خالد مسعود خان

  • ’مجھ کو بھی ڈوبنا ہے،ستارہ تو میں بھی ہوں‘

    لکھنے کیلئے آج کل اتنا زیادہ ہے کہ ہفتے میں تین دن لکھنے کی سہولت جو کبھی کبھی بہت زیادہ لگتی ہے،کم پڑ گئی ہے۔ ماحولیات، درخت، کتابیں،  عدل و انصاف،  عتاب،  مہربانی،  ٹریفک،  موسم،  معاشیات، سیاست اور بہت کچھ۔  اس عاجز کی دلچسپیاں کچھ اور ہیں مگر لکھنے کے تق� [..]مزید پڑھیں

  • موسمِ عتاب میں انصاف کی پھرتیاں

    آپ یقین کریں مجھے جمشید دستی کی شخصیت، سیاست اور ڈرامے بازی کبھی بھی پسند نہیں رہی۔ تاہم اس ناپسندیدگی میں کوئی ذاتی معاملہ شامل حال نہیں ہے۔ میری اس علاقے میں رہتے ہوئے بھی جمشید دستی سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری کوشش رہتی ہے کہ میں اس قسم کے لوگوں سےجو مجھے بوج [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مملکتِ خداداد کا خیال بھی خدا ہی رکھے گا

    گزشتہ کالم میں ذکر تھا ہر معاملے میں ہونے والی بربادی کا۔ ٹریفک، عدل و انصاف، احساسِ تحفظ، جمہوریت، معیشت، تعلیم، صحت اور ماحول۔  ہر چیز گراوٹ کی طرف رواں دواں ہے۔  ماحول اور درختوں کا ذکر کروں تو میں نے اپنی آنکھوں سے دو شہروں کو بتدریج برباد ہوتے دیکھا ہے۔ ایک لاہور ا� [..]مزید پڑھیں

  • بیرونی سرمایہ کاری کا تاریک مستقبل

    جس طرح اس ملک میں اپوزیشن کا کام حکومت کے ہر کام میں صرف کیڑے نکالنا اور خرابیاں دریافت کرنا ہے عین اسی طرح حکمرانوں کا کام اپنے ہر خراب کام میں سے خوبی دریافت کرنا اور ہر غلط حرکت سے بہترین نتیجہ تلاش کرکے عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔  کم از کم اس عاجز نے آج تک کسی حکمران، کسی [..]مزید پڑھیں

  • یہ ڈاکوؤں کا نہیں نظام انصاف کا جنازہ ہے

    دکھائی تو پہلے بھی دے رہا تھا مگر اب تو یہ بات روزِ روشن کی طرح آشکار ہو چکی ہے کہ حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کیلئے مسائل اور مشکلات پیدا کرنے سے غرض ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان میں دو طبقے رہتے ہیں: ایک وہ جن کے پاس ہر قسم کی سہولت از قسم طاقت، دولت اور اقتدار ہے او� [..]مزید پڑھیں

  • ہم کدھر جا رہے ہیں

    دنیا دیکھنے کا مزا اپنی جگہ، تاہم آپ اگر باقی دنیا کا موازنہ پاکستان سے کرنے کی علت میں مبتلا ہیں تو پھر سمجھیں آپ کا سارا مزا کرکرا ہو گیا اور میرا بھی یہی حال ہے۔ جس ملک، جس شہر اور جس قصبے کو دوبارہ، سہ بارہ دیکھنے کا موقع ملا ہے اسے پہلے سے بہتر پایا ہے۔  ٹرانسپورٹ کا نظ [..]مزید پڑھیں

  • ایک سر سبز شہر میں آزادیٔ اظہار کا گوشہ

    آپ یقین کریں جدھر میں ہوں، ادھر چلنا مصیبت نہیں راحت ہے۔ فٹ پاتھ ہیں تو وہ خالی ہیں۔ وہ واقعتاً پیدل یعنی  ’بائی فٹ‘ چلنے والوں کی سہولت کیلئے بنائے گئے ہیں۔ اور وہ یہ سہولت فراہم بھی کرتے ہیں۔ شہر کے مرکز میں ایک عدد ہائی سٹریٹ ہے جو صرف پیدل چلنے والوں کے واسطے ہے۔ ک� [..]مزید پڑھیں

  • ایتھے رکھ

    میرے کالم کے قارئین کو اب تک بخوبی اندازہ ہو چکا ہوگا کہ شاہ جی بنیادی طور پر ایک شر پسند آدمی ہیں اور اپنی دانائی کے پردے میں اپنی شر پسندی یا اپنی شر پسندی کی آڑ میں اپنی دانائی چھپائے پھرتے ہیں۔ ان کو جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ اپنی دونوں خوبیوں کے امتزاج سے کوئی نہ کوئی پھل� [..]مزید پڑھیں

  • میرا دل کرتا ہے

    میرا دل کرتا ہے کہ میں درختوں پر لکھوں اور مسلسل لکھوں۔ تب تک لکھوں جب تک کہ میرے اردگرد کے درخت مجھے اپنی چھاؤں تلے نہ لے لیں یا درختوں کی اپنے سینے پر پرواخت کرنے والی زمین مجھے اپنی آغوش میں نہ لے لے۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں تب تک صرف درختوں پر لکھتا رہوں جب تک کہ مجھے یقین ن [..]مزید پڑھیں