امر جلیل

  • ایک اور پرانی کہانی

    آج آپ ایک اور پرانی کہانی گوش گزار کیجئے۔ کہانی سننےکے بعد، کہانی کے مفہوم پرغور کیجیے گا۔ آپ کہانی سنئے۔ ایک نیکو کار پروفیسر35 برس درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ کالج انتظامیہ اور کولیگ اساتذہ نے فیئر ویل یعنی الوداعی دعوتیں دیں۔ دعوتوں کے دوران دوست احب [..]مزید پڑھیں

  • نئی پرانی کہانی

    آج ایک روز کیلئے سیاست کو جانے دیجئے۔ آج ایک پرانی کہانی سنئےاور پھر اس کہانی پر غور کیجئے۔ اس نوعیت کی کہانیاں ہر دور میں، ہر معاشرے میں، ہر ملک میں، ہرزبان میں لکھی گئی ہیں۔ آپ نے کئی مرتبہ یہ کہانی پڑھی ہوگی یا اس کہانی کے بارے میں سنا ہوگا۔ کوئی حرج نہیں ہے اگر اس کہانی [..]مزید پڑھیں

  • میں کا مرض

    جب بھی آپ چھوٹے منہ سے بڑے بڑے دعوے سنیں تب سمجھ جائیے گا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ بلکہ دال میں کچھ ضرورت سے زیادہ کالا ہے۔ دال کم، سب کچھ کالا دکھائی دیتا ہے۔ اس نوعیت کی کارستانی اگر چھوٹے موٹے عرصہ تک محیط ہوتی تو پھر شاید قابل فراموش ہوتی… مگر اس نوعیت کی کارستانی ہم تقر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • چند کیر زماتی سیاستدان…

    آل انڈیا مسلم لیگ کی بیالیس سالہ تاریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی جس میں قائد اعظم نے جلسے کی قیادت کی ہو۔ لوگوں کا لہو گرم رکھنے کے لیے دھواںدھار تقرر کی ہو، سڑکوں اور روڈ راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کیا ہو اور تصادم میں آئے ہوں۔ فقیر کی بات آپ تحمل سے سن [..]مزید پڑھیں

  • کمزور بنیاد پر بنی ہوئی عمارت

    کیرزما کا طلسم صرف کھیل اور کھلاڑیوں اور فن اور فنکاروں تک محدود نہیں ہوتا۔ امریکی ادب کے بے مثال افسانہ نگار اور ناولسٹ ارنیسٹ ہیمنگوے کو انتظامیہ کی طرف سے ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اپنے سفری پروگرام کو حتی الامکان مخفی رکھیں۔ ہیمنگوے جب بھی سفرکرتے تھے لوگ دیوانہ وار ان کو [..]مزید پڑھیں

  • شخصیت کا طلسم

    اگر آپ میرے فاسٹ بالر کے سخت مخالف ہیں اور اس کا نام سن کر غصہ سے بے قابو ہوجاتے ہیں، پھر بھی آپ بے خوف میرا آج کا قصہ پڑھ سکتے ہیں۔ گھبرا کر آپ اپنا یا کسی اور کا سر نہیں پھوڑیں گے۔ اگر آپ عمران خان کے کٹر حامی ہیں، اس کو دل وجان سے پسند کرتے ہیں، اس پر مرمٹنے کوتیار رہتے ہی [..]مزید پڑھیں

  • قدیم دور کے وکٹ کیپر کے مشورے

    جب ایک مرتبہ یقین اٹھ جاتا ہے، تب یقین کا دوبارہ بحال ہونا مشکل لگتا ہے۔ اگر ایک سے زیادہ مرتبہ یقین ڈانواں ڈول ہوجائے پھر یقین کا دوبارہ مستحکم ہونا امکان سے باہر لگتا ہے۔ انیس سوسینتالیس سے آج تک اظہار کی آزادی کے دعوے سے میرا یقین متزلزل ہوتا رہا ہے۔ پچھلے 75 برس کے دوران [..]مزید پڑھیں

  • پوچھ گچھ کی ممنوعہ سرحدیں

    دہشت گردوں کے بارے میں آپ سے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ بلکہ میں کچھ جاننا چاہتا ہوں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ دہشت گردوں کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا۔ دہشت گردوں کے بارے میں اچھی خاصی معلومات ہیں مجھے۔ میں کورا کاغذ نہیں ہوں۔ دہشت گردوں کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئ [..]مزید پڑھیں

  • اظہار کی آزادی کی سرحدیں

    آپ کیا سمجھتے ہیں، پچھلے دنوں اسلام آباد میں جو کچھ ہوا تھا، وہ سب اچھا تھا؟ یا کہ وہ سب کچھ برا تھا؟ اسلام آبا د میں ویسے بھی بہت کچھ ہوتارہتا ہے۔ اسلام آباد معمولی شہر نہیں ہے۔ پاکستان کا کیپٹل ہے، یعنی دارالحکومت ہے۔ لہٰذا اسلام آباد ایمبیسیز اور ہائی کمیشنز کا شہر ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • پروفیسر دیدار دکھی نے سب کچھ بھلا دیا

    پروفیسر دیدار دکھی کے دکھوں کی فہرست اس قدر لمبی تھی کہ وہ پروفیسر دیدار حسین کی بجائے پروفیسر دیدار دکھی کہلوانے میں آیا۔ عام طور پر لوگ سمجھتے تھے کہ پروفیسر دیدار حسین شاعر تھا۔ اور دکھی اسکا تخلص تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ وہ کیمسٹری پڑھاتا تھا۔ اسے شعرو شاعری سے کوئی دلچسپ [..]مزید پڑھیں