نسیم شاہد

  • جمہوریت مایوسی کا نام نہیں

    حالات اب اس نہج پر ہیں کہ کچھ بھی لکھتے ہوئے سو بار سوچنا پڑتا ہے،کہیں کوئی بات کسی کی طبع ناز پر گراں نہ گزرے اور عبیر ابو ذری کے بقول پچھوں کروا ندا  پھراں ٹکور تے فیدہ کی،والی صورتحال پیدا ہو جائے۔  جہاں جمہوریت، آئین، بنیادی حقوق اور انصاف کے حوالے سے ہر روز سوال اُٹھ � [..]مزید پڑھیں

  • ایمان مجھے ر وکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر

    انہی کالموں میں یہ عرض کی تھی کہ دنیا اِس وقت ایک غیر مستقل مزاج شخص کے ہاتھوں میں آیا ہوا کھلونا بن گئی ہے۔”ٹرمپ کی دنیا“ کے عنوان سے لکھے گئے کالم میں ایسے کئی اقدامات کا ذکر کیا تھا، جن کی وجہ سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے ایجنڈے پر عمل پیرا ہی [..]مزید پڑھیں

  • سیاستدان بے زبان

    مجھے تو یوں لگتا ہے پاکستان میں سیاست آخری سانسیں لے رہی ہے۔ایک دو کاموں کے لئے جو بعض ماننے والوں نے مجھے کہے ارکان اسمبلی سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔انہوں نے اشارتاً مجھے کنٹونمنٹ کی طرف سے رُخ کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک حکومتی رکن اسمبلی نے اپنا نام صیغہ راز می� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایران، امریکہ اور اسرائیل کا ہدف کیوں ہے؟

    ایران کے میزائل حملوں کے بعد تل ابیب اور یروشلم میں جب یہودیوں کے بچے خوف کے عالم میں جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے اور ان کی چیخ و پکار آسمان تک سنائی دے رہی تھی تو ان مناظر کی وڈیوز دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کیا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے مشیروں کو کچھ خیال آیا ہو گا کہ � [..]مزید پڑھیں

  • دفعہ 302 کا خوف کیوں ختم ہو گیا؟

    ایک زمانے میں یہ بات عام تھی کہ دفعہ 302کسی درخت پر بھی لگ جائے تو وہ سوکھ جاتا ہے۔ یہ بات درحقیقت اس بات کا اشارہ تھی کہ کسی کا قتل کرنے والا خود اپنی زندگی میں زندہ لاش بن جاتا ہے۔ اس دفعہ کا اتناخوف ہوتا تھا کسی کی جان لینے کے بارے میں سوچنا بھی کپکپی طاری کر دیتا تھا۔ میں پچھل� [..]مزید پڑھیں

  • عید،بکرے اور قصائی

    عیدالاضحی پر دو بڑے چیلنج درپیش ہوتے ہیں۔ قربانی کا اچھا جانور مناسب قیمت میں مل جائے اور قصائی صاحب وقت پہ دستیاب ہوں۔جس طرح محبوب کے آنے یا نہ آنے کا آخر وقت تک دھڑکا لگا رہتا ہے،اُسی طرح قصائی کی آمد بھی آخری وقت تک یقین اور بے یقین کے گرداب میں لپیٹے رکھتی ہے۔  اس بار سوش [..]مزید پڑھیں

  • ہذا من فضلِ ربی

    میرے ایک دکھی دوست نے جو دوسروں کی ترقی سے بہت جلتا ہے، مجھے ایک تین کنال پر مشتمل عالیشان کوٹھی دکھائی، جس پر ہذا من فضلِ ربی لکھا تھا۔ اس نے کہا تمہیں پتہ ہے یہ کوٹھی کس کی ہے، میں نے کہا مجھے پتہ کرکے کیا کرنا ہے، میں نے کوئی خریدنی ہے۔  کہنے لگا یہ شہر کا ایک آڑھتی ہے، اس ن� [..]مزید پڑھیں

  • صرف بارہ گھنٹے میں

    بھارت کی مسلسل جارحیت کے بعد صرف12گھنٹے سے بھی کم جاری رہنے والی جنگ نے بہت سی حقیقتوں کو واضح کر دیا ہے۔اِس جنگ کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوا ہے۔اُس کے بارے میں نہ صرف بھارت،بلکہ اُن تمام ممالک کی غلط فہمیاں دور  ہو گئی ہیں جو پاکستان کو کمزور سمجھتے تھے۔ اِس جنگ سے اِس بات کا [..]مزید پڑھیں

  • جنگ، سب کے لئے تباہی

    سوال تو یہ ہے ایک دہشت گردی کے واقعہ کو بنیاد بنا کر، جو ابھی تحقیق طلب ہے اور جس کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوا، جنگ لڑنے،حملہ کرنے کا انتہائی تباہ کن فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟ بھارتی حکومت نے پہلگام میں دہشت گردی کے بعد چند منٹوں میں یہ بیانیہ بنا لیا کہ پاکستان نے یہ حملہ کرایا ہے۔ [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر اے بی اشرف کے لئے یادگار تقریب!

    کیا ہی زندہ،شاندار اور جاوداں تقریب تھی جو ڈاکٹر اے بی اشرف کے تعزیتی ریفرنس کے لئے اکادمی ادبیات ملتان اور ملتان آرٹس کونسل کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے لئے مشاورت،  انتظامات اور کاوشیں کئی دِنوں سے جاری تھیں۔رانا محبوب اختر، نعیم اشرف، شوکت اشفاق،اظہر سلیم مجوکہ� [..]مزید پڑھیں