خالد مسعود خان

  • سرکار کے خرچے پر مزے کرنے والی بلبلیں

    پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات سے ہر بندہ ہی پریشان ہے خواہ وہ پاکستان میں ہے یا پاکستان سے باہر۔ پاکستان سے باہر ہونے یا خوشحال ہونے کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ تارکینِ وطن پاکستانیوں کو اپنے آبائی ملک کی سیاسی یا معاشی بدحالی پر فکر نہیں ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے بی� [..]مزید پڑھیں

  • رنگین دنیا کی ان کھلی کھڑکیاں

    ویانا کا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ایسا شاندار ہے کہ بیان سے باہر۔ شہر کی شاید ہی کوئی جگہ ہو جہاں سے آپ کو پبلک ٹرانسپورٹ فوری طور پر میسر نہ ہو۔ انڈر گراونڈ، ٹرام اور بسوں پر مشتمل یہ نظام شہر کے ہر حصے تک رسائی رکھتا ہے۔ ایک دن تو میں نے مبلغ آٹھ یورو میں ”ڈے ٹکٹ‘‘ لے کر [..]مزید پڑھیں

  • پریوں کی داستان جیسا محل

    گزشتہ کالم لکھتے وقت مسئلہ یہ ہوا کہ لکھنے کا ارادہ کچھ اور تھا لیکن خیال کا پنچھی قلم کو گھسیٹ کر کہیں اور لے گیا۔ ارادہ تھا کہ ویانا کے تین عدد محلات کا تذکرہ کروں گا مگر بات کہیں سے کہیں چلی گئی۔ تاہم میں اب بھی اپنے تجزیے پر قائم ہوں کہ ہمارے ہاں کے محلات اور قلعوں کا معیار � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بوڈاپسٹ میں کراچی کی گلیوں کی یاد

    یہ سارے یورپ کا کمال ہے کہ انہوں نے بے تحاشا جنگوں کے باوجود، جس میں پہلی اور دوسری جنگَ عظیم بھی شامل ہے، جن میں ایسی خوفناک بمباری ہوئی کہ پورے خطے میں شاید ہی کوئی عمارت مامون و محفوظ رہی ہو، ہر متاثرہ عمارت کو اس کی اصل شکل میں بحال کر کے دم لیا۔ یہی حال بوڈا کاسل کا ہے۔ یہ ق [..]مزید پڑھیں

  • پریس کانفرنس لانڈری سروس

    اب اس کمبخت دل کا کیا کریں؟ سارے وجود کے ساتھ ادھر بوڈاپسٹ میں موجود ہے مگر اٹکا ہوا اُدھر پاکستان میں ہے۔ دوسری طرف سوچیں ہیں کہ قابو میں نہیں آ رہیں۔ دماغ کا یہ عالم ہے کہ جتنا کسی اور طرف لگانے کی کوشش کرتے ہیں اس کی سوئی وہیں اٹکی رہتی ہے جدھر سے اسے ہٹانے کی کوشش کرتا ہوں۔ [..]مزید پڑھیں

  • جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے

    ملکِ عزیز میں کاروبار، تجارت، صنعت و حرفت اور درآمد و برآمد کے معاملات مسلسل مائل بہ خرابی ہیں اور کہیں سے کوئی اچھی خبر نہیں آ رہی۔ روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی سیکٹر سے، کسی یونٹ، ادارے اور مل کی بندش کی خبریں اب معمول کی بات بن چکی ہیں۔ اب تازہ ترین خبر ایک آئل ریفائنر� [..]مزید پڑھیں

  • آبِ گم سے حرفِ چند

    اب تو اس قسم کے کالم لکھتے ہوئے اور بار بار ایک ہی بات کو دہراتے ہوئے کوفت سی محسوس ہوتی ہے لیکن پھر جی کڑا کرکے لکھنے بیٹھ جاتے ہیں کہ اگر ہم نے لکھنا بھی بند کر دیا تو روزِ قیامت اپنی ذمہ داری کا کیا جواب دیں گے۔ ملکی معیشت کا جہاز ویسے تو ڈوب چکا ہے مگر اس کا پیندا قرضوں کے کسی [..]مزید پڑھیں

  • ایک مزید بے فائدہ کالم

    اگر مجھے اپنے لکھے پر مالک کائنات کی جوابدہی اور روزِ حساب کی پکڑ کا خوف نہ ہوتا تو اس فقیر کو بہت سی آسانیاں، سہولتیں اور مراعات میسر ہوتیں۔ مگر اس کی کرم نوازی ہے کہ اس نے ابھی تک اس عاجز کو کسی حد تک راہ راست پرچلنے کی توفیق عطا کر رکھی ہے۔  وگرنہ ہم کمزور کس قابل تھے کہ فی [..]مزید پڑھیں