خالد مسعود خان

  • بے چارہ تلور اکیلا کیا کرتا ؟

    دبئی میں جاننے والے تو درجنوں ہوں گے مگر دوست صرف دو ہیں۔ عامر رزاق اور سہیل خاور۔ ایک دوست تعمیرات کے شعبے سے وابستہ تو دوسرا ریسٹورنٹ کے کاروبار سے منسلک ہے۔ دونوں ایک عرصے سے ادھر دبئی میں ہیں اور اس شہر کی ترقی کے اُن مراحل کے عینی شاہد ہیں جن کا میں نے گزشتہ کالم میں ذکر ک� [..]مزید پڑھیں

  • مذہب کے ٹھیکیداروں کی کسمپرسی

    سفر کیے بغیر چونکہ گزارا نہیں، اس لیے سفر کرنا مجبوری ہے۔ یہ میرا شوق بھی ہے اور مجبوری بھی۔ اس کے بغیر نہ گزارا ہے اور نہ گزران، لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اب ہر سفر کے اختتام پر ایک عجیب سا ملال اور مسلسل کھو دینے کا احساس ہوتا ہے اور ہر نئے سفر میں یہ احساس اور ملال بڑھتا جا رہ [..]مزید پڑھیں

  • موجیں لگی ہوئی ہیں

    بعض لطیفے ایسے ہوتے ہیں کہ خواہ کتنے ہی گھسے پٹے، پرانے بلکہ پھٹے پرانے ہی کیوں نہ ہو جائیں، اپنی نوعیت اور صورتحال کے باعث بالکل نویں نکور لگتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاید آج کی صورت کو مدنظر رکھتے ہوئے گھڑے گئے ہیں۔ اسی قسم کا ایک لطیفہ ہے کہ کسی نے راجہ رنجیت سنگھ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • قرض اتارنے کا آسان طریقہ

    شیرا کوٹ لاہور میں واقع ایک بس سٹینڈ پر اُتر کر ایپ سے ٹیکسی بک کروا کے ٹیکسی ڈرائیور کو فون کیا تو جواباً ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ وہ مجھ سے محض تین سو میٹر کی دوری پر ہے اور دو چار منٹ میں پہنچ جائے گا۔ انتظار دو چار منٹ کے بجائے جب دس منٹ کا ہو گیا تو دوبارہ فون کیا۔ ڈرائیور نے [..]مزید پڑھیں

  • جرم کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی

    اسد نے مجھ سے پوچھا کہ بابا جان! یہ بنانا ریپبلک کیا ہوتی ہے؟ میں نے کہا: بیٹا اس سے مراد ہے کیلے جیسی جمہوریہ۔ اسد زور سے ہنسا اور کہنے لگا: یہ بھلا کیا بات ہوئی؟ بنانا ریپبلک سے مراد آخر کس قسم کی جمہوریت یا ریاست ہے؟ اب یہ کہہ دینا کہ یہ کیلے جیسی جمہوریت ہے تو کوئی بات نہ ہوئی۔ [..]مزید پڑھیں

  • صرف ایک سو سال میں ہونے والا انحطاط

    جڑانوالہ کا واقعہ جہاں اس ملک میں مستقل بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور روز افزوں کم ہوتی ہوئی رواداری، تحمل اور برداشت کی تصویر کشی کرتا ہے وہیں مکمل طور پر ناکام حکومتی اہلیت کو بھی آشکار کرتا ہے۔ اب جڑانوالہ میں حالات کنٹرول میں ہیں اور شہر رینجرز اور پولیس کے مکمل کنٹر [..]مزید پڑھیں

  • ایک غلام کا گورے آقا کو خط اور ہمارے کالے حاکم

    ایک دوست نے پوچھا کہ آپ کالم لکھتے ہیں، کیا اس کا کسی پر اثر بھی ہوتا ہے یا بس یونہی ہوا میں تیر چلانے والا معاملہ ہے؟ میں نے اس دوست کو کہا کہ آپ کے سوال کا ایک سطری جواب تو یہ ہے کہ ہمارا کام بس لکھنا ہی ہے۔ ہمیں اس سے کیا کہ کسی پر اثر ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ دوست کٹھ حجتی پر اُتر � [..]مزید پڑھیں

  • ہوا ساکت نہیں، سہمی ہوئی ہے

    سرداربلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو اپنی بیٹی گُرپریت کو ملنے کیلئے ٹرین پر لدھیانے جا رہا تھا۔ سفر شروع ہونے کے کچھ دیر بعد تک تو بلدیو سنگھ کھڑکی سے باہر ریلوے لائن کے ساتھ سرسبز کھیتوں کو دیکھتا رہا۔ ٹرین کے ساتھ بھاگتے ہوئے درخت بلدیو سنگھ کو بچپن سے ہی بڑے دلچسپ لگتے تھے۔ بل [..]مزید پڑھیں

  • اپنا اپنا فلسفہ

    نام کیا لکھنا۔ ہم دونوں چالیس سال پرانے دوست ہیں۔ یہ زمانہ طالب علمی کی دوستی ہے اور گزشتہ چار عشروں سے کسی قسم کے وقفے یا رابطہ ٹوٹے بغیر بڑے مزے سے چل رہی ہے۔ ہم صرف کلاس فیلو ہی نہیں بلکہ کلاس میں جو پانچ چھ قریبی دوستوں کا گروپ تھا، ہم اس میں تھے۔ میرے برعکس وہ خاصا پڑھاکو ا [..]مزید پڑھیں

  • اندازے، خواہشات اور ٹیوے

    پاکستان کے میڈیا میں‘ خواہ وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک‘ سب سے مقبول موضوع سیاست ہے۔ ہماری، ہمارے اینکرز اور کالم نویسوں کی تحریر اور گفتگو کا پسندیدہ موضوع بھی یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی کالم کے نیچے قارئین کے تبصرے اور پھر ان تبصروں پر مچنے والا غدر، جواب در جواب اور وضا� [..]مزید پڑھیں