فاروق عادل

  • بلوچستان کی الجھی ڈور

    سردار اختر جان مینگل قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے اور پھر بے لچک مؤقف اختیار کیا تو ان کے والد گرامی کی یاد ائی۔ سردار عطا اللہ مینگل سے مجھے دو یا تین انٹرویو کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان سے پہلا انٹرویو گلشن اقبال کراچی کے ایک گھر میں ہوا۔ اس موقع پر برادر عزیز رفعت سعید بھ [..]مزید پڑھیں

  • کیا ہے وحشت کا سبب آخر کار

    بے چینی کافی بڑھ گئی۔ پی ٹی آئی جس قسم کی سیاست کرتی ہے، کچھ تو اس کے آثار ہیں اور کچھ اس گروہ کے اندر کی کشمکش ہے جسے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے پارٹی پر قبضے کی جنگ قرار دیا ہے۔ پارٹی پر قبضے کی جنگ تو اس گروہ میں روز اوّل سے ہی جاری ہے ۔ کچھ حالیہ واقعات کے بعد اس کی شدت [..]مزید پڑھیں

  • وزیر اطلاعات معیشت کے محاذ پر

    یہ نوجوانوں کا دور ہے لیکن اب سے پہلے ہمارے وزرائے اطلاعات بڑے تجربہ کاراور سینئر لوگ ہوا کرتے تھے۔ پی ڈی ایم کی حکومت بنی تو ایک نوجوان کو یہ منصب دیا گیا۔ یہ مریم اورنگ زیب تھیں۔ وہ بڑا مشکل دور تھا لیکن اس نوجوان وزیر اطلاعات نے ان مشکل حالات کا خم ٹھونک کر مقابلہ کیا۔ ایک ط� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بلوچ راجی مچی

    بلوچستان کے ذکر پر عبد المحسن شاہین نے ایک اصطلاح استعمال کی،  ’بلوچ راجی مچی‘۔ اس پرمیں چونکا اور سوال کیا کہ یہ بلوچ راجی مچی کیا ہے؟ پھر گویا دبستاں کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ ان دنوں راولپنڈی میں جماعت اسلامی نے دھرنا دے رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں آئی پی پیز کے ساتھ معا� [..]مزید پڑھیں

  • مریم نواز کی سنچری

    پریشان کر دینے والی باتیں بہت سی ہیں جیسے جمعیت علمائے اسلام ف کے کارکنوں کا مسلسل دہشت گردی کا شکار ہو جانا اور جمعیت کی طرف سے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت۔ یہ موضوع پریشان کر دینے والا ہے لہٰذا اس پر بات ہونی چاہیے۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے یعن� [..]مزید پڑھیں

  • یہ جادو گر کہاں سے آیا؟

    وفاقی سیکرٹری تعلیم محی الدین وانی ان خوابوں کے بارے میں بتا رہے تھے جو انھوں نے دیکھے اور مجھے ایم سی پرائمری اسکول بلاک نمبر 14 سرگودھا کے نیک نام استاد کی یاد آ نے لگی جنہوں نے ہمیں اچھی اچھی باتیں سکھائیں اور فلائیٹ لیفٹیننٹ یونس حسین شہید ستارۂ جرأت کے کارناموں کی کہانیا� [..]مزید پڑھیں

  • تقدیر نگوں ہوئی کیوں نہیں؟

    آج فیض صاحب کی بات کرتے ہیں۔ وہ فرما گئے ہیں: میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے فیض صاحب کی اس نظم پر تنقید بھی بہت ہوئی ہے۔ ادبی حلقوں میں سلیم احمد مرحوم کے بارے میں یہ رائے تقریباً متفقہ ہے کہ ادبی تنقید میں وہ پہلے نقاد ہیں جو د [..]مزید پڑھیں

  • مسنگ پرسنز کا معمہ

    بلوچستان کے بڑیچ پشتون قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی جامعہ کراچی میں میری شاگرد تھی۔ ذہین، محنتی اور بہت ذمے دار۔ چھٹی تو وہ کبھی کرتی ہی نہیں تھی۔ ایک بار وہ اکٹھے دو تین ہفتے غائب رہی۔ جامعات میں طلبہ اس طرح چھٹیاں نہیں کرتے۔ کریں تو ان کے ساتھی تحقیق کر کے جلد ہی معلوم � [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کی تاریخی سفارتی جست

    صحافت کے دور ’ زوال ‘ میں آنکھیں کھول کر کالم نگاری کی شد بد حاصل کرنے والے ایک یار عزیز نے پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن برادر محترم وجاہت مسعود نے مولانا مودودی علیہ رحمة کی پیروی میں خاموشی کا مشورہ دیا ہے کہ مولانا کی زبان یا قلم سے کبھی کوئی سوقیانہ بات نہیں ن� [..]مزید پڑھیں

  • نقوی صاحب، جن کے چمکنے سے اجالا ہوا

    وہ کتابت خانے میں آلتی پالتی مارے بیٹھے ’جادہ پیما‘ کے صفحات دیکھتے جاتے اور جہاں کہیں کوئی سہو دکھائی دیتا، سید محمد حسن واسطی کو اصلاح کی ہدایت کرتے۔ یہ ذکر ہے استاد محترم پروفیسر سید ارشاد حسین نقوی صاحب کا۔ انبالہ مسلم کالج میں ویسے تو ہر استاد خوش پوش تھا لیکن جسے � [..]مزید پڑھیں