ڈاکٹر ساجد علی

  • دیہات اور سیاسی شعور

    پاکستان کی تاریخ میں 1958  وہ منحوس سال تھا جب جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ میں اس وقت دوسری جماعت کا طالب علم تھا اور میرے سیاسی شعور کا یہ نقطہء آغاز تھا۔ اس وقت یہ تو پتہ نہیں تھا کہ ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں لیکن دادا جان کچھ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ سابق وزیر اعظم پ [..]مزید پڑھیں

  • ٹیکسٹ بک کا استبداد

    کوئی ایک عشرہ قبل لاہور میں ایک پرا ئیو یٹ یونیورسٹی نے مجھے کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو فلسفے کا ایک ابتدائی کورس پڑھانے کی دعوت دی۔ کورس آؤٹ لائن پر گفتگو کرنے کے لیے جب میں ڈین صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں کون سی ٹیکسٹ بک استعمال کروں گا۔ میرا جواب تھا کہ فلس [..]مزید پڑھیں

  • روحانیات اور تقویم کے مسائل

    اگست کا مہینہ آتا ہے تو پاکستان میں ایک بحث شروع ہو جاتی ہے کہ ہمارا یوم آزادی 14 اگست ہے یا 15 اگست۔ اس پر محققین حسب توفیق روشنی ڈالتے رہتے ہیں اور معاملہ مزید الجھتا چلا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ ہمارے قائدین نے سوچا کہ چونکہ ہندوؤں کی سازشوں � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مکالمے کے آداب

    ستر کی دہائی کی بات ہے کہ ایک وکیل صاحب سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ موصوف کا تعلق ایک نامور مذہبی گھرانے سے تھا اس لیے مولویوں کے لطائف و ظرائف کا ایک وسیع ذخیرہ ان کی یاد داشت میں محفوظ تھا۔ ان کے والد صاحب ایک مناظر تھے۔ ایک دن انھوں نے اپنے والد صاحب کا یہ قول فیصل بیان کیا کہ [..]مزید پڑھیں

  • جنت میں ٹی ہاؤس کی میز

    باغ بہشت کے ایک گوشے میں گھنے درختوں کے نیچے، پھولوں کے تختوں کے درمیان، جوئبار کے کنارے ایک میز لگی ہے جس کے گرد کرسیوں پر ناصر کاظمی، شیخ صلاح الدین، اور حنیف رامے براجمان ہیں۔ ایک کرسی خالی ہے۔ ناصر کاظمی پر کسی قدر غنودگی طاری ہے اور حنیف رامے نے فرط عقیدت سے شیخ صاحب کا ہات� [..]مزید پڑھیں

  • اسلامی ریاست چہ معنی دارد

    بیسویں صدی کے ایک برطانوی فلسفی اور سیاسی مفکر ڈبلیو۔ بی۔ گیلی نے ایک بہت عمدہ ترکیب Essentially contested concepts وضع کی تھی۔اس کی مراد یہ تھی کہ سماجی علوم کے بعض تصورات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ ان کی جامع منطقی تعریف ممکن نہیں ہوتی مثلاً سماجی انصاف، جمہوریت، آرٹ، اخلاقی فریضہ۔ کمیونسٹوں [..]مزید پڑھیں

  • مذہبی روایت میں تنقید کا حق

    بیسویں صدی کے ایک بہت ممتاز فلسفی کارل پوپر نے دو روایات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک انتقاد فکر کی روایت اوردوسری مذہبی روایت۔ مذہبی روایت میں اصل فریضہ  بانئ مذہب کی تعلیمات کو من و عن محفوظ رکھنا اور ان کو کسی تغیر و تبدل کے بغیر آئندہ نسلوں کو منتقل کرنا ہے۔ اس روایت میں کسی نئی س� [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر جاوید اقبال ۔۔۔ دلِ ناصبور

    ایک شخص اس دنیا میں طویل عمر بسر کرتا ہے۔ اس دوران میں وہ اعلیٰ ترین تعلیمی اسناد حاصل کرتا ہے، تحریر و تصنیف میں نام پیدا کرتا ہے، ہائی کورٹ کا جج بنتا ہے، چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا جج بننے کا اعزاز حاصل کرتا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد سینٹ کا رکن بھی رہتا ہے،دنی� [..]مزید پڑھیں