نسیم شاہد

  • ناطقہ سریہ گریباں ہے اسے کیا کہیے

    پہلے بھی عرض کیا تھا کہ وزیروں کے لئے بھی کم از کم بیانات اور تقریروں کی حد تک کوئی ضابطہ ہونا چاہیے۔ یہ ضروری تو نہیں جو منہ میں آئے بول دیں مگر صاحب کون روکے یہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک وزیر اپنی پور ی حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ اب فرمایا ہے پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیا [..]مزید پڑھیں

  • صاحب کتاب بننے کا جنون

    مشتاق احمد یوسفی کا نام آتے ہی ایک شگفتہ نثر ذہن میں آجاتی ہے۔ ان کے پائے کی ،عصرحاضر میں کسی نے نثر اور نہ مزاح لکھا ہے۔ ایک بار انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب  ”آبِ گم“ کے بارے میں بتایا کہ اسے لکھنے میں سات سال لگے اور دس سال میں اس کی نوک پلک سنوارتا رہا۔ یوں سترہ سال کے � [..]مزید پڑھیں

  • پروفیسر محی الدین پیرزادہ، عدم برداشت کا نیا شکار

    اچانک کوئی اندوہناک خبر ملے تو دل کی حالت ایک گولی لگنے سے تڑپتے ہوئے پرندے جیسی ہوتی ہے۔ کل شام پروفیسر نعیم اشرف نے فون کیا تو ان کی آواز میں لرزش اور کرب تھا۔ انہوں نے پوچھا، یار پروفیسر محی الدین پیرزادہ کے بارے میں خبر کا علم ہوا ہے۔  میں نے کہا نہیں، کیا ہوا انہیں،نعیم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

    لاہور میں تھانہ شاہدرہ نے چار پولیس والوں کے خلاف گداگری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کی تفصیل کے مطابق چاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ وہ جرائم پیشہ افراد پر نظر رکھیں، مگر انہوں نے آنے جانے والوں سے عیدی وصول کرنا شروع کر دی۔ ایک شخص نے پولیس ت� [..]مزید پڑھیں

  • پہلے پتھر کا انتظار

    کل ورجینیا امریکہ سے ناصر محمود شیخ کا فون آیا۔ سیلانی آدمی ہے جب بھی امریکہ جاتا ہے، وہاں کی ترقی نہیں لوگوں کے رویوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ بتا رہے تھے میں نے دیکھا دو کالے پولیس والے کھڑے ہیں اور آگے جس ہال میں اجلاس ہو رہا تھا،وہاں تک نہیں جانے دے رہے۔  ان کے پاس چلا گیا۔ و [..]مزید پڑھیں

  • استحصالی نظام، ذمہ دار کون، عوام یا سیاستدان؟

    یہ بحث تو ازل سے جاری ہے کہ پہلے مرغی آئی تھی کہ انڈہ۔ ژاں پال سارتر جیسے فلسفی یہ دور کی کوڑی لائے تھے کہ یہ کائنات پہلے سے موجود تھی بس انسان نے اسے آکر دریافت کیا۔ وہ اس وجودی فلسفے کے بہت بڑے مبلغ تھے، کسی چیز کا خیال پہلے نہیں آیا بلکہ کسی بھی چیز کو دیکھ کے خیال انسان کے ذہن م [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر عشرت حسین اور بیورو کریسی کا زوال

    اس سوال کا جواب تو آج تک نہیں مل سکا کہ قیام پاکستان کے دس پندرہ سال بعد تک ترقی کرتے پاکستان کر ریورس گیئر کیسے لگا، دنیا کے بہت سے ممالک کو اپنی ترقی سے حیرت زدہ کرنے والا نوزائیدہ ملک یکدم اُلٹا کیوں چلنے لگا۔اس پر ایک جامع تحقیق ہونا چاہئے تھی، مگر نہیں ہوئی،کیونکہ اس میں تو [..]مزید پڑھیں

  • نوجوان سیاست سے دور کیوں رہیں؟

    میں حیران تھا یہ دانشور کیوں ایسی بات کررہے ہیں۔ وہ بار بار نوجوانوں کو یہی کہہ رہے تھے آپ سیاست سے دور رہیں۔ عملی سیاست سے نہیں بلکہ ان کا قبلہ اس طرف تھا کہ سیاسی طور پر ملک میں جو کچھ بھی ہو رہاہے اس سے لاتعلق ہو جائیں۔  ایک ایسامطالبہ وہ کررہے تھے جو نوجوانوں کو اپنے اردگ� [..]مزید پڑھیں

  • انون کا دائرہ اور اختیار کا نشہ

    اچھی خبر ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پیرا فورس کے اہلکاروں کی مسلسل شہریوں سے بدتمیزی اور برے سلوک کا نوٹس لیا ہے۔30جون تک افسروں اور اہلکاروں کو باڈی کیم لگانے کا حکم بھی دےدیا ہے۔ 5مئی کے کالم  ’ایک معصومانہ سوال‘ میں اسی موضوع پر لکھتے ہوئے میں نے کہا تھا پنجاب میں � [..]مزید پڑھیں

  • سرکاری ہسپتال، خرابی کہاں ہے؟

    خاتون سول جج کے علاج میں غفلت کے  باعث موت کے الزام میں، علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازیخان کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ابراہیم کو انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر معطل کر کے محکمہ صحت پنجاب لاہور کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔  خاتون سول جج جو گردوں کے عارضے میں مبتلا تھ [..]مزید پڑھیں