود رسول

  • ریزہ ریزہ جو کام تھے مجھے کھا گئے

    زندگی میں معمول بھی عجیب شے ہے، شب و روز جن مشاغل اور اسباب کے ساتھ وقت گزرتا ہے ان کے ہونے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ موجود نہ ہوں۔ ہوا، پانی، سونا، جاگنا، سانس لینا وغیرہ، ان کے ہونے کا احساس تبھی ہوتا ہے جب ان کے نہ ہونے یا ہونے میں خلل واقع ہو جائے۔ ماڈرن زمانے کی دیگر ایس� [..]مزید پڑھیں

  • ایک ہی راستہ ہے: نیا جنم

    ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، نئی ایجادات کا لاوا ابل رہا ہے۔ مقابلہ ہر آن مشکل اور سخت تر ہو رہا ہے۔ ان حالات میں جو ادارے خود کو نہیں بدلیں گے، انہیں ان کے مقابل روند کر آگے نکل جائیں گے۔ ہماری کمپنی کی عمر بمشکل بیس سال ہے مگر ہم تین بار اپنا انتظامی ڈھانچہ مکمل تبدیل � [..]مزید پڑھیں

  • چند روز اور میری جان !

    معذرت، آپ کی ورکنگ پر کام نہیں کر سکا، جانے سے پہلے مصروفیات اس قدر ہیں کہ وقت نہیں نکال پاؤں گا۔ ہم نے روٹین میں تسلی دی، کوئی بات نہیں، واپس آ کر دیکھ لیجیے گا، واپسی میں کتنے دن لگیں گے؟ دوسری جانب قدرے توقف کے بعد انجینئر کامران نے جواب دیا، فی الحال واپسی کا سین نہیں ہے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ٹیکس، سادگی اور ابنِ انشا

    وطنِ عزیز  حسب معمول ایک بار پھر نازک موڑ پر ہے۔ حالاتِ حاضرہ ایک بار  پھر وہی ہیں، جانے پہچانے۔ آئی ایم ایف پروگرام  کو ہی لے لیجئے،  آئی ایم  ایف کا نام بجائے خود ہمارے ہاں ایک گھریلو ٹوٹکے کی طرح پاپولر اور ہر دور میں مستعمل ہے۔ ایک حکومت جاتی ہے تو نئی حکومت کو س [..]مزید پڑھیں

  • اشرافیہ: ان پر یہ گھڑی نہیں آئی

    باؤ جی، ایک بات تو بتائیں، یہ جو شور مچا ہوا ہے کہ ملک کے مالی حالات خراب ہیں، کیا واقعی ایسا ہے؟ اس نے فروٹ شاپر بیگ میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔ معاشی حالات واقعی خراب ہیں۔ آپ نے دیکھا نہیں حکومت نے ابھی تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ آئی ایم ایف کا پریشر ہے کہ بجلی گیس کی بھی قیمتیں بڑ [..]مزید پڑھیں

  • واہ کیا ملک ہے!

    واٹ آ کنٹری: انکل سرگم کے نام سے معروف فاروق قیصر کے ایک کیریکٹر کا یہ مشہور تکیہ کلام تھا۔ فاروق قیصر ان معدودے چند لوگوں میں سے تھے جن کے لکھے ہوئے اکثر ڈائیلاگ اور کردار ضرب المثال بنے۔ ان کی شاعری، وائس اوور ، پتلیوں کے کردار اور اسکرپٹ  ہماری عام زندگی کا عکس تھے، یہی وج [..]مزید پڑھیں

  • سارا قصور آئی ایم ایف کا ہے !

    فرض کریں آج ہی کوئی اجنبی پاکستان میں وارد ہوتا ہے تو اسے میڈیا سے پاکستان کے معاشی حالات پتہ چلتا ہے۔ ایک دو دن اخبارات اور ٹی وی دیکھ کر اسے یہ گمان گزرتا ہے کہ اس ملک پر آئی ایم ایف نام کی کسی بلا کا سایہ ہے جس کے سبب ملک میں حرکت تو تیز تر ہے مگر برکت ندارد ہے۔ ملک میں معیشت م� [..]مزید پڑھیں

  • دو سبق ترقی و خوشحالی حاصل کرنے کے

    تاریخ خود کو  دہراتی نہیں نشاندہی کرتی ہے۔ ملک کے اداروں کو ہی لیں، یہ ادارے ہمارے سیاسی  اور سماجی نظم  کو موزوں اور محفوظ بناتے ہیں لیکن  یہ ادارے اپنی بقا  کے لئے  عوامی شعور کی قوت اور سپورٹ کے محتاج  بھی ہوتے ہیں۔  زبانی کلامی  ٌ ہمارے ادارے ٌ کہنے کا [..]مزید پڑھیں