ڈاکٹر ساجد علی

  • سہارن پور سے بنوں اور نوشکی تک

    [میرے دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری، کی خود نوشت سوانح ’’سفری زندگی‘‘ کے دو اقتباسات  اس سے پہلے  شائع ہو چکے ہیں۔ اس وقت اس کتاب کا ایک اور اقتباس پیش خدمت ہے۔ ] سنہ 1917 کا اخیر آ گیا تھا او ر میرے لیے شروع بچپن سے ہر سال کا اخیر کوئی نہ کوئی تبدیلی کا نیا پیغا� [..]مزید پڑھیں

  • مردان یونیورسٹی کے اساتذہ کہاں تھے؟

    مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ایک سانحہ پیش آیا ہے کہ توہین رسالت کا الزام لگا کر ایک طالب علم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس پر سوشل میڈیا میں کہرام مچا ہوا ہے۔ بہت سے لوگ اسے وحشیانہ قتل قرار دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ دھیمے سروں میں اس کا دفاع بھی پی [..]مزید پڑھیں

  • ایک سو سال قبل بمبئی کا احوال

    [ اس سے قبل میرے دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری، کی خود نوشت ’’سفری زندگی‘‘ کا ایک اقتباس شائع ہوا تھا۔ اس خود نوشت کا سال تصنیف 1944  ہے اور اس وقت ان کا قیام نیروبی (کینیا) میں تھا۔ احباب کی پذیرائی سے مجھے یہ حوصلہ ملا ہے کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے۔ اس قسط میں � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • شیخ صلاح الدین: اپنے عہد کا علمی استعارہ

    شاید دسمبر کا مہینہ اور 1973 کا سال تھا۔ اتوار کے دن میں اپنے دوست باصر کاظمی کے گھر پہنچا تو ڈرائنگ روم میں ایک بھاری بھرکم شخص ، سوٹ ٹائی میں ملبوس، کوٹ کے نیچے کارڈیگن پہنے، چہرے پر عینک لگائے، آرام کرسی میں تشریف فرما تھے۔ باصر نے بتایا کہ اس کے ابا کے دوست شیخ صلاح الدین صاحب � [..]مزید پڑھیں

  • ایک سو سال قبل مدراس میں پنجابی مسلمان

    [میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ متحدہ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انہوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، � [..]مزید پڑھیں

  • پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت اور شعبہ فلسفہ

    یکم جنوری 1979  کوپنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ دو تین برس تو خیریت سے گزر گئے۔ لیکن اس کے بعد جمعیت کے ساتھ معاملات کچھ الجھنا شروع ہو گئے۔ 1983 کا سال تھا جب ان کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا۔ ہر تدریسی شعبے میں نئے آنے والے طلبہ و طالبات کا خیر مقدم کرنے اور جان� [..]مزید پڑھیں

  • لارڈ میکالے: سرزمین ہند کا دشمن یا دوست (2)

    میکالے کی تعلیمی سفارشات پر بحث کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس پس منظر کا ایک طائرانہ جائزہ لے لیا جائے جس میں اس پالیسی کا ظہور ہوا تھا۔ 1615 میں سر ٹامس رو برطانوی بادشاہ جیمز اول اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے مشترکہ سفیر کی حیثیت سے برطانوی بادشاہ کا مغل شہنشاہ نورالدین جہانگ� [..]مزید پڑھیں

  • لارڈ میکالے: سرزمین ہند کا دشمن یا دوست

    جب سے شعور نے آنکھ وا کی، بڑوں سے اکبر الہٰ آبادی اور علامہ اقبال کے اشعار سنے۔ نوائے وقت گھر میں آتا تھا، پرائمری سکول سے اس کو پڑھنا شروع کیا، ہائی سکول میں اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ شروع ہوا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تو کالج کے اندر اور باہر بڑے جید پروفیسروں اور دانش ورو [..]مزید پڑھیں

  • وقت کی رفتار

    ناصر کاظمی نے کہا تھا: یہ صبح کی سفیدیاں، یہ دوپہر کی زردیاں اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا ایک اور سال گزر گیا۔ کیلنڈر پر تاریخ بدل جائے گی۔ کیا وقت کی اس گردش میں ہمارے فائدے کا بھی کوئی سامان ہے یا اس میں زیاں ہی زیاں ہے؟ وقت کے تغیر و تبدل سے ہمیں نقصان کا احساس کیوں [..]مزید پڑھیں

  • سنہ 71ء کا لہو لہو دسمبر

    پینتالیس برس بیت چکے ہیں مگر جب بھی دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو دل میں کرب و الم کی ٹیس اٹھنے لگتی ہے مگر زیادہ رنج اپنی حماقتوں کو یاد کرکے ہوتا ہے کہ انسان اگر ایک بیانیے، بالخصوص سرکاری بیانیے، کا اسیر ہو جائے تو کس طرح سامنے کی حقیقتوں کو جاننے اور پہچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ سک� [..]مزید پڑھیں