ڈاکٹر ساجد علی

  • اقلیتوں کے مساوی حقوق کا مسئلہ

    تیس برس سے زیادہ پرانی بات ہے وی سی آر پر مشہورزمانہ سیریز سٹارٹریک کی ایک قسط دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس قسط میں ایک شخص سپیس شپ میں آ جاتا ہے جس کی سر سے پاؤں تک ایک سائیڈ سفید اور دوسری سیاہ ہوتی ہے۔ وہ پناہ کا طالب ہوتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد اسی طرح کا سفید و سیاہ ایک اور فرد سپیس ش� [..]مزید پڑھیں

  • ٹیکسٹ بک کا استبداد

    کوئی ایک عشرہ قبل لاہور میں ایک پرائیو یٹ یونیورسٹی نے مجھے کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو فلسفے کا ایک ابتدائی کورس پڑھانے کی دعوت دی۔ کورس آؤٹ لائن پر گفتگو کرنے کے لیے جب میں ڈین صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں کون سی ٹیکسٹ بک استعمال کروں گا۔ میرا جواب تھا کہ فلس� [..]مزید پڑھیں

  • وردی پوش ذہن کا مخمصہ اور جمہوریت

    اکتوبر 2002 کی بات ہے کہ شعبہ فلسفہ، پنجاب یونیورسٹی، کے صدر شعبہ ڈاکٹر نعیم احمد صاحب کو کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کوئٹہ سے پندرہ روز کے لیے دو کورس پڑھانے کاایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات کی بنا پر معذرت کی اور اپنی جگہ میرا نام بھیج دیا۔ وہاں سے میرے نام کی من [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ڈھاکہ سے پشاور تک، ایک قوم دو المیے

    اردو کے عظیم مزاح نگار شفیق الرحمان نے مغربی عورت سے شادی نہ کرنے کی یہ وجہ بیان کی تھی:’’سب کے سب یہ کہتے ہیں کہ لڑکا ولایت سے میم بھگا لایا ہے۔۔۔ ساتھ ساتھ یہ امید بھی ظاہر کی جاتی ہے کہ انشا اللہ میم کسی دن ضرور واپس بھاگ جائے گی‘‘۔ جب سے پاکستان بنا تھا مغربی حصے کے [..]مزید پڑھیں

  • اقبال: وسیع المشرب یا فرقہ پرست

    انگریزی زبان کا ایک لفظ ذہن میں آ رہا ہے: Gerrymander ۔ اس لفظ کی تاریخ کافی دلچسپ ہے۔ سنہ 1812 میں میساچوسٹس کے گورنر ایلڈرج گیری نے ایک انتخابی حلقے کی حدود کو مفید مطلب طریقے سے طے کیا۔ ایک اخبار کے دفتر کی دیوار پر لٹکے نقشہ پر گلبرٹ سٹوئرٹ نامی آرٹسٹ نے لکیریں کھینچ کر کہا یہ salamander � [..]مزید پڑھیں

  • جاوید احمد غامدی: یاد یار مہرباں (2 )

    ادارہ بنانے کا پروگرام شروع کرنے سے پہلے جاوید صاحب کا کالج میں بہت کم طالب علموں سے میل جول تھا۔ ادارے کی بنا رکھنے کے بعد افراد کارکی تلاش کے لیے طالب علموں سے ملنا اور ان کو اپنی بات کا قائل کرنے اور ساتھ شامل ہونے کی دعوت دینا، ہمارا اہم مشغلہ تھا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں جا [..]مزید پڑھیں

  • جاوید احمد غامدی: یاد یار مہرباں

    گورنمنٹ کالج لاہور میں ( 1967) سال اول میں داخل ہوا تو میرا ایک مضمون فلسفہ تھا۔ پروفیسر شاہد حسین صاحب ہمارے اولین استاد تھے۔ کلاس میں دو لڑکے اکٹھے آتے تھے، جن کے قد درمیانے سے کچھ کم تھے۔ دونوں کالج میں زیادہ تر اکٹھے ہی دکھائی دیتے تھے۔ ایک کا نام نعیم درانی تھا جو بلا کا پھکڑ ب [..]مزید پڑھیں

  • ارسطو کے کردہ اور ناکردہ گناہ

    پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تقریباً چالیس برس تدریسی فرائض سرانجام دیے ہیں۔ اس دوران میں متعدد کورسز پڑھانے کا اتفاق ہوا لیکن سب سے زیادہ عرصہ، یعنی تقریباً چوتھائی صدی ، منطق پڑھانے کی نذر ہوا۔ منطق سے مراد استخراجی منطق ہی ہے۔ اتنا طویل عرصہ اس مضمون کو پڑھانے کے بعد م [..]مزید پڑھیں