فاروق عادل

  • شاہ محمود قریشی کا اعتراف

    حکمرانوں پر الزامات لگا کرتے ہیں۔ عمران خان پر بھی ہیں، لہٰذا انہیں ایک طرف رکھئے۔ سبب یہ ہے کہ حزب اختلاف کے الزامات دہرا دیے جائیں تو بے لاگ تجزیے کی  پہلی شرط ہی پوری نہ ہو پائے گی۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کی وجوہات مختلف انداز میں تلاش کی جائیں۔ عمران خان [..]مزید پڑھیں

  • اے پشاور! آخری کوشش ہے یہ

    ایک شعر جس میں پشاور کا ذکر تھا، میں نے کئی روز پہلے پڑھا اور سوچا کہ ڈاکٹر اسحق وردگ جس آشوب کا ذکر کرتے ہیں، اُسے بیتے تو زمانہ بیت چکا۔ یہ سوچ کر میں آگے بڑھ گیا۔ آگے بڑھنے کے عمل میں بھی ایک جادو ہے۔ اس جادو کا توتا کاروبار دنیا کے پنجرے میں بندہے۔ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ، � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عمران خان کا صدارتی نظام

    ایک صبح ہم جاگے تو منظر بدلا ہوا تھا۔ یہ صرف لڑکوں بالوں کی بات نہیں ہے، ہمارے جیسے بڈھے توتے بھی آنکھ کھولتے ہیں تو ہاتھ سیدھا سیل فون پر جاتا ہے۔ سبب اس بے صبری کاصرف یہی ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ جو رات بھر میں بیت چکا، اس کی خبر مل جائے۔ اللہ کا شکر ہے کبھی مایوسی نہیں ہوئی۔ جس روز � [..]مزید پڑھیں

  • جائز حقوق کے لیے دھرنے کی مجبوری

    عبد الستار افغانی مرحوم کہا کرتے تھے، کراچی دنیا کی سب سے بڑی کچی آبادی ہے۔ یہ بات انہوں نے کوئی تیس پینتیس برس پہلے کہی ہوگی۔ اتنا زمانہ بیت جانے کے بعد یہ کچی آبادی کم از کم گاؤں کی شکل تو اختیار کر جاتی لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ سبب کیا تھا؟ سبب یہ تھا کہ اس شہر میں شہری حکومت کا � [..]مزید پڑھیں

  • سانحہ مری اور ڈی ایم جی

    ان دنوں نومبر میں بھی سردی ہوا کرتی تھی۔ ہم لوگ کپکپاتے ہوئے کالج پہنچے تو جسے دیکھا آڈیٹوریم کی طرف بھاگا چلا آتا تھا۔ کالج تقریبات کی روایت ہمیشہ یہی دیکھی کہ طلبہ جب پہنچ گئے ایک ایک کر اساتذہ بھی آنے لگتے لیکن اس روز ماحول مختلف تھا۔ اسٹیج اساتذہ سے بھرا ہوا تھا۔ پروفیسر ا [..]مزید پڑھیں

  • گوادر تا خیبر پختونخوا

    خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی فتح کو ماضی قریب کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ خود مولانا فضل الرحمن نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کی حالیہ کامیابی کو 2018 کی ناکامی سے منسلک کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو سے یہ حقیقت اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ زمینی حقائق پہلے بھی یہی [..]مزید پڑھیں

  • سیالکوٹ کا عفریت

    سیالکوٹ میں توہین مذہب کے نام پر جو کچھ ہوا، اس نے اوسان خطا کر دیے۔ دیر تک کچھ سجھائی نہ دیا۔ پھر آہستہ آہستہ ایک منظر نگاہوں میں اترا۔ کوئی چالیس برس ہوئے ہوں گے۔ وہ دن گرمی کی چھٹیوں کے تھے۔ ایک صبح جب ہم اٹھے تو سنسنی کی ایک لہر یہاں سے وہاں پھیلی دکھائی دی۔ سنسنی کا کوئی ما� [..]مزید پڑھیں