حماد غزنوی

  • ہم اپنے جانی دشمن ہیں

    بلا شبہ، ہم حالت جنگ میں ہیں، لاشے گر رہے ہیں، منظر لہو میں لتھڑا ہوا ہے۔ لیکن یہ جنگ ذرا مختلف طرح کی جنگ ہے جس میں ہم اپنے آپ سے برسرِ پیکار ہیں۔ ہم گولی چلاتے ہیں اور ہمارا ہی سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔ ہم بارودی سرنگ بچھاتے ہیں اور پھر خود ہی اس پر پاﺅں دھر دیتے ہیں، خود کو زیر ک� [..]مزید پڑھیں

  • لاڈلا کون؟

    دوپہر اور رات کے کھانے میں تو ہم تنوع کی خواہش رکھتے ہیں مگر ناشتے میں یکسانیت قبول کر لیتے ہیں۔ پتا نہیں ایسا کیوں ہے۔ خیر، کل صبح جب ہم انڈہ توس اور چائے کی پیالی کے منتظر تھے تو اطلاع ملی کہ آج ناشتے میں حلوہ پوری، سری پائے ، آملیٹ پراٹھا اور کھیرملے گی۔ اس غذائی اوباشی کے اس [..]مزید پڑھیں

  • سیاست دان سے مدبر تک

    ایک تقریر سے چند اقتباسات: زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت آ گیا ہے… ہمارے درمیان جو خلیج وسیع تر ہو چکی ہے، اسے پاٹنے کی گھڑی آن پہنچی ہے … عہد کریں کہ آئندہ کبھی اس خوبصورت سرزمین پر کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ پر ظلم نہیں کرے گا… انصاف سب کو ملے گا، امن و عافیت میں رہنے کا م� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تشریف لاتے ہیں…میاں محمد نواز شریف!

    یہ نواز شریف کی بیرونِ ملک سے چوتھی معروف واپسی ہو گی۔ پہلی دفعہ 2007 میں قریباً سات سالہ جلا وطنی کے بعد واپسی ہوئی مگر انہیں ایئر پورٹ سے ہی ملک بدر کر دیا گیا۔ اگلے سال وہ پھر پاکستان آئے اور انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت تو دے دی گئی مگر انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی، پھ� [..]مزید پڑھیں

  • آئین، ان کو دِکھایا تو برا مان گئے

    علمِ نجوم سے دست شناسی تک، بہت سے علوم مستقبل میں جھانکنے کے دعویدار ہیں۔ اور ان علوم کا کاروبار خوب چلتا ہے کیوں کہ انسان فطرتاً آنے والے کل کے بارے متجسس ہے۔ ویسے ان علوم کے حوالے سے ہماری رائے شہزاد احمد سے ملتی جلتی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: سب تری طرح لگاتے ہیں قیافے شہزاد [..]مزید پڑھیں

  • جالندھر سنگھ اور جرنیل سنگھ

    کنساس سٹی میں ایک سردار جی سے راہ چلتے ملاقات ہوئی تو از روئے خیر سگالی ہم نے انہیں ہاتھ جوڑ کر گڈ مارننگ کہا۔ انہوں نے جواباً باقاعدہ درست مخارج کے ساتھ ’اسلام علیکم‘ کہا، پنجابی میں گفتگو شروع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ابّا جی لائل پور سے جالندھر گئے تھے۔ ہم نے بتای [..]مزید پڑھیں

  • 9 نمبر کی بس کب آئے گی؟

    اسداللہ خان غالب نے دو مصرعوں میں کامل بے اختیاری کی ایک بے مثال تصویر بنائی ہے۔ فرماتے ہیں ”رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے…..نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“۔ غالب نے یہ شعر تخلیقِ پاکستان سے لگ بھگ سو سال پہلے باندھا تھا، لیکن لگتا یوں ہے گویا اس ملک کی 76ویں سا [..]مزید پڑھیں

  • بھٹکا ہوا کارواں

    ہر شہر، ہر خطے کی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے، جب کوئی شہر یاد آتا ہے ایک نافہ سا وا ہو کر مشام کو معطر کر جاتا ہے۔ یہ مشک شہروں کے مزاج سے پھوٹتی ہے، اور یہ مزاج شہروں اور خطوں کی تاریخ اور جغرافیہ سے جنم لیتا ہے۔  سادہ لفظوں میں کسی شہر کی یاد آئے تو وہاں کا فن تعمیر یاد آتا ہے، آ� [..]مزید پڑھیں

  • بے یقینی کے مارے لوگ

    جو چیز ہمارے پاس نہیں ہوتی اس کی تمنا سوا ہوا کرتی ہے۔ یہ نارسائی کبھی احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے کبھی احساسِ کم تری کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ معاملہ افراد کو ہی نہیں اقوام کو بھی درپیش ہوا کرتا ہے۔ اس ضمن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مثال دیکھئے۔ اس ملک کے پاس اللہ کا دیا سب � [..]مزید پڑھیں

  • ’نو مسلموں‘ کے درمیان شام

    امریکہ یاترا جاری ہے اور ”طلسمِ خوابِ زلیخا و دامِ بردہ فروش“ جیسے قصے قدم قدم پر درپیش ہیں، نیک روحوں سے آشنائی ہوتی ہے، کائیاں لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔  ناگہانی مشکلات ٹوٹتی ہیں اور پھر کوئی اجنبی مہرباں یک دم کہیں سے نمو دار ہوتا ہے، یعنی ”کب وہ ظاہر ہو گا اور حیر� [..]مزید پڑھیں