امر جلیل

  • ایک غلطی کا خمیازہ

    آپ چاہے کتنے ہی اچھے بیٹس مین کیوں نہ ہوں، آپ چاہے کتنے ہی اچھے بالر کیوں نہ ہوں، آپ چاہے کتنے ہی اچھے آل راؤنڈر کیوں نہ ہوں اور آپ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے آپ کو ٹیم کا کپتان بنا دیا جائے، یقین رکھیں آپ تن تنہا کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ تن تنہا میچ نہیں جیت سکتے۔ میچ جیتن� [..]مزید پڑھیں

  • ہم سوچتے نہیں

    کئی بار فقیر نے ہاتھ جوڑ کر ادب سے گزارش کی ہے کہ آپ سوچا کریں۔ خدا کے فضل وکرم سے، ہمارے ملک میں سوچنے پر کسی قسم کی کوئی پابندی لگی ہوئی نہیں ہے۔ آپ جو چاہیں، سوچ سکتے ہیں۔ پابندی صرف سوچ پر عمل درآمد کرنے کی ہے۔ آپ اگر اپنی سوچ پر عمل درآ مد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کی ممنوعہ تاریخ

    جس ملک اور معاشرے میں سوال پوچھنے پر بندش نہ ہو، سوال پوچھتے ہوئے کسی قسم کا ڈر محسوس نہ ہوتا ہو، ایسا ملک ذہین لوگوں کا ملک ہوتا ہے۔ ایسے ملک میں لوگ بہت کچھ جانتے ہیں اور بہت کچھ جاننے کے لئے ان پر کسی قسم کی بندش نہیں ہوتی۔ ایسے ملک میں رہنا، جینا اور مرنا اچھا لگتا ہے۔ کچھ پ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آزادیٔ اظہار کی بھول بھلیاں

    میرے وجود میں بیٹھا ہوا بچہ بضد ہے کہ میں ڈروں مت۔ جو کچھ میں سوچ رہا ہوں، لکھ ڈالوں۔ مگر یہ ہو نہیں سکتا۔ انیس سو سینتالیس سے آج تک ہر حکومت ہمیں یقین دلاتی رہی ہے کہ ملک میں اظہار کی مکمل آزادی ہے۔ آپ جو سوچتے ہیں، اُس سوچ کو آپ کاغذ پر اُتار سکتے ہیں۔ کاغذ پر اتاری ہوئی سو [..]مزید پڑھیں

  • دھول چٹانے کا فلسفہ

    میری اپنے پڑوسی سے نہیں بنتی ۔ اس صورتِ حال کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ میرے پڑوسی کی مجھ سے نہیں بنتی۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ہم دونوں کی آپس میں نہیں بنتی ۔ میرا پڑوسی اور میں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ جی چاہتا ہے ایک دوسرے کو کچا چب� [..]مزید پڑھیں

  • ڈر کا گھنا درخت

    ڈر کے حوالے سے میں آج آپ کو کام کی بات بتا رہا ہوں ۔ فقیر کی بات آپ نوٹ کر لیں، لکھ کر محفوظ کر لیں، مشہور اور عام طور پر مانی جانے والی بات ہے۔  کہتے ہیں کہ ہم سب خالی ہاتھ اس دنیا میں آتے ہیں ۔ اور خالی ہاتھ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں یعنی ہم جس نامعلوم دنیا سے اس دنیا میں آت� [..]مزید پڑھیں

  • ڈر تو لگتا ہے

    آپ کو ڈر لگتا ہے؟ آپ میری بات چھوڑیں۔ میں نے آپ سے پوچھا ہے، آپ کوڈر لگتا ہے؟ یہ مت کہئے گا کہ آپ کوڈر نہیں لگتا۔ اگر آپ جیتے جاگتے انسان ہیں، کھاتے پیتے ہیں، کھیلتے کودتے ہیں، کام کاج کرتے ہیں، یا پھر روزی روٹی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں، تو پھر آپ یقیناً ڈرتے ہوں گے� [..]مزید پڑھیں

  • بے بسی کی باتیں

    صبح سویرے موالی کا فون آیا۔ دوست ہے میرا۔ لگتا ملنگ ہے، مگر ٹھیک ٹھاک پڑھا لکھا ہے۔ فلوریڈا یونیورسٹی سے مواصلات یعنی کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی ہے۔ ایک بین الاقوامی فرم کیلئے پاکستان میں کام کرتا ہے۔ اردو، سندھی اور انگریزی اخباروں میں خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونےوالے جرائ [..]مزید پڑھیں

  • پہلے پچیس برس

    لفظ سرکار کی جمع ہے سرکاریں۔ تمام سرکاریں سمجھتی ہیں بلکہ تمام سرکاریں چلانے والے حکمرانوں کو یقین ہوتا ہے کہ عام آدمی یعنی رعایا سمجھ بوجھ سے پیدل ہوتی ہے، یعنی عام آدمی سرکاری باتیں سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ عام آدمی ڈبے میں ووٹ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ درست! ہ [..]مزید پڑھیں

  • وہ بھی ایک دور تھا

    نئی نسلوں کے نوجوان سمجھتے ہیں، بلکہ ان کو یقین ہے کہ ملک میں سیاسی کھلبلی اور خلفشار پچھلی دو تین دہائیوں کے دوران سیاست پر بعض بے ایمان، بے اصول، فاسد اور فاسق لوگوں کے چھا جانے کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اس سے پہلے سب کچھ اچھا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے تھے۔ تب چراغ تلے � [..]مزید پڑھیں