خالد مسعود خان

  • ادھر دوڑ لگی ہوئی ہے

    کبھی کبھی وہ کالم لکھنا پڑتا ہے جس کو لکھنے پر دل راضی نہیں ہوتا مگر پھر بھی لکھنا پڑتا ہے۔ محض دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے،خود کو تسلی دینے کے لیے اور اپنی بے بسی کو راستہ دینے کے لیے۔ تاہم اس قسم کا کالم لکھتے ہوئے جن پابندیوں اور ضابطوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ان کے باعث دل کی بھڑا� [..]مزید پڑھیں

  • دس ارب روپے اڑتیس ملین ڈالر ہوتے ہیں

    ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لیے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر آنے والے دن میں قرضہ بھی پہلے سے زیادہ ہے اور اس پر سود بھی اسی حساب سے زیادہ ادا کیا جائے گا۔  یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس کا کوئی اختتام دکھائی نہیں دے رہا۔ قر [..]مزید پڑھیں

  • مقامی اور عالمی عقلمندی

    ابھی صدر زرداری کی قید میں بتدریج ہونے والے اضافے پر لکھے گئے کالم کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ اور سات مئی کی درمیانی رات ہونے والی فضائی جھڑپ میں تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے گیار [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہمارے ٹارگٹ، تخمینے اور موسم کا حال

    اللہ جانے کس نے سردیوں کے شروع میں یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ اس سال سردیاں لمبی بھی ہوں گی اور شدید بھی۔ ملتان کی حد تک تو میں کہہ سکتا ہوں کہ نہ شدید پڑیں اور موجودہ حالات دیکھ کر یہ بھی نہیں لگتا کہ سردیاں لمبی ہوں گی۔  فروری کا وسط ہے اور سردی دمِ آخر پر ہے۔ ہر سال ملتان میں [..]مزید پڑھیں

  • زرداری صاحب کی قید اور مانڈو خان صاحب کا بخار

    صدر آصف علی زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مفاہمت کے سیاستدان ہیں۔ نوواردانِ سیاست کا کُل سیاسی اثاثہ تو خاندانی وراثت اور اپنے لیڈر کی مدح سرائی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں لیکن صدر آصف علی زرداری تو ماشا اللہ منجھے ہوئے بلکہ حد درجہ کائیاں سیاستدان ہیں۔ سوائے اینٹ سے این [..]مزید پڑھیں

  • پانی ہمیشہ نشیب کی جانب بہتا ہے

    مختلف ہائیکورٹس کے ججز کے تبادلوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے فرمایا کہ ججز تبادلوں پر صدر، وزیراعظم اورچیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں  ’اچھے ججز‘ ہیں۔ سندھ اور کے پی کا بھی مساوی حق ہے۔ معاملا� [..]مزید پڑھیں

  • تعلیم بغیر تربیت بیکار ہے

    بڑے کام تو ہماری حکومتوں کے بس کی بات نہیں لیکن اب اسے ڈھٹائی کہیں یا اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی سمجھ لیں کہ یہ عاجز کبھی کبھی اپنی اوقات سے بڑی باتوں کے بارے میں سوچتا ہے اور پھر لکھ بھی دیتا ہے۔ حالانکہ عالم یہ ہے کہ بڑی باتیں اور بڑے کام تو رہے ایک طرف ادھر تو چھوٹی چھوٹی باتو� [..]مزید پڑھیں

  • بلی کے گلے میں گھنٹی والا معاملہ

    اس ملک کو بنے آٹھ عشرے اور اس عاجز کو اس ملک کی سیاست کو دیکھتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے پانچ عشرے ہونے والے ہیں۔ ملکی سیاست کو پچاس سال دیکھنے کے بعد یہ دعویٰ تو رہا ایک طرف کہ میں اس ملک کی سیاست کو سمجھتا ہوں، اس بارے میں گمان کرنا بھی خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کیوں کہ � [..]مزید پڑھیں

  • واجب الاحترام ضمیر کا سونا اور جاگنا

    جب پارلیمنٹ میں آئینی ترمیمات اور بل بغیر سوچے‘ بغیر سمجھے‘ بغیر پڑھے اور بغیر بحث کیے حکمرانوں کے وقتی اور ذاتی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پاس کیے جائیں گے تو تھوڑا عرصہ بعد ہی ان کی خرابیاں نکلنا شروع ہو جائیں گی۔  ذاتی مفادات پر مبنی ایسے افراتفری والے کاموں کے نت [..]مزید پڑھیں

  • میرے خیال کا بے قابو گھوڑا

    پی آئی اے کو مزید حکومتِ پاکستان کی ملکیت میں رکھنا ایسا ہی تھا جیسا کسی پھنڈر بھینس کو دروازے پر باندھے رکھنا۔ ایسی بھینس جو نہ صرف دودھ دینے اور بچے پیدا کرنے سے فارغ ہو چکی ہو بلکہ روزانہ دو من چارہ بھی کھاتی ہو۔  آپ نے اس کے چارے کی مد میں مارکیٹ کے ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھی [..]مزید پڑھیں