ارشاد احمد صدیقی

  • خدا کے ہوتے ہوئے، ناخدا کے ہوتے ہوئے

    سانحہ مری پاکستان کے دل پر ایک نہ مٹنے والا گھاؤ ہے۔ اب خدا جانے کب تک تاویلیں ہوتی رہیں گی اور گھاؤ رستا رہے گا۔ سوال در سوال، قطار اندر قطار یہ پوچھا جاتا رہے گا کہ قصور کس کا ہے؟ عمران خان خوش ہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے، سیاحت کو عروج میسر ہے اور مخالفین ناخوش ہیں کہ حکومت وقت � [..]مزید پڑھیں

  • باپ کا گناہ

    مریم نواز کی نیب میں پیشی کے بعد یہ کالم منظر عام پر آئے گا لیکن چند تجاویز پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ مریم نواز کی پیشی ایک جشن کی صورت اختیار کرتا نظر آ تی ہے۔ رانا ثناء اللہ، مولانا فضل الرحمن، قمرالزمان کائرہ اور نہ جانے کون کون مریم نواز کے ہمراہ جانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • گردش رنگ چمن: جاشوا کے شب و روز

    گردش نان جویں کا رخ کوئی نہیں توڑ سکتا۔ہم عموماً روزمرہ کی گفتگو میں لفظ ”دانہ پانی“ کا استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ دانہ پانی پر کسی کو اختیار نہیں۔ اور اسی نان جویں کی عملی حکایت نہیں بھی درپیش ہے۔  ہم گزشتہ چالیس سال سے یورپ، افریقہ، مڈل ایسٹ اور امریکا � [..]مزید پڑھیں

  • سنگ آزاد

    اس تحریر کو سنجیدگی سے نہ دیکھیں اور نہ ہی اس پر کوئی محققانہ نظر ڈالیں۔ یہ بس سر راہے ”آنکھیں میری باقی ان کا“ والا قصہ ہے۔ ہم ذرا مریم نواز کی عدالت میں پیشی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں لیکن اس سے قبل یہ ضروری ہے ہم داستان گو کی داستان طرازی پر بھی نظر ڈالتے جائیں۔ مدعا [..]مزید پڑھیں

  • کرم اے شہ عرب و عجم

    اس میں شک نہیں کہ اس وقت پوری دنیا کورونا  سے پنجہ آزما ہے۔ لیکن اس نادیدہ دشمن کو شکست دینے کے اسباب  تاحال پہنچ سے باہر ہیں۔ طرح طرح کے بیانات منظر عام پر آرہے ہیں۔ لیکن ابھی تک وہ سرا نہیں ملا جسے گرفت میں لایا جاسکے۔ ہم اپنے عقیدے کے تحت ان مناجات کی طرف راغب ہیں جن میں � [..]مزید پڑھیں

  • باؤ جی میرا مسئلہ چولہا ہے

    ان دنوں اخبارات، ٹی وی اور دیگر میڈیا پر دہاڑی دار مزدور کی دہائی دی جارہی ہے۔ بڑے بڑے ٹی وی اینکر حضرات دہاڑی دار مزدور کی نوحہ خوانی کررہے ہیں۔ پر مغز دلائل دیے جارہے ہیں۔ اور قارئین اور اینکر حضرات اپنے مہمانوں کے فلسفیانہ خیالات سن رہے ہیں۔ یہ بحث معاشی، معاشرتی اور سیاس� [..]مزید پڑھیں

  • نشانہ تو تھا۔۔۔

    خبریں آرہی تھیں کہ کورونا آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے۔ لوگ خوش تھے۔ لیکن اچانک کورونا نے پلٹا کھایا اور بیماروں اور اموات کی تعداد میں کرہ ارض  پر اضافہ ہوگیا۔ مخلوق پھر سہم گئی۔ نہ نظر نہ آنے والا بے نام دشمن ہے۔ جس کا کوئی علاج نہیں۔ یہ تو بارہا کہا گیا کہ ہجوم سے دور رہو۔ تق� [..]مزید پڑھیں