خالد مسعود خان

  • بیرونی سرمایہ کاری کا تاریک مستقبل

    جس طرح اس ملک میں اپوزیشن کا کام حکومت کے ہر کام میں صرف کیڑے نکالنا اور خرابیاں دریافت کرنا ہے عین اسی طرح حکمرانوں کا کام اپنے ہر خراب کام میں سے خوبی دریافت کرنا اور ہر غلط حرکت سے بہترین نتیجہ تلاش کرکے عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔  کم از کم اس عاجز نے آج تک کسی حکمران، کسی [..]مزید پڑھیں

  • یہ ڈاکوؤں کا نہیں نظام انصاف کا جنازہ ہے

    دکھائی تو پہلے بھی دے رہا تھا مگر اب تو یہ بات روزِ روشن کی طرح آشکار ہو چکی ہے کہ حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کیلئے مسائل اور مشکلات پیدا کرنے سے غرض ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان میں دو طبقے رہتے ہیں: ایک وہ جن کے پاس ہر قسم کی سہولت از قسم طاقت، دولت اور اقتدار ہے او� [..]مزید پڑھیں

  • ہم کدھر جا رہے ہیں

    دنیا دیکھنے کا مزا اپنی جگہ، تاہم آپ اگر باقی دنیا کا موازنہ پاکستان سے کرنے کی علت میں مبتلا ہیں تو پھر سمجھیں آپ کا سارا مزا کرکرا ہو گیا اور میرا بھی یہی حال ہے۔ جس ملک، جس شہر اور جس قصبے کو دوبارہ، سہ بارہ دیکھنے کا موقع ملا ہے اسے پہلے سے بہتر پایا ہے۔  ٹرانسپورٹ کا نظ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک سر سبز شہر میں آزادیٔ اظہار کا گوشہ

    آپ یقین کریں جدھر میں ہوں، ادھر چلنا مصیبت نہیں راحت ہے۔ فٹ پاتھ ہیں تو وہ خالی ہیں۔ وہ واقعتاً پیدل یعنی  ’بائی فٹ‘ چلنے والوں کی سہولت کیلئے بنائے گئے ہیں۔ اور وہ یہ سہولت فراہم بھی کرتے ہیں۔ شہر کے مرکز میں ایک عدد ہائی سٹریٹ ہے جو صرف پیدل چلنے والوں کے واسطے ہے۔ ک� [..]مزید پڑھیں

  • ایتھے رکھ

    میرے کالم کے قارئین کو اب تک بخوبی اندازہ ہو چکا ہوگا کہ شاہ جی بنیادی طور پر ایک شر پسند آدمی ہیں اور اپنی دانائی کے پردے میں اپنی شر پسندی یا اپنی شر پسندی کی آڑ میں اپنی دانائی چھپائے پھرتے ہیں۔ ان کو جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ اپنی دونوں خوبیوں کے امتزاج سے کوئی نہ کوئی پھل� [..]مزید پڑھیں

  • میرا دل کرتا ہے

    میرا دل کرتا ہے کہ میں درختوں پر لکھوں اور مسلسل لکھوں۔ تب تک لکھوں جب تک کہ میرے اردگرد کے درخت مجھے اپنی چھاؤں تلے نہ لے لیں یا درختوں کی اپنے سینے پر پرواخت کرنے والی زمین مجھے اپنی آغوش میں نہ لے لے۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں تب تک صرف درختوں پر لکھتا رہوں جب تک کہ مجھے یقین ن [..]مزید پڑھیں

  • ایک ضروری اطلاع بذریعہ کالم ہٰذا

    گزشتہ چند ماہ سے پھلوں کی ایسی بہار لگی ہوئی ہے کہ دیکھ کر ہی دل شاد ہو رہا ہے۔ میں پہلے بھی پھلوں کا بہت زیادہ شوقین نہیں تھا اور گزشتہ 13برس سے پھلوں کے معاملے میں ہاتھ مزید کھینچ لیا ہے۔ کبھی کسی پھل کو دیکھ کر کھانے کو دل چاہے بھی تو یہ عاجز اس اشتہا پر قابو پانے کی کوشش کرتا م [..]مزید پڑھیں

  • قدرت کے رنگ نرالے ہیں

    ملتان میں موسم بالکل ہی تبدیل ہو چکا ہے۔ دن کو اچھی خاصی گرمی ہو جاتی ہے اور رات اچھی بھلی خنک ہوتی ہے۔ دن کو دھوپ کاٹنے پر آ چکی ہے اور عالم یہ ہے کہ سائے میں بیٹھنا بھی خوشگوار نہیں لگتا۔ یہ دن بہار کے ہوتے تھے مگر اور بہت سی چیزوں کی طرح بہار کا روایتی موسم بھی ہم لوگوں کو دا� [..]مزید پڑھیں

  • میرے پاکستانی امریکی دوستوں کی مایوسی

    معاشروں میں سیاسی تنوع معمول کی بات ہے  بلکہ معمول کی بھی کیا، بڑی مثبت بات ہے کہ یہ تنوع جمہوریت کا حسن ہے۔ تاہم ہمارے ہاں کچھ عرصے سے یہ سیاسی اختلاف باہمی تقسیم کی حد تک پہنچ چکا ہے اور لوگوں کے درمیان سیاسی خلیج اس قدر وسیع ہو گئی ہے کہ برداشت، تحمل، اعتدال وغیرہ جیسے الفا� [..]مزید پڑھیں

  • جب سیاسی مخالفت دشمنی نہیں بنی تھی

    چوہدری سرور سے میرا تعلق تقریباً بیالیس سال پرانا ہے،  تاہم یہ سارا عرصہ دوستی میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کم از کم شروع کے دو سال تو یقینا ً دشمنی کے نہ بھی سہی تو مخاصمت کے ضرور تھے۔ ہم دونوں زکریا یونیورسٹی میں تھے۔ چوہدری سرور فارمیسی میں تھا اور میں ایم بی اے کر رہ [..]مزید پڑھیں