عثمان قاضی

  • بنگلا دیش۔ ۔ خون کے دھبے دھلنے کے امکانات

    بنگلادیش میں ”عرب بہار“ طرز کے عوامی ابھار، شیخ حسینہ کی حکومت کو اسے جبر سے کچلنے کی کوشش میں ناکامی اور پھر موصوفہ کے ملک کے فرار ہونے کے بعد سے جو سیاسی بے یقینی کی فضا بنگلادیش پر چھائی ہوئی تھی، انتخابات کے کم و بیش پر امن انعقاد اور اس کے نتیجے میں بنگلادیش نیشنلسٹ پا [..]مزید پڑھیں

  • موت سے پہلے مرنے والا آدمی

    صوفیا کے ہاں ایک قول بہت معروف ہے۔ ”موتوا، قبل ان تموتوا“ ۔ اس کا لفظی مطلب تو یہ ہے کہ موت سے پہلے ہی مر جاؤ۔ اہل تصوف کے ہاں اس کی گونا گوں تفاسیر کی جاتی ہیں، لیکن یقین کیجیے، میں نے ایسا آدمی دیکھ رکھا ہے جو اس قول کی چلتی پھرتی مثال تھا، اور اس کے بظاہر برعکس ایک اور مقو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کورونا کے سائے میں سفر۔۔ دمشق سے اسلام آباد

    دوستان گرامی کی خدمت میں اس بار اسلام آباد سے آداب۔ اگرچہ کرونا کے زیرِ سایہ گزرتے شب و روز پر مزید لکھنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن مرحوم – کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے یہ سابقہ لکھا ہے- آصف فرخی سے وعدہ تھا کہ ایک آخری باب قلم بند کیا جائے گا۔ اس یارِ مستعجل نے اس سے پہلے ہی گٹھڑ� [..]مزید پڑھیں

  • ابن بطوطہ کے مولد سے

    کوئی چوبیس سال بعد دانے پانی کی کشش نے پھر سے بحر اوقیانوس کے کنارے پر لا پٹکا ہے۔ اس سے پہلے اس سمندر کی، جسے اہلِ عرب ”اطلس“ کے نام سے پکارتے ہیں، زیارت مغربی افریقہ کے سواحل پر ہوئی تھی۔ اس بار اس خادم کا ہفتے بھر کا قیام شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے شہر طنجہ میں ہے۔   [..]مزید پڑھیں

  • اب التفات نگار سحر کی بات سنو

    دوستان عزیز، مسافر کو تاجکستان کا چلہ کاٹ کر لوٹے ہفتے بھر سے زیادہ ہو گیا ہے، مگر حال احوال کا اختتامیہ تاخیر کا شکار ہوتا چلا گیا۔ باعث تاخیر وہی مسافت کی غیر منطقی طوالت ۔ دوشنبہ سے پرواز کی روانگی علی الصبح ساڑھے چار بجے تھی، اور ہوائی اڈے پر اس سے دو گھنٹے پہلے پہنچنے کا حک� [..]مزید پڑھیں

  • لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب۔۔۔

    دوستان عزیز، مسافر تاجکستان کے صوبہ "گورنو بدخشان" کی سیاحت سے واپس دوشنبہ لوٹ آیا ہے۔ ’گورنو‘ روسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں، پہاڑ۔ دوشنبہ سے بدخشان کے صدر مقام ’’خاروغ‘‘ کی مسافت ایک وقفے وقفے سے شکستگی کی شکار سڑک پر، ہماری اقوام متحدہ کی فراہم � [..]مزید پڑھیں

  • گر بہ گنج اندر زیاں آید ہمے

    دوستو، مسافر اب تک دوشنبہ میں ہی پھنسا ہوا ہے۔ ارادہ تو یہ تھا کہ گورنو بدخشاں جا کر، پیشہ ورانہ امور کی بجا آوری کے علاوہ پامیر کے غروب آفتاب کو دیکھا جائے کہ آیا وہ لعل کے ڈھیر ویسے ہی گلگوں لگاتا ہے جیسے کہ علامہ اقبال نے چشم تصور سے دیکھا تھا مگر اے بسا آرزو.... اس آرزو کے اب تک [..]مزید پڑھیں