فرنود عالم

  • شاہراہ دستور یا جرنیلی سڑک؟

    اس بات میں کلام کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ ووٹ پی ٹی آئی کو پڑا ہے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ انتخابی مینڈیٹ کا احترام کرے۔ احترام کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مشکل وقت میں اپنی قیادت کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ا� [..]مزید پڑھیں

  • کرناٹک کی مسکان اور ایران کی مہسا میں فرق تلاش کریں

    کرناٹک کی مسکان اور ایران کی مہسا میں بظاہر ایک فرق ہے۔ مسکان کو حجاب پہننے سے اور مہسا کو حجاب اتارنے سے روکا گیا تھا۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ ہم معاملے کو عقیدے کا عدسہ لگا کر پردے اور بے پردگی کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔ اگر انسانیت کے فصیل پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو اندازہ ہو گا ک� [..]مزید پڑھیں

  • ویڈیو آ گئی کیا؟ ان باکس کر دے یار!

    اس کھیل کے نگہبان بھی کسمپرسی میں گزر گئے۔ ہاکی بھی اچھا خاصا ٹائی ٹینک تھا، دھیرے دھیرے ریت میں دھنس گیا۔ سنوکر میں کبھی محمد یوسف تھے، اب آصف ہیں۔ جنگل کے مور ہیں، جنگل میں ناچے جنگل میں سو گئے۔ کبڈی اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہے۔ جتنی رہ گئی ہے، اس میں بھی خاصے کی چیز صرف پنج� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • وفاداری کے تقاضے وہ بھی بلوچستان سے؟

    پاکستان بھر میں ان دنوں آئین کی بالادستی کا خوب شور رہا۔ اس شور میں ایک آواز یہ بھی سنائی دی کہ سردار اختر مینگل پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر دکھائیں۔ یہ فرمائش مینگل صاحب سے نہیں کی گئی، دراصل بلوچستان سے کی گئی۔ یہ پرانی روایت ہے کہ جہاں شہری حق کا سوال نظر آجائے اسے قومی � [..]مزید پڑھیں

  • سیاست کو سامنا ہے ایک غیر سیاسی چیلنج کا

    عمران خان جس تعداد میں لوگوں کو لے کر نکلے ہوئے ہیں اس پر رشک کرنا چاہیے۔ ان کی آواز پر نکلنے والے لوگ تازہ دم ہیں اور ہر حد سے گزرنے کو تیار ہیں۔ اسے بھی خان صاحب کی کامیابی ہی کہیے کہ بری کارکردگی کے باوجود وہ ایک غیر سیاسی بیانیہ بیچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لوگ ان سے مہنگائی� [..]مزید پڑھیں

  • گنتی کے تین جوڑے اور خاموش سا سوئس اکاؤنٹ

    قبلہ ہارون رشید کی آنکھ کو جو شخص بھا جائے، سمجھ جائیں اس کے پاس گنتی کے تین ہی جوڑے ہیں۔ یہ جوڑے جس کے پاس ہوں اُس کے لیے کامیابی اور بخشش کا وعدہ ہے۔ گنتی کے یہ تین جوڑے جنرل ضیا نے سی کر سب سے پہلے اپنے ایک "فاتح” کو پہنائے تھے جو اکثر خاموش رہتے تھے۔ آج ضیا الحق اور ان کے� [..]مزید پڑھیں

  • عین اس وقت کہ جب ہم انڈیا کو پڑھا رہے تھے

    ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم ہندوستان کو انسانی حقوق کے چیپٹر کھول کھول کر پڑھا رہے تھے۔ وہاں کی جمہوریت اور سیکولر ازم کو بھی بھاڑ میں جھونکے ہوئے تھے۔ ہم بتارہے تھے کہ شہری اپنی ذات میں آزاد ہوتا ہے۔ اپنی زندگی اپنے اختیار سے جینے کا اسے حق حاصل ہے۔ حجاب لینا اس کا انسانی حق ہے � [..]مزید پڑھیں

  • سری لنکن شہری کے قتل میں میرا کتنا ہاتھ ہے؟

    عطااللہ شاہ بخاری دیوبند مسلک کا ایک قابلِ فخر کردار ہیں مگر سچ یہ ہے کہ زندگی اشتعال دلاتے ہوئے اور دستار کھینچتے ہوئے گزری۔ مرحوم کی ہی تقریر تھی، جس سے پھوٹنے والی چنگاری نے غازی علم الدین کے خاکستر میں شعلہ بھڑکایا تھا۔ فرمایا، حضرتِ عائشہ سامنے کھڑی ہیں اور مجھ سے پوچھ � [..]مزید پڑھیں