ڈاکٹر ساجد علی

  • جنگ ستمبر کی یاد میں

    میں سنہ 1965 میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور وہ گاؤں میں ہی گزر رہی تھیں۔ اگست کا مہینہ شروع ہوا تو پتہ چلا کہ کشمیر میں جنگ آزادی شروع ہو گئی ہے۔ مجاہدین کے ترجمان ایک ریڈیو سٹیشن صدائے کشمیر کی رات کے وقت نشریات کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔ یہ خبریں س [..]مزید پڑھیں

  • نصف صدی کا قصہ ہے

    اس بات کو پوری نصف صدی گزر چکی ہے جب میں میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں سال اول میں داخل ہوا تھا۔ زندگی میں کوئی ایک فیصلہ کن مرحلہ ایسا آتا ہے جو انسان کی آئندہ زندگی کا رخ متعین کر دیتا ہے۔ میرے لیے وہ لمحہ گورنمنٹ کالج میں داخلے کا فیصلہ تھا۔ میٹرک کا رزلٹ آنے کے بعد [..]مزید پڑھیں

  • تقسیم ہند اور پنجاب میں نقل مکانی

    میں نے جس گاؤں میں شعور کی آنکھ کھولی وہ مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجروں کا گاؤں تھا۔ آبادی کے بڑے حصے کا تعلق ضلع جالندھر سے تھا، دیگر دو بڑے گروپوں کا تعلق گورداسپور اور امرتسر کے اضلاع سے تھا۔ چند گھرانوں کا تعلق ہوشیارپور، لدھیانہ اور فیروزپور سے بھی تھا۔ ہجرت کو اجاڑا کہا � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تاریک دور کے وزرائے اعظم کا کچھ تذکرہ

    بہت سے لوگ شکوہ کناں رہتے ہیں کہ اس ملک میں سکول کے نصابات میں غلط تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور یہ شکوہ بہت حد تک بجا ہے۔ میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا جب ملک میں فوجی حکومت قائم ہوئی۔ اسی حکومت کے زمانے میں نئی نصابی کتابیں مرتب ہوئیں۔ ان کتابوں میں پاکستان کے اولین جمہوری دور کے � [..]مزید پڑھیں

  • سر سید، حالی اور حسرت موہانی نااہل قرار پائے

    ایک ہے ملک خداداد لیکن خداداد ہونے کے باوجود خستہ حال ہے۔ حکمران اس ملک کے حد درجہ نااہل اور خائن رہے ہیں۔ باشندگان ملک عجب بے تمیز واقع ہوئے ہیں۔ سامنے والا سیدھا راستہ چھوڑ کر ہمیشہ ٹیڑھا اور لمبا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن دعائیں بہت مانگتے ہیں کہ کسی طرح ان کے حالات سدھر ج� [..]مزید پڑھیں

  • حلقہ ء مریدین اور اختلاف رائے کا معاملہ

    سنہ 1980  کے لگ بھگ کی بات ہے جب مولانا امین احسن اصلاحی  کی تفسیر تدبر قرآن مکمل ہو چکی تھی۔ ان دنوں ہمدم دیرینہ جاوید احمد  (غامدی، ان دنوں انہوں نے ابھی اپنے نام کے ساتھ یہ اضافہ نہیں کیا تھا) نے مولانا محترم کو اس بات پر قائل کر لیا کہ ادارہ تدبر قرآن و حدیث کے نام سے علم و [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت اور فکر و عمل کی آزادی

    سوال اگرچہ نیا نہیں مگر آج کل ایک بار پھر شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ معاشرہ مذہبی ہوتا جا رہا ہے اسی تیزی کے ساتھ اخلاق گرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب دراصل ہمارا تصور انسان ہے۔ اخلاقی ا صول ان انسانوں کے لیے ہوتے ہیں جو آزاد اور خود مختار ہوں، عزت [..]مزید پڑھیں

  • بغداد اور بابا گرونانک کی نشست

    [دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری، کی خود نوشت ’’سفری زندگی‘‘ کا ایک اور اقتباس قارئین کی نذر ہے۔ اس میں انہوں نے جنگ عظیم اول کے فوراً بعد کے عراق اور بغداد کے کچھ مشاہدات بیان کیے ہیں۔ عراق میں ان کے اس قیام کا دورانیہ تقریباً دو سال پر محیط تھا۔] سنہ 1918  کے اخی [..]مزید پڑھیں

  • اب استاد کہلاتے شرم آتی ہے

    مردان یونیورسٹی میں رونما ہونے والے بھیانک سانحے کو اتنے دن گزر چکے ہیں لیکن کسی پل چین نہیں پڑتا۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہو رہا ہے کہ یہ سب کار فضول ہے۔ زندگی کے متعلق میرا رویہ زیادہ تر رواقی سا رہا ہے۔ نہ کبھی خوشی سے بدحال ہوا نہ کبھی غم سے نڈھال [..]مزید پڑھیں