نسیم شاہد

  • پڑھے لکھے نوجوانوں کا سوچیں

    ایک دور تھا جب والدین اس فکر میں مبتلا رہتے تھے بچہ پڑھ جائے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ اب یہ دور ہے کہ والدین کی فکر نہیں جاتی کہ اُن کا بیٹا یا بیٹی کسی روز گار پر لگ جائے، اپنے پیروں پر کھڑا ہو۔جس سے پوچھو بچے کیا کر رہے ہیں، وہ یہی بتاتا ہے پڑھ گئے ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، بس بی [..]مزید پڑھیں

  • سانحہ چکوال اور کٹہرے میں کھڑی سی سی ڈی

    چکوال میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی فیملی کی9سالہ ہانیہ کی سی سی ڈی کے ہاتھوں دردناک موت سی سی ڈی اور پنجاب پولیس کے لئے ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔وہ سی سی ڈی جو اپنے کسی پولیس مقابلے کے بارے میں کسی جوابدہی کو ہی ضروری نہیں سمجھتی تھی ۔اور مرنے والوں کے لواحقین دہائیاں ہی دیتے رہ جاتے [..]مزید پڑھیں

  • عدم برداشت کا رویہ

    ایک دوست بتا رہے تھے کہ میں موٹروے کے راستے لاہور سے ملتان آ رہا تھا۔ ایک قیام و ط عام پر رکنے کے لئے میں نے لائن تبدیل کی، اپنی لائن میں چلتے ہوئے نیچے کی طرف گاڑی موڑی تو پیچھے سے ایک گاڑی والے نے بے تحاشہ ہارن دینے شروع کر دیئے۔ صورتِ حال ایسی تھی کہ اسے راستہ بھی نہیں دیا جا � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ناطقہ سریہ گریباں ہے اسے کیا کہیے

    پہلے بھی عرض کیا تھا کہ وزیروں کے لئے بھی کم از کم بیانات اور تقریروں کی حد تک کوئی ضابطہ ہونا چاہیے۔ یہ ضروری تو نہیں جو منہ میں آئے بول دیں مگر صاحب کون روکے یہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک وزیر اپنی پور ی حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ اب فرمایا ہے پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیا [..]مزید پڑھیں

  • صاحب کتاب بننے کا جنون

    مشتاق احمد یوسفی کا نام آتے ہی ایک شگفتہ نثر ذہن میں آجاتی ہے۔ ان کے پائے کی ،عصرحاضر میں کسی نے نثر اور نہ مزاح لکھا ہے۔ ایک بار انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب  ”آبِ گم“ کے بارے میں بتایا کہ اسے لکھنے میں سات سال لگے اور دس سال میں اس کی نوک پلک سنوارتا رہا۔ یوں سترہ سال کے � [..]مزید پڑھیں

  • پروفیسر محی الدین پیرزادہ، عدم برداشت کا نیا شکار

    اچانک کوئی اندوہناک خبر ملے تو دل کی حالت ایک گولی لگنے سے تڑپتے ہوئے پرندے جیسی ہوتی ہے۔ کل شام پروفیسر نعیم اشرف نے فون کیا تو ان کی آواز میں لرزش اور کرب تھا۔ انہوں نے پوچھا، یار پروفیسر محی الدین پیرزادہ کے بارے میں خبر کا علم ہوا ہے۔  میں نے کہا نہیں، کیا ہوا انہیں،نعیم [..]مزید پڑھیں

  • خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

    لاہور میں تھانہ شاہدرہ نے چار پولیس والوں کے خلاف گداگری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کی تفصیل کے مطابق چاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ وہ جرائم پیشہ افراد پر نظر رکھیں، مگر انہوں نے آنے جانے والوں سے عیدی وصول کرنا شروع کر دی۔ ایک شخص نے پولیس ت� [..]مزید پڑھیں

  • پہلے پتھر کا انتظار

    کل ورجینیا امریکہ سے ناصر محمود شیخ کا فون آیا۔ سیلانی آدمی ہے جب بھی امریکہ جاتا ہے، وہاں کی ترقی نہیں لوگوں کے رویوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ بتا رہے تھے میں نے دیکھا دو کالے پولیس والے کھڑے ہیں اور آگے جس ہال میں اجلاس ہو رہا تھا،وہاں تک نہیں جانے دے رہے۔  ان کے پاس چلا گیا۔ و [..]مزید پڑھیں

  • استحصالی نظام، ذمہ دار کون، عوام یا سیاستدان؟

    یہ بحث تو ازل سے جاری ہے کہ پہلے مرغی آئی تھی کہ انڈہ۔ ژاں پال سارتر جیسے فلسفی یہ دور کی کوڑی لائے تھے کہ یہ کائنات پہلے سے موجود تھی بس انسان نے اسے آکر دریافت کیا۔ وہ اس وجودی فلسفے کے بہت بڑے مبلغ تھے، کسی چیز کا خیال پہلے نہیں آیا بلکہ کسی بھی چیز کو دیکھ کے خیال انسان کے ذہن م [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر عشرت حسین اور بیورو کریسی کا زوال

    اس سوال کا جواب تو آج تک نہیں مل سکا کہ قیام پاکستان کے دس پندرہ سال بعد تک ترقی کرتے پاکستان کر ریورس گیئر کیسے لگا، دنیا کے بہت سے ممالک کو اپنی ترقی سے حیرت زدہ کرنے والا نوزائیدہ ملک یکدم اُلٹا کیوں چلنے لگا۔اس پر ایک جامع تحقیق ہونا چاہئے تھی، مگر نہیں ہوئی،کیونکہ اس میں تو [..]مزید پڑھیں