نسیم شاہد

  • دِل کی کھڑکی کھولیں

    ایک خبر نے میرے دماغ کے تانے بانے ہلا دیئے۔ یہ نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں گیارہ سال سے داخل 26سالہ نوجوان کے وفات پا جانے کی خبر تھی۔2014 میں اُسے ٹریفک حادثے میں سر پر شدید چوٹ لگی،ملتان اور لاہور کے ہسپتالوں میں علاج ہوا، کچھ بحالی ہوئی تو گھر آ گئے۔  لیکن شومئی قسمت کہ [..]مزید پڑھیں

  • رشتہ یاکاروبار؟

    اکبر علی پرانے دوست ہیں۔ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو پہلے ایک نجی کمپنی میں ملازمت کی، پھر اپنا بزنس شروع کیا۔ کہتے ہیں اچھی گزر رہی ہے، پنشن اور کاروبار سے اتنی آمدنی ہو جاتی ہے کہ باعزت طریقے سے کام چل رہا ہے۔ البتہ انہیں ایک بڑی پریشانی یہ لاحق ہے کہ ان کی چار جوان بیٹی� [..]مزید پڑھیں

  • نظام کی منجدھار

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی وزیرداخلہ محسن نقوی کی تقریر کے اگلے روز پریس کانفرنس کرکے کم و بیش وہی تھیسز پیش کیا جو وزیرداخلہ پیش کر چکے تھے۔لب لباب یہی کہ گڈگورننس کے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔  اب یہ آوازیں بھی آنے لگی ہیں کہ اس سارے بیانیے کا مقصد � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • نظام فیل ہو گیا، مگر کیوں؟

    وزیر داخلہ کے بارے میں تو یہی سمجھا جاتا ہے اُس کی ہر بات حکومت کے موقف کی ترجمان ہوتی ہے، مگر اسلام آباد کی ایک تقریب میں محسن نقوی نے جو کچھ کہا ہے وہ تو کسی اپوزیشن لیڈر کا موقف لگتا ہے۔انہوں نے موجودہ نظام پر ہی قلم پھیر دیا ہے اور صاف صاف کہا ہے یہ نظام نہیں چل رہا، فیل ہو گیا [..]مزید پڑھیں

  • طبی لیبارٹریوں کا گورکھ دھندہ

    پاکستان میں طب کا شعبہ سب سے بڑی لوٹ مار،بھیڑ چال اور جنجال کا شکار ہے۔تاہم کل ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب کی داستان سن کر میں نے سوچا اُن طبی لیبارٹریوں کے بارے میں بھی حکام کی توجہ دلائی جائے جو ہر گلی محلے میں کھل گئی ہیں اور ڈاکٹروں کی آشیر باد یا کرم فرمائیوں سے سادہ لوح مریضو� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کے وارث

    کوئی اگر یہ سوچتا ہے نوجوانوں کے ذہنوں میں سوالات نہیں اُٹھ رہے  وہ یا  تو اُن سے دور ہے یا پھر کسی دیو مالائی دنیا میں رہتا ہے۔مجھے چند روز پہلے یونیورسٹی کے نوجوان ملے،ایسے ہی کبھی کبھار ملنے چلے آتے ہیں۔اُن میں سے ایک نے بہت اہم سوال پوچھا۔ اُس نے کہا بیس تیس سال پہلے ج� [..]مزید پڑھیں

  • آج کا ادب یا لفظوں کی جگالی

    آج نہیں تو آنے والے برسوں میں یہ سوال تو پوچھا جائے گا کہ اس عہد کا نظریہ ادب کیا تھا؟ فیض احمد فیض، حبیب جالب، احمد فراز اپنے عہد کا سرنامہ لکھ گئے۔لکھتے رہے جنوں کی حکایت خوں چکاں،جیسی آوازیں اٹھاتے رہے۔ آج کا ادب کس عہد کی نمائندگی کر رہا ہے۔ادیبوں شاعروں کی ترجیحات کیا ہیں [..]مزید پڑھیں

  • نہیں مولانا صاحب نہیں

    جوشِ خطابت میں جب ہوشِ خطابت نہ رہے تو ایسی باتیں سرزد ہو جاتی ہیں جو اپنے ہی موقف کے ضرب کاری اور دوسروں کے لئے دلآزاری کا باعث بنتی ہیں ۔اور جب ایسی بات ایک منجھے ہوئے خطیب یا مقرر کی زبان سے نکلے تو زیادہ حیرت ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے بھی ایک ایسی ہی بات سر زد ہو گئی ہے ج [..]مزید پڑھیں

  • بلیو پاسپورٹ، اشرافیہ کا نیا دکھ

    اک عمر گزر گئی، لکھتے دیکھتے، سنتے، مگر کبھی یہ دیکھنے کو نہیں ملا کہ سیاست کی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں نے کبھی اپنے ووٹرز یا عوام کو اپنی ترجیح کا مرکز بنایا ہو۔ سب کچھ اپنے لئے مانگنے اور سوچنے والے عوامی نمائندے تو نہیں ہو سکتے۔ مراعات اپنے لئے،تنخواہوں میں چھ سو گنا اضافہ � [..]مزید پڑھیں

  • سرکاری یونیورسٹیوں کا پنڈورابکس

    جب نظام سے باخبر کوئی شخصیت کسی رائے کا اظہار کرے تو اُسے غور سے سننا چاہیے۔ کیونکہ اس میں جہاں بگڑے حالات کی منظرکشی ہوتی ہے وہاں ان خطرات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو اندر ہی اندر منڈلا رہے ہوتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی ایک دبنگ شخصیت کے مالک ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں [..]مزید پڑھیں