وارث رضا

  • جنید حفیظ: لرزتا ہوا انصاف

    میرے ذہن کی پٹاری میں میرے وطن کا ایک مقدمہ ایسا بھی ہے جو 2013 سے کسمسا، بلبلا اور کروٹیں بدل بدل کے تھک سا گیا ہے مگر مقدمے کی برسوں بعد لگنے والی پیشی Forward as Recieved کی طرح بغیر سنے اور کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچے بنا اور کسی تفتیشی عمل سے گزرے بغیر ہی ختم کر دی جاتی ہے۔ اب میں نہیں [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی کھیل میں عمران خان کہاں کھ

    سیاست اور اقتدار کی دل فریبی سے چمٹے رہنا بہت بھلا لگتا ہے، مگر سیاست اور اقتدار کی انگڑائی لینے کے خطرناک پہلو سے کم از کم وہ ہرگز واقف نہیں ہو پاتے جو کسی نہ کسی طور سیاست میں طاقت کی بیساکھیوں کے سہارے لائے گئے ہوں اور کسی خاص مقصد کے لیے اقتدار میں بٹھا دیے گئے ہوں۔ اہل دانش [..]مزید پڑھیں

  • این آر او کے ثمرات اور عمران خان

    لاہور کے ہمارے عزیزی نوجوان صحافی کا سلیمان شہباز کی پاکستان آمد اور ان کے مستقبل کی سیاسی حکمت اور لائحہ عمل کے سوال اٹھانے اور ان کو عمران خان کی جانب سے این آر او ٹو دیے جانے پر جب میں نے دنیا کی سیاست میں وراثت کو منتقل کرنے کی بات کی تو اسی لمحے مجھے ایک مرحوم اعلی افسر کے ل� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ’الفتح‘ کا ارشاد

    یہ ماہ نومبر کی بھی عجیب بپتا ہے کہ جب بھی آیا تو کمیونسٹ تحریک یا سوشلسٹ خیالات کے افراد کے لیے سوہان روح ہی رہا۔ ابھی روشن خیال احباب حسن ناصر کی جمہوری اور ترقی پسند فکر کو یاد ہی کر رہے تھے کہ معروف رسالے ’الفتح‘ کے ممدوئے خاص اور تحریکی صحافی ارشاد راؤ بھی چل بسے۔ سی [..]مزید پڑھیں

  • صحافت اور صحافیوں کو لاحق خطرات

    مجھے نہیں پتہ کہ ’خطروں کے کھلاڑی ‘ کی اصطلاح کس پس منظر میں لائی گئی تھی مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ پاکستان اور ترقی پذیر ممالک میں آج کے جدید دور میں بھی ’صحافی‘ سماجی سیاسی اور معاشی خطرات کا نشانہ بنا رہتا ہے اور اکثر بے خطر ہو کر خبر کی تلاش میں خود سب کے لیے خب� [..]مزید پڑھیں

  • سیلاب و سیاست کی تباہ کاریاں

    محتاط اندازے کے مطابق ملک کے 65 فیصد رقبے پر حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے جہاں سماجی اور شدید معاشی مسائل میں عوام کو گرفتار کیا ہے، وہیں یہ سیلاب 75 برس سے قائم غیر سول یا سول حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور جھوٹی تسلیوں کو بھی بہا کر لے گیا ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں میں مبتلا عوام [..]مزید پڑھیں

  • بدعنوانیوں کا سیلاب

    میرے بچپن کی اٹھکھیلیوں کی سمت درست کرنے اور میری تربیت کے شعور کی نگرانی میری واحد پھوپھی جان کے ہاتھوں ہوئی۔ ان کا کام پٹنے سے بچانے اور شفقتی لہجے میں سمجھانے تک کا تھا۔ پھر وہ لندن گئیں تو وہیں کی ہو گئیں، برسوں بعد واپسی ہوئی تو وہی ممتا بھری شفقت لیے مجھ سے گویا ہوئیں کہ & [..]مزید پڑھیں

  • افتخار عارف کا ’ گل سرخ‘

    سوچتا ہوں کہ یہ روحانی رشتوں کی عجب اڑان کیوں ہوتی ہے، ان وجدی رشتوں کی اجزائے ترکیبی کے عجب رنگ اور ڈھنگ کیوں ہوتے ہیں؟ ان رشتوں کو باہم کرنے میں آخر وہ کونسی طاقت ہوتی ہے جو نہ مل کر اور نہ پا کر بھی مہان ٹھہرتی ہے۔ روح کے راگ کا یہ عجب تعلق ہوتا ہے جو خود بخود احساس اور خیالا� [..]مزید پڑھیں