نسیم شاہد

  • مکالمے کی گمشدگی

    آج مجھے شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ ہمارا سیاسی و سماجی نظام سے مکالمہ روٹھ گیا ہے  بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ دم توڑ گیا اور بس اس کی آخری رسومات ادا کرنا رہ گئی ہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ جو ملک مکالمے کے زور پر آزاد ہوا،  آج اس میں ایشو چھوٹا ہو یا بڑا ہم مذاکرات اور مکالمے کے [..]مزید پڑھیں

  • پنجاب اور سندھ، نورا کشتی یا اصلی مقابلہ؟

    عوام ابھی تک سمجھ رہے ہیں پنجاب اور سندھ میں نورا کشی ہو رہی ہے، کیونکہ دونوں صوبوں میں برسر اقتدار جماعتیں وفاق میں اتحادی ہیں اور اتحادی بھی ایسی کہ ایک چھوڑ جائے تو دوسری اقتدار میں نہ رہ سکے۔ اس کے باوجود بڑی کامیابی سے آج کا بڑا مسئلہ، پنجاب اور سندھ کی لڑائی کو بنا دیا گ� [..]مزید پڑھیں

  • اور کچھ نہیں تو نعرے ہی بدلو

    78 برسوں میں عوام کو سیاستدانوں اور معاشرے کے بااثر طبقوں نے بہت سے چورن بیچے ہیں۔چورن بیچ بیچ کے پون صدی گزاری جا سکتی ہے، یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے۔ مگر ایک چورن  ایسا بھی ہے، جس پر کم ہی نظر جاتی ہے،وہ ہے نعروں کا چورن۔  کئی نعرے تو ایسے ہیں وہ آج بھی عوام کے حالات کی طرح پون [..]مزید پڑھیں

loading...
  • حسین نقی کون ہیں؟

    لاہور میں قائم اشاعتی ادارہ جمہوری پبلیکیشنز ایسی کتابیں چھاپتا ہے جو کتاب برائے کتاب نہیں ہوتیں،بلکہ ایک عہد کی تاریخ، فکر و سماجی کی بنتی بکھرتی لہروں کی کہانی اور پاکستان کے سیاسی و صحافتی اُفق کی داستان ہوتی ہیں۔  میں سمجھتا ہوں ہمیں ایسی کتابوں کی ضرورت ہے۔ وہ کتابیں [..]مزید پڑھیں

  • سفارتی حدود اور خواجہ آصف کی خوش فہمی

    عالمی سفارت کاری کا یہ اصول ہے کہ کسی بھی   ملک کے وفد میں شامل افراد پر یہ غیراعلانیہ پابندی ہوتی ہے کہ وہ اپنی انفرادی حیثیت میں کوئی بات نہیں کریں گے۔ کسی کو پرائیویٹ انٹرویو دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہاں معاہدوں کی تقریب کے بعد ان سے متعلق مشترکہ پریس کانفرنس کی گن [..]مزید پڑھیں

  • حادثے کے منتظر

    کل صبح میں گھر سے چہل قدمی کے لئے نکلا تو میں نے دیکھا میرے ہمسائے مہر اشرف بازو پر پلستر چڑھائے اور گلے میں پٹی ڈال کر آ رہے ہیں۔ میں حیران ہوا یہ کیا ماجرا ہے،رات تو وہ ٹھیک تھے اور ہم کافی دیر تک بیٹھے باتیں بھی کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کل رات وہ قاسم بیلہ سے گارڈن ٹاؤن جانے و� [..]مزید پڑھیں

  • کہانیاں رفتگاں ملتان کی

    جب آپ ایک شہر میں اپنی ساری زندگی گزار دیتے ہیں تو اس شہر کی تاریخ، بوباس، تہذیب و ثقافت، ادب اور شخصیات بھی آپ کے اندر بسنے لگتی ہیں۔ مجھے جب معروف شاعر، محقق اور کالم نگار رضی الدین رضی کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ”کہانیاں رفتگانِ ملتان کی“ ملی تو گویا یادوں کا ایک دبستان ک [..]مزید پڑھیں

  • متمول طبقہ کیوں بے خبر ہے؟

    کئی افراد ایسے ملتے ہیں جن کی تان اِس بات پر ٹوٹتی ہے کہ اِس بار سیلاب زدگان کے لئے بیرون ملک سے کوئی بڑی امداد نہیں مل رہی، پھر یہ بھی کہتے ہیں اس بار تو تباہی بھی زیادہ ہے۔سیلاب سے متاثرہ افراد تو رُل جائیں گے۔ میں اُن کی باتیں سُن کر سوچتا ہوں کہ ہماری یہ مجموعی ذہنیت بن گئی ہ [..]مزید پڑھیں

  • ہم دریاؤں سے کب تک ڈرتے رہیں گے؟

    جس طرح کھیت کھلیان اور باغات ہرے بھرے اچھے لگتے ہیں،اِسی طرح دریا بھی اُس وقت بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں،جب اُن میں پانی لبا لب بھرا ہوتا ہے۔سوکھے ہوئے دریا ایک  ویرانی اور خشک سالی کا منظر پیش کرتے ہیں جبکہ دریاؤں میں پانی ہو تو وہ زندگی کی علامت بن جاتے ہیں۔ کل صبح معروف بیور [..]مزید پڑھیں

  • انسان نما درندے اور تماشائی معاشرہ

    ہر روز ایک ایسا واقعہ ہو جاتا ہے، جس سے اس معاشرے کے انسانی معاشرہ بننے کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ رائے ونڈ روڈ پرپیش آنے والا واقعہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ بیسیوں لوگ دوبھائیوں کو اذیت ناک تشدد سے موت کا شکار ہوتے دیکھتے رہے اور کسی نے آگے بڑھ کر دست قاتل ک [..]مزید پڑھیں