خالد مسعود خان

  • علی بابا اور چالیس چور کیوں یاد آتے ہیں ؟

    ایک بڑی پرانی کہاوت ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ بعد میں یار لوگوں نے اس میں تھوڑی سی ترمیم کرتے ہوئے اضافہ فرما دیا کہ جنگ، محبت اور سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ اس جملے نے دنیائے سیاست کی ہر کج رخی، جھوٹ، فریب،وعدہ خلافی، اخلاقی دیوالیہ پن، غرض ہر چیز کو جواز فراہم کر دی� [..]مزید پڑھیں

  • پہلے اپنے مسئلے حل کریں

    سندھ کے عوام دو معاملات میں بہت ہی زیادہ حساس ہیں۔ اتنے حساس اور جذباتی کہ وہ ان دو معاملات  پر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں رہنے والوں کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ان میں سے ایک صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کا مسئلہ ہے اور دوسرا معاملہ دریائے سندھ کے پانی کا ہے۔  یہ [..]مزید پڑھیں

  • بہ مرگ بگیر تا بہ تب راضی شود

    میں لاہور میں اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا ہوا تھا، نام لکھنا مناسب نہیں۔ دوستوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے میں بہرحال اب اس بات کا دھیان رکھتا ہوں کہ ایک کالم کی قیمت پر دوستی قربان نہیں ہونی چاہیے۔ میرا یہ دوست سیاستدان ہے اور پاکستان کی موجودہ عام سیاسی لاٹ میں آپ اسے غنیمت کہہ س [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہمیں رونا نہیں آتا

    ہمیں اب ایسی باتوں پر رونا نہیں آتاحالانکہ ہمیں رونا چاہیے۔ مجبورِ محض انسان جب کچھ نہ کر پائے تو ظلم وزیادتی پر، ناانصافی پر، عدم تحفظ پر اور طبقاتی خلیج پر روتا ہے۔ ایسی باتوں پہ ہمیں بھی رونا چاہیے۔ ہنسنا اور رونا جذبات کے اظہار کی دو ایسی نمایاں ترین صلاحیتیں ہیں جو قدرت [..]مزید پڑھیں

  • جہاز کیوں یاد آتا ہے ؟

    قارئین! میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ صوبائی حکومت کے اربوں روپے میں خریدے گئے لگژری جہاز کو بھول جاؤں۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ میں واقعی یہ بھولنے جا رہا ہوں لیکن بدقسمتی دیکھیے کہ عین اسی وقت کوئی نہ کوئی واقعہ رن وے بن جاتا ہے اور یہ جہاز اس پر لینڈ کرتے ہوئے میری یادداشت کے [..]مزید پڑھیں

  • ہم اہلِ ملتان کی استقامتِ جدید

    ویسے تو ملتان پر بیرونی حملہ آوروں کی جارحیت کی تاریخ اس سے کہیں قدیم ہے تاہم مستند تاریخِ ملتان 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے حملے سے شروع ہونے والی بربادی کا سلسلہ 1848-49 میں انگریزوں کی جارحیت اور دیوان مولراج کی شکست پر منتج ہوا تھا۔ اس تباہی اور بربادی کی اس ڈھائی ہزار سال � [..]مزید پڑھیں

  • ہم اہلِ ملتان کی استقامتِ قدیم

    ملتان کی قدامت کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک ملتان گزشتہ سات ہزار سال سے مسلسل آباد شہر ہے۔ تاہم کچھ مورخین اس عرصۂ قدامت سے اختلاف کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ملتان کی سات ہزار سالہ قدامت سے اختلاف کرتے ہیں وہ بھی اس کی کم از کم پانچ ہزار سالہ معلوم تاریخ اور اس ع [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے محفوظ مسکنوں کی تباہی

    قارئین بھی یہ سوچتے ہوں گے کہ یہ کالم گھسیٹ کس قسم کے قصے لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی امریکہ کے میدانوں میں بے دریغ مارے جانے والے اَرنا بھینسوں کے قصے اور کبھی افریقہ میں مرنے والے سپر ٹسکر ہاتھیوں کی کہانی سنانے لگ جاتا ہے۔ ساری مخلوق کو خوش کرنا اور راضی رکھنا انسانی بس سے باہر [..]مزید پڑھیں

  • قبر کھودی گئی میری تو پتھر کی زمیں نکلی

    ہم ملتان والوں کا مقدر ہی خراب ہے۔ یقین کریں میں یہ بات کسی مبالغے کے بغیر کہہ رہا ہوں۔ اگر جنوبی پنجاب پر مشتمل علیحدہ صوبے کی بات ہو تو ہر حکمران جماعت کان لپیٹ لیتی ہے۔ جی ہاں! ہر برسراقتدار پارٹی اپنے کان لپیٹ لیتی ہے جبکہ اس مسئلے پر تب کی ہر اپوزیشن بڑا شور مچاتی ہے کہ ہم اگ� [..]مزید پڑھیں

  • پابندیاں اور مادر پدر آزادی

    میں اپنے کالموں میں پہلے بھی بارہا یہ بات لکھ چکا ہوں کہ مملکتِ خداداد پاکستان ہمہ وقت کسی نہ کسی گمبھیر مسئلے میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسئلہ حقیقی ہے یا پیدا کردہ، اس سے قطع نظر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کیلئے کوئی نہ کوئی موضوع بہرحال میدان میں موجود ہوتا ہے۔  � [..]مزید پڑھیں