خالد مسعود خان

  • احمقانہ تشدد سے لے کر گجھی مارتک

    جب آپ کسی بڑے آدمی کو اپنے پسندیدہ شخص کو یا اپنے آئیڈیل کو پہلی بار ملتے ہیں تو آپ بھلے سے میری طرح سن، مہینہ اور تاریخ بھول جائیں مگر اس پہلی ملاقات کی جزئیات، یادیں اور کیفیت کبھی نہیں بھول پاتے۔ لیکن اس بات کی امید رکھنا کہ اس بڑے آدمی کو بھی وہ پہلی ملاقات یاد ہو گی، س [..]مزید پڑھیں

  • شکر ہے بات تو سمجھ آ گئی ہے

    ان عجب مصیبت میں ہے۔ سچ بولیں تو لوگ اعتبار نہیں کرتے اور جھوٹ بولنے پر دل راضی نہیں ہے۔ اب بتائیں بندہ کیا کرے؟ سچ تو یہی ہے کہ کسی کو نہیں معلوم کہ ملک میں کیا چل رہا ہے اور یہ کب تک چلے گا۔ ہاں! خواہش کو خبر بنا لیں تو اور بات ہے۔ اب بندہ کیا لکھے؟ پاکستان کی تو بات ہی چھوڑیں اد [..]مزید پڑھیں

  • اُمید کی ایک کرن باقی توہے

    ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو کہ بعض اوقات آپ جس سیمپل  پر اپنا تھیسس کھڑا کرتے ہیں وہ سیمپل بدقسمتی سے حقیقی نتائج دینے میں ناکام رہتا ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ سیمپل ہی غلط ہوتا ہے اور وہ رائے عامہ کی حقیقی نمائندگی کرنے کے بجائے یک طرفہ نتائج دیتا یا دوسرے لفظوں میں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یہ مسافر تو مجبور محض ہے

    بارہا ارادہ کیا کہ بلاوجہ تنقید کے تیر چلانے والے قارئین کے الزامات کا جواب نہ دیا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے مگر ہم بے وصف لوگوں کے ارادے بھی ان کی توبہ جیسے ہوتے ہیں جو قائم رہنے کے بجائے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے نوابزادہ نصراللہ خان کو، وہ سیاسی اختلافا [..]مزید پڑھیں

  • سعادت حسن منٹو کے خطوط اور سید رضی احمد کی میل

    سعادت حسن منٹو کی کتاب ’اوپر نیچے درمیان‘ میں چچا سام کے نام نو عدد خطوط ہیں۔ ہلکے پھلکے انداز میں لکھے گئے یہ خطوط خاصے کی چیز اور پڑھنے کے لائق ہیں۔ ایسی ایسی سطریں ہیں کہ پڑھ کر گھنٹوں لطف لیا جا سکتا ہے۔ امریکی ذہنیت کی ایسی عکاسی اور اس پر ایسا طنز کہ طبیعت بشاش ہو جا [..]مزید پڑھیں

  • ملک میں کیا ہو رہا ہے!

    خدائے بزرگ و برتر کی اس وسیع و عریض کائنات میں جو شخص کسی بھی حربے سے، غلط یا درست، اخلاقی یا غیراخلاقی، قانونی یا غیرقانونی، آئینی یا غیرآئینی، غرض کسی بھی طریقے سے اگر عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے سب سے زیادہ بے تاب اوربے چین ہو رہا تھا، وہ مولانا فضل الرحمن صاحب تھے۔ [..]مزید پڑھیں

  • آخر صرف عوام ہی قربانی کیوں دیں؟

    برادرِ بزرگ نے مجھ سے پوچھا کہ آخر یہ نئے والے حکمران کیا کرنے آئے ہیں؟ میں نے کہا: اپنے تئیں تو وہ صرف ایک ہی کام کرنے آئے تھے اور وہ یہ کہ انہوں نے فٹا فٹ‘ لشٹم پشٹم اپنے مقصود چپڑاسی کو ٹی ٹیوں والے کیس سے، فالودے والے غریب آدمی کو اربوں روپے کی منی لانڈرنگ سے اور پاپڑ وا [..]مزید پڑھیں

  • ایک شخص جسے ضائع کر دیا گیا!

    گزشتہ سے پیوستہ روز ہمارے محترم اور بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی کے دل کا آپریشن تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں صحتِ کاملہ عطا کرے۔ ہمارے ہاں کی سیاست کا چلن ہے کہ جسے پارٹی لیڈر کسی بھی وجہ سے مسترد یا نظر انداز کر دے اس کو کارکنان بھی پارٹی پالیسی سمجھتے ہوئے نظرانداز کر � [..]مزید پڑھیں

  • مستقل مزاج حکومت

    قریب دو ماہ بعد واپس ملتان پہنچا ہوں تو دماغ میں پیدائشی خلل کے باعث یہ امید وابستہ کر لی کہ جب واپس پہنچوں گا تو کچھ نہ کچھ بہتری تو آ چکی ہو گی۔ اور کچھ بھی نہیں تو کم از کم وہ قدیم شاہراہ عام اور شہر کی مصروف ترین سڑک جو لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کی مشرقی سمت واقع ہے اور سو سا [..]مزید پڑھیں

  • خیال خام ہی سہی، مگر ہے تو سہی

    میرے چند مستقل پڑھنے والے میرے امریکہ میں بیٹھ کر کالم لکھتے ہوئے مختلف معاملات پر پاکستان اور امریکہ میں تقابل کرنے پر مجھے اس حرکت سے باز رہنے کی نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ان کی محبت ہے کہ وہ مجھے اس کارِ لاحاصل سے اس لیے روکتے ہیں کہ بقول ان کے یہ تقابلی موازنہ کوئی عملی تبد [..]مزید پڑھیں