امر جلیل

  • ہمارے اطراف کیا ہورہا ہے

    میں نے سنا ہے کہ ہماری دنیا تین حصہ پانی اور ایک حصہ زمین پر مشتمل ہے۔ یہ بات میں نے ایک بار نہیں، بلکہ بار بار سنی ہے۔ یہ بات میں نے پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں سنی تھی۔ یہ بات میں نے کالج میں سنی تھی۔ یہ بات میں نے یونیورسٹی میں سنی تھی، چونکہ میں سائنسدان وغیرہ نہیں ہوں، اس [..]مزید پڑھیں

  • سوچا مت کریں

    آپ بھی بجاطور پر سمجھ گئے ہوں گے کہ کس بڈھے کھوسٹ سے آپ کا پالا پڑا ہے کہ جب بھی اس سے آپ کی دانستہ یا نادانستہ ملاقات ہوتی ہے، آپ کو لامحالہ بڑھاپے کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ وہ بوڑھا اپنے بچپن، لڑکپن، نوجوانی، جوانی کی باتیں بتانے اور سنانے سے گریز کرتا ہے۔ کسی حد تک یہ بات � [..]مزید پڑھیں

  • اب میں اچانک گر پڑتا ہوں

    اللّٰہ کے فضل وکرم سے میرا چال چلن ٹھیک ہے۔ اڑوس پڑوس کے لوگوں کو کوئی شکایت نہیں ہے۔ وہ اپنی بہو بیٹیوں کو مجھ سے پردہ نہیں کرواتے۔ سب مجھے بابا کہتے ہیں۔ میں بھی خوش ہوں کہ بہو بیٹیاں مجھے بابا کہتی ہیں۔ مگر میرا ایک پرابلم ہے، جس نے دوسرے پرابلم سے جنم لیا ہے۔ اور ان چھوٹے م� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ببر شیر کی باتیں

    خود میری اپنی سمجھ میں نہیں آتا کہ میں لگا تار دوڑتا کیوں رہتا ہوں؟ میں کس سے دور بھاگتا رہتا ہوں؟ کون میرے پیچھے پڑا ہوا ہے؟ میں کچھ نہیں جانتا۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میں بھاگتا رہتا ہوں، دوڑتا رہتا ہوں۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہم ڈاکٹروں کی تمام ہدایتوں پر پابندی سے عمل کریں۔ [..]مزید پڑھیں

  • بھلکڑ شوہر

    بھلکڑ ہونے کے باعث میں ذہنی طور پر اپنے آپ سے خوش نہیں ہوں، نہ جانے کتنی دہائیاں گزر چکی ہیں جب میں یونیورسٹی سے ریٹائر ہوا تھا۔ یاد رکھنے کے لیے میرے پاس کچھ خاص نہیں ہے۔ جس دور میں، میں یونیورسٹی میں دوستوں کو سنی سنائی باتیں سناکر ششدر کردیا کرتا تھا، اس دور میں موبائل فون [..]مزید پڑھیں

  • آج کل ٹارزن کالم نہیں لکھتا

    اب بھی کئی ایک میری طرح کے بڈھے کھوسٹ اس دلفریب دنیا میں موجود ہیں جو اس بات پر مجھ سے ناراض رہتے ہیں کہ میں کچھ وقفے بعد بڑھاپے کی باتیں کیوں کرنے لگتا ہوں؟ لکھنے کیلئے دنیا بھر میں بکھرے ہوئے موضوع ختم ہوچکے ہیں ؟ کیا تم دیور اور دیورانیوں کے موضوع پرقصے کہانیاں نہیں& [..]مزید پڑھیں

  • سرعبدالکریم عاجز کے ساتھ کیا ہوگا؟

    آج کل سر عبدالکریم عاجز کی گت بنی ہوئی ہے۔ چھوٹے موٹے اچھے کام کرنا اس کی عادت ہے۔ مثلاً کبوتروں کو دانا ڈالنا، یعنی کبوتروں کو دانا کھلانا۔ سندھ ہائی کورٹ اور سندھ سیکرٹری کے درمیان بٹوارے سے پہلے ایک چوک ہوا کرتا تھا۔ چوک کا نام تھا گاندھی چوک، بیچوں بیچ چوک کے ایک چبوترے � [..]مزید پڑھیں

  • ماں کہتی تھیں

    تب کی باتیں مجھے قطعی یاد نہیں۔ تب میں نیا، نیا دلفریب دنیا میں آیا تھا، بہت چھوٹا تھا، تفصیلاً اس دور کی باتیں میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ میرا انحصار سنی سنائی باتوں پر ہے۔ جو باتیں میں نے سنی ہیں، وہی باتیں میں آپ کو سنا رہا ہوں۔ میری ماں لیکچرر تھیں، نہ پروفیسر تھیں، مگر ل� [..]مزید پڑھیں

  • سوالوں کی گونج

    اچانک یہ کایا کیسے پلٹ گئی؟ کل تک تو ہم مکمل طور پر مقروض ہوتے تھے۔ سنانے والے سناتے تھے کہ ہمارے ہاں نوزائیدہ مقروض پیدا ہوتے تھے۔ ان کا بال بال مقروض ہوتا تھا۔ پیدا ہونے کے بعد نوزائیدہ اپنی مرضی سے کروٹ بدل نہیں سکتے تھے۔ وہ اپنی مرضی سے سانس تک لے نہیں سکتے تھے۔ سانس لینے ک [..]مزید پڑھیں

  • بھٹو کی پھانسی اور جج

    مستحکم اور معتبر معاشرے میں رچنے بسنے والے لوگ آلتو فالتو سوالوں سے آپ کی آؤ بھگت نہیں  کرتے… وہ زیادہ تر مطلب کا سوال پوچھتے ہیں اور مطلب کے جواب کی آپ سے امید رکھتے ہیں۔ مستحکم معاشرے کے لوگ زیادہ تر ایک ہی نوعیت کے سوال پوچھتے ہیں۔ مثلاً وہ پوچھتے ہیں کہ اگ� [..]مزید پڑھیں