خالد مسعود خان

  • اگلے گند کو صاف کرنے کی فکر کریں

    ہر آنے والی حکومت کے پاس کام نہ کرنے کا سب سے بڑا جواز تو یہ ہوتا ہے کہ گزشتہ حکومت اتنا گند ڈال گئی کہ اسے صاف کرنے کی مصروفیت میں اتنے مصروف ہو گئے کہ ہم سے اور کوئی کام نہیں ہو پایا۔ پیپلز پارٹی اپنے پہلے دور میں ضیا الحق کے بارہ برس کارونا ڈال کر بیٹھی رہی۔ پھر مسلم لیگ (ن) ا� [..]مزید پڑھیں

  • نظام کا پردہ ہی رہنے دیں

    جب ہماری حکومتوں سے کوئی ڈھنگ کا کام نہ ہو رہا ہو جو ان سے کبھی بھی نہیں ہوتا تو وہ بیکار بیٹھنے کے بجائے کسی نہ کسی بہانے اپنی رہی سہی عزت (یہ بھی میرا خیال ہے) کو مزید خوار و خستہ کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیتی ہیں۔ جب بجلی کا مسئلہ ان سے حل نہ ہو رہا ہو، لوڈشیڈنگ قابو میں [..]مزید پڑھیں

  • والد ِمحترم جیل میں اور فرزندِ عزیز سپین میں

    یقین کریں میں ہر چوتھے دن طے کرتا ہوں کہ اب اگلے کئی روز کوئی سیاسی کالم نہیں لکھنا مگر ہماری سیاست ایسی دلچسپ ہے کہ ہر بار میرے خود ساختہ وعدے کا دھڑن تختہ کر دیتی ہے۔ شکار میں بندوق کے ’ٹھاکے‘ سے ڈرے ہوئے پرندے کو یا دامِ ہمرنگ سے بچ کر نکلے ہوئے جانور کو دوبارہ سے گھیرن [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہم اور ہمارے ہمسائے

    اب تو ہمسائے سے تقابل کرتے ہوئے بھی شرم سی آنے لگی ہے، بلکہ ہمسایوں سے بھی کہہ لیں تو بات غلط نہیں ہے۔ ہمارے ہمسائیوں میں بھارت، چین، افغانستان اور ایران ہیں۔ چین کو تو خیر بھول ہی جائیں کہ اس سے کبھی مقابلے یا موازنے کی نوبت آئے کہ معاملہ اب اتنا بے جوڑ ہو چکا ہے کہ یہ سوچ کر ح� [..]مزید پڑھیں

  • پٹواری کامکو ٹھپنے کا طریقہ

    ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان میں کوئی نہ کسی کی سُن رہا ہے اور نہ مان رہا ہے۔ خیر سے ہم کالم نویس تو کسی شمار قطار میں ہی نہیں، یہاں بڑوں بڑوں کی کوئی نہیں سن رہا۔ سپریم کورٹ نے مورخہ چار اپریل 2023 کو فیصلہ دیا تھا کہ پنجاب میں مورخہ 14مئی 2023 کو الیکشن کروائے جائیں۔ خیر سے الیکشن کم [..]مزید پڑھیں

  • بے چارہ تلور اکیلا کیا کرتا ؟

    دبئی میں جاننے والے تو درجنوں ہوں گے مگر دوست صرف دو ہیں۔ عامر رزاق اور سہیل خاور۔ ایک دوست تعمیرات کے شعبے سے وابستہ تو دوسرا ریسٹورنٹ کے کاروبار سے منسلک ہے۔ دونوں ایک عرصے سے ادھر دبئی میں ہیں اور اس شہر کی ترقی کے اُن مراحل کے عینی شاہد ہیں جن کا میں نے گزشتہ کالم میں ذکر ک� [..]مزید پڑھیں

  • مذہب کے ٹھیکیداروں کی کسمپرسی

    سفر کیے بغیر چونکہ گزارا نہیں، اس لیے سفر کرنا مجبوری ہے۔ یہ میرا شوق بھی ہے اور مجبوری بھی۔ اس کے بغیر نہ گزارا ہے اور نہ گزران، لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اب ہر سفر کے اختتام پر ایک عجیب سا ملال اور مسلسل کھو دینے کا احساس ہوتا ہے اور ہر نئے سفر میں یہ احساس اور ملال بڑھتا جا رہ [..]مزید پڑھیں

  • موجیں لگی ہوئی ہیں

    بعض لطیفے ایسے ہوتے ہیں کہ خواہ کتنے ہی گھسے پٹے، پرانے بلکہ پھٹے پرانے ہی کیوں نہ ہو جائیں، اپنی نوعیت اور صورتحال کے باعث بالکل نویں نکور لگتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاید آج کی صورت کو مدنظر رکھتے ہوئے گھڑے گئے ہیں۔ اسی قسم کا ایک لطیفہ ہے کہ کسی نے راجہ رنجیت سنگھ [..]مزید پڑھیں

  • قرض اتارنے کا آسان طریقہ

    شیرا کوٹ لاہور میں واقع ایک بس سٹینڈ پر اُتر کر ایپ سے ٹیکسی بک کروا کے ٹیکسی ڈرائیور کو فون کیا تو جواباً ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ وہ مجھ سے محض تین سو میٹر کی دوری پر ہے اور دو چار منٹ میں پہنچ جائے گا۔ انتظار دو چار منٹ کے بجائے جب دس منٹ کا ہو گیا تو دوبارہ فون کیا۔ ڈرائیور نے [..]مزید پڑھیں

  • جرم کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی

    اسد نے مجھ سے پوچھا کہ بابا جان! یہ بنانا ریپبلک کیا ہوتی ہے؟ میں نے کہا: بیٹا اس سے مراد ہے کیلے جیسی جمہوریہ۔ اسد زور سے ہنسا اور کہنے لگا: یہ بھلا کیا بات ہوئی؟ بنانا ریپبلک سے مراد آخر کس قسم کی جمہوریت یا ریاست ہے؟ اب یہ کہہ دینا کہ یہ کیلے جیسی جمہوریت ہے تو کوئی بات نہ ہوئی۔ [..]مزید پڑھیں