خالد مسعود خان

  • ایک غلام کا گورے آقا کو خط اور ہمارے کالے حاکم

    ایک دوست نے پوچھا کہ آپ کالم لکھتے ہیں، کیا اس کا کسی پر اثر بھی ہوتا ہے یا بس یونہی ہوا میں تیر چلانے والا معاملہ ہے؟ میں نے اس دوست کو کہا کہ آپ کے سوال کا ایک سطری جواب تو یہ ہے کہ ہمارا کام بس لکھنا ہی ہے۔ ہمیں اس سے کیا کہ کسی پر اثر ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ دوست کٹھ حجتی پر اُتر � [..]مزید پڑھیں

  • ہوا ساکت نہیں، سہمی ہوئی ہے

    سرداربلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو اپنی بیٹی گُرپریت کو ملنے کیلئے ٹرین پر لدھیانے جا رہا تھا۔ سفر شروع ہونے کے کچھ دیر بعد تک تو بلدیو سنگھ کھڑکی سے باہر ریلوے لائن کے ساتھ سرسبز کھیتوں کو دیکھتا رہا۔ ٹرین کے ساتھ بھاگتے ہوئے درخت بلدیو سنگھ کو بچپن سے ہی بڑے دلچسپ لگتے تھے۔ بل [..]مزید پڑھیں

  • اپنا اپنا فلسفہ

    نام کیا لکھنا۔ ہم دونوں چالیس سال پرانے دوست ہیں۔ یہ زمانہ طالب علمی کی دوستی ہے اور گزشتہ چار عشروں سے کسی قسم کے وقفے یا رابطہ ٹوٹے بغیر بڑے مزے سے چل رہی ہے۔ ہم صرف کلاس فیلو ہی نہیں بلکہ کلاس میں جو پانچ چھ قریبی دوستوں کا گروپ تھا، ہم اس میں تھے۔ میرے برعکس وہ خاصا پڑھاکو ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اندازے، خواہشات اور ٹیوے

    پاکستان کے میڈیا میں‘ خواہ وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک‘ سب سے مقبول موضوع سیاست ہے۔ ہماری، ہمارے اینکرز اور کالم نویسوں کی تحریر اور گفتگو کا پسندیدہ موضوع بھی یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی کالم کے نیچے قارئین کے تبصرے اور پھر ان تبصروں پر مچنے والا غدر، جواب در جواب اور وضا� [..]مزید پڑھیں

  • تحقیق کا بند دروازہ

    جس طرح رکشہ ملتان کی سڑکوں پر بے آبرو ”کھیہ‘‘ کھا رہا ہوتا ہے، سکردو میں عین اسی طرح پراڈو رُل رہی ہوتی ہے۔ پرانے ماڈل سے لے کر نئے ماڈل تک، ہر قسم اور ہر نسل کی پراڈو۔ ٹی زیڈ، جی ایکس، ٹی ایکس اور اللہ جانے کون کون سا ماڈل۔ یہ گاڑی ادھر پنجاب وغیرہ میں دکھائی دے تو بند [..]مزید پڑھیں

  • معاشی میدان میں لگا ہوا بلند جھنڈا

    دس بارہ سفارشیوں اور لاتعداد منتوں ترلوں کے بعد آئی ایم ایف سے مبلغ تین ارب ڈالر کا قرضہ لینے کے بعد ہمارے پیارے وزیراعظم جناب شہبازشریف کا بیان ہے کہ ”ہم ہمسایہ ملک کو معاشی میدان میں شکست دیں گے‘‘۔ جبکہ معاشی حالت کا عالم یہ ہے کہ ہمیں آہستہ آہستہ معلوم ہو رہا ہے [..]مزید پڑھیں

  • ملتان کی پیلی کوٹھی سے زمان پارک تک

    پی ٹی آئی کی موجودہ حالت دیکھتا ہوں تو مجھے ایک عشروں پرانا بھولا بسرا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ ملتان کے ایک بہت بڑے زمیندار نواب مشتاق خان کا انتقال ہو گیا۔ مرحوم کا میلسی، وہاڑی اور شجاع آباد میں بہت زیادہ زرعی رقبہ بھی تھا اور جائیداد بھی بے تحاشا تھی۔ سو کنال کی تو صرف شہر � [..]مزید پڑھیں

  • اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

    عام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں اور ان میں سے ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ میں کافی پینے کا شوقین ہوں۔ میں شوقین ضرور ہوں مگر بہرحال عادی ہرگز نہیں۔ اس کا اندازہ آپ یوں لگا لیں کہ اس کے بغیر کئی دن بڑے مزے سے گزار لیتا ہوں اور کبھی کبھار تو بالکل بلاوجہ دوچار دن کیل� [..]مزید پڑھیں