نسیم شاہد

  • سیاست کے انداز بدلے گئے

    لڑکپن کی یادوں میں ایک یاد یہ بھی ہے کہ ہم سیاسی رہنماؤں کے بہت دیوانے ہوا کرتے تھے،ملتان کینٹ کے صدر بازار میں رہائش تھی اور اُس سے کچھ ہی فاصلے پر کھر ہاؤس ہوتا تھا۔ آج یہ ویران پڑا ہے، اس کھر ہاؤس میں سیاست کی بڑی گہما گہمی ہوتی تھی۔ غلام مصطفےٰ کھر پیپلزپارٹی میں تھے تو یہ � [..]مزید پڑھیں

  • نہلے پر دہلا نہ ماریں

    کیا پاکستان کوئی انوکھا ملک ہے کہ جس کے حالات 79 برسوں میں نارمل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔گھوم پھر کے بات پھر اِس نکتے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سے پہلے بھی گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ کئی دہائیوں بعد ہم پھر گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہے ہیں۔کولہو کے بیل نے بھی اتنے چکر نہیں کاٹے ہوں [..]مزید پڑھیں

  • ترقی کے جھوٹے خواب

    اس وقت وطن عزیز میں دو قسم کے طبقے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو سارا دن یہ سوچتا ہے، پیسہ کہاں سے آئے کہ گزارا ہو ۔اور دوسرا طبقہ وہ ہے جسے یہ فکر کھائے جاتی ہے پیسہ کہاں رکھے۔ ملتان کے ایک بینک کی خبر سامنے آئی جس کے لاکر میں رکھے اسی تولے سونے کے زیورات غائب ہوگئے، اُدھرلاہور کے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بے صبری کے زخم!

    جب کسی معاشرے میں بے صبری پھیل جائے تو اس کی حالت اُس گاڑی جیسی ہو جاتی ہے جس کے بریک فیل ہوگئے ہوں۔ پھر وہ بے تکان اور بلارکاوٹ چلتی جاتی ہے تاوقتیکہ کوئی حادثہ اسے روک نہ دے۔ بے صبری کا کیا دھرا ہے کہ ہمارے ہاں آج تک قطار میں لگ کر انتظار کرنا ہمارا بہت بڑا دکھ ہے جہاں کہیں لمب [..]مزید پڑھیں

  • مشاعرے کا عروج یا شاعری کا زوال

    کالم کا عنوان پڑھ کے آپ سوچیں گے یہ کیا بات ہوئی، اگر مشاعرے کا عروج ہے تو شاعری کا زوال کیسے ہو سکتا ہے۔ تو صاحبو! یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جو برسوں پہلے اسٹیج ڈرامے کے ساتھ ہوا۔ شو کی ٹکٹ بلیک میں بھی نہیں ملتی تھی اور کھڑکی توڑ رش کی وجہ سے ہر طرف شوروغل تھا کہ دیکھو اسٹیج ڈرام� [..]مزید پڑھیں

  • کیا برف پگھل رہی ہے؟

    کیا برف پگھل رہی ہے؟ کیا واقعی پگھل جائے گی؟ کیا ڈیڈ لاک ٹوٹ جائے گا؟ کیا واقعی ٹوٹ جائے گا؟ اِس وقت ملک اِن سوالات کی زد میں ہے۔ سب سے بڑا اشارہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی طرف سے ملا جنہوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے س [..]مزید پڑھیں

  • اچھے معاشرے کے جھوٹے خواب

    ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دوسرے کو حقیر سمجھنے والا اس بات پر بضد رہتا ہے کہ اسے عظیم سمجھا جائے جسے تھوڑی بہت شہرت مل جاتی ہے، وہ خود کو ارسطو سمجھنے لگتا ہے اور اپنے اردگرد رہنے والوں پر اپنی علمیت کو تسلیم کرانے کے لئے ہتھوڑے برساتا ہے۔ ہم وہ معاشرہ بھی ہیں جہاں اس دو� [..]مزید پڑھیں

  • اخبارات کی دنیا،سچ کی دنیا

    میری طالب ِ علمی کے زمانے میں اطلاعات کا سب سے بڑا ذریعہ اخبارات ہوتے تھے،اس زمانے میں جب کوئی خبر گردش کرتی تو لوگ سب سے پہلے یہی سوال کرتے کیا اخبار میں یہ خبر آئی ہے، گویا اخبار میں آنے والی خبر مصدقہ اور سچی ہوتی تھی۔ پرویز مشرف کے دور میں نجی چینلز قائم ہوئے تو خبر کا ایک ذ� [..]مزید پڑھیں

  • خواتین اور کالج اساتذہ کی نمائندگی

    پنجاب پروفیسر اینڈلیکچررز ایسوسی ایشن صوبے میں کالج اساتذہ کی تنظیم ہے۔ جب تک میں پروفیسر تھا اس تنظیم میں کسی نہ کسی حوالے سے شامل رہتا تھا۔ ایک زمانے میں پروفیسر تنویر احمد شاہ ملتان سے اس کے جنرل سیکرٹری ہوتے تھے۔پروفیسر خالد حمید ملتان ڈویژن کے صدر تھے۔ بڑی فعال تنظیم تھ [..]مزید پڑھیں

  • ذرا سنبھل کے

    زندگی ایک کھیل تماشا ہے تو ہمیں پاکستانی سیاست کو بھی ایک تماشا ہی سمجھنا چاہیے۔ بعض باتوں پر ہم چونک جاتے ہیں اور بال کی کھال نکالنا شروع ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ہر بات کا اپنا ہی مزا ہے اور ہمیں مزے سے سب واقعات کو دیکھنا چاہیے۔  جماعت اسلامی نے اگر اچانک ملتان میں پہنچ کر اپ� [..]مزید پڑھیں