امتیاز گل

  • امریکی انخلا کے بعد نیا جیو پولیٹیکل مقابلہ

    27 اگست کا دن ختم ہوتے ہوتے کچھ ناقابل یقین ہو گیا۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کابل ایئرپورٹ حملوں، جن میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، کے منصوبہ ساز کا پتہ چلا لیا ہے۔ اس دعوے کی سچائی پر سوال اٹھانے والا واحد شخص طویل عرصے سے افغان معاملات پر گہری نظر رکھنے والا تھا� [..]مزید پڑھیں

  • مسئلہ واشنگٹن میں ہے، پاکستان میں نہیں!

    امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے بہت سی جانچ پڑتال جاری ہے اور تنقید بھی سامنے آ رہی ہے لیکن وہ یہ کام پیچھے مڑ کر یہ دیکھے بغیر کر رہے ہیں کہ واشنگٹن میں موجود اعلیٰ حکام خود کتنی خوفناک غلطیاں اور اقدامات کر رہے ہیں اور ان سے کتنی بھول چُوک ہو رہی ہے۔  آئیے ان تمام مسائل کے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • الجھنیں بڑھتی جائیں گی!

    دنیا میں مستقل دوست کوئی نہیں ہوتا، صرف اقتصادی مفادات مستقل ہوتے ہیں اور انہی کے تحت معاملات اور تعلقات کو آگے بڑھایا جاتا ہے یا پاؤں پیچھے کھینچے جاتے ہیں۔  ایک دفعہ ہماری ایک اعلیٰ شخصیت نے ترک وزیر اعظم سے پوچھا کہ آپ تو ہمیشہ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں، کشمیر اور فلسطی� [..]مزید پڑھیں

  • صحافت ارتقائی دور میں

    ذرائع ابلاغ یا میڈیا کسی بھی مہذب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے جس میں معاشرہ اپنی کمیاں کوتاہیاں دیکھتا ہے اور میڈیا کی مدد سے عوام اپنے حکمرانوں پر نظر بھی رکھتے ہیں۔ ’خبر جو بھی ہو اور جیسے بھی ہو‘ کی بنیاد پر قوم کے سامنے حقائق رکھنا صحافتی اداروں کے اولین فرائض میں شامل ہے [..]مزید پڑھیں

  • کشمیریوں کی مدد کیلئے حکمت عملی

    مارچ 2018 اور اپریل 2021کے درمیان تین اعلیٰ سطحی بریفنگز ایک غیر مبہم نتیجے پر منتج ہوئیں کہ پاکستان کی تمام تر توجہ سکیورٹی سے اقتصادیات کی طرف مبذول ہو رہی ہے ۔ اس سوچ کا مرکز چین کے ساتھ مل کر اقتصادی زونز کی مدد سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور دوسری طرف مشرقی اور مغربی راہداری کی ت� [..]مزید پڑھیں

  • جیو سٹریٹجک اہمیت ،قابلیت اور کارکردگی

    کیا پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن اس کی کارکردگی اور قابلیت پر اثرانداز ہوتی ہے ؟ کیا چین کو اعتماد میں لینے اور دیرینہ تعلقات کو خراب کرنے سے بچنے کے لیے اپنی ساری پالیسی سازی کا ازسر نو جائزہ لیا جاتا ہے ؟ یا وہ اثر ورسوخ والے لوگ جو پاکستان کی علاقائی اہمیت کو اپنی جغرافیا [..]مزید پڑھیں

  • ہماری شاہ خرچیاں

    کہتے ہیں کہ مالِ مفت دلِ بے رحم۔ ہر وہ پیسہ جس کے کمانے پر خرچ کرنے والے کا پسینہ نہ بہا ہو ، وہ ان پیسوں کی قدر و قیمت کا اندازہ کبھی بھی نہیں لگا سکتا۔ وطن ِ عزیز کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی حکمران آیا اس نے پاکستان کے عوام پر خرچ ہونے والا پیسہ اپنا سمجھ کر خرچ کیا بلکہ اگر � [..]مزید پڑھیں

  • بے یقینی کے سائے اور امید کی کرنیں

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اس وقت خوف اور بے یقینی کے سائے میں امید کی ایک کرن ہے۔تقریباً چار دہائیوں کے جنگ اور بدامنی سے تنگ افغان عوام صدر اشرف غنی، حامد کرزئی، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور طالبان کے مذاکرات کار ملا عبدالغنی برادر کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ یہ سارے رہنما گفت [..]مزید پڑھیں

  • ایوانِ بالا کا الیکشن اور ایک سینیٹر کی باتیں

    سینیٹ آف پاکستان کو ایوان بالا بھی کہتے ہیں ۔  ایک پارلیمانی نظام میں سینیٹ سے بڑا اور معتبر کوئی ادارہ نہیں ہوتا۔ آزاد دائرہ المعارف کے مطابق اس ایوان کے قیام کی بنیادی وجہ تمام وفاقی اکائیوں اور طاقتوں کو ایک جگہ پر نمائندگی دینا ہے۔  ایوانِ زیریں یا قومی اسمبلی میں م [..]مزید پڑھیں