سرور غزالی

  • ہمارے طارق صاحب

    آپ نے  ٹی ایس فوڈ کا نام بھی سنا ہے اور وہاں جاکر خریداری بھی کی ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ یہ طارق اور سہیل کا مخفف ہے۔ آپ نے اس کے لوگو پر غور کیا ہے؟ کتنا خوبصورت سا ہاتھی بنا ہوا ہے۔ جی میں اسی طارق اور سہیل صاحب کے اس ایمپوریم کی بات کر رہا ہوں جو اپنی نوعیت کا واحد یا � [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا ہیرو کون ہو؟

    ہمارا ہیرو کون ہو، یہ سوال ہر قوم کے لیے بہت اہم ہے ۔ چونکہ قومیں اپنے ہیرو سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں یہ سوال اور بھی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ کیا تیونس سے فرانس میں سیاسی پناہ لینے کے لیے آنے والا21 سالہ وہ شخص ایک ناخوشگوار جرم کے بعد ہمارا ہیرو بننے کا مستحق ہ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • رنگیلے شاہ کا ہوائی قلعہ

    بنی گالہ کو اگر قلعہ معلی سے  تشبیہ دی جائے تو چند ایک دوسرے کرداروں کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ آخری مغل تاجدار کا کردار کون قبول کرے گا۔ حالانکہ اس کا نام تو بہادر ہے مگر تھا وہ بڑا بزدل ورنہ۔۔۔۔ورنہ۔ پھر یہ کہ رنگون کہاں ہوگا اور کمپنی کے صاحب بہادر کا کردار کون ا [..]مزید پڑھیں

  • بزم ادب برلن کی مجلس مسالمہ

    شعر موضوع کرنے والے شعراء ایک خاص طبیعت اور رجحان کے حامی ہوتے ہیں۔ اچھا شاعر ایک اچھا انسان بھی ہوتا ہے۔ زوم جیسے پلیٹ فارم پر جبکہ لوگ اس کو براہ راست یا بعد میں ریکارڈنگ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔  اول تو یہ کہ شعر کی تعریف کرتے وقت [..]مزید پڑھیں

  • چھ ستمبر: ایماندار جرنیل ، بے ایمان سیاست دان

    ہم بچپن میں اپنی نصابی کتابوں میں پڑھتے رہے، کسی فیلڈ مارشل کی کہانی، کسی چونڈے کے ہیرو، کسی میجر کی کہانی، کھیم کرن اور فضائیہ کے طیارے میں دشمن غدار ساتھی کو مات دینے والے پائیلٹ کی بہادری کی داستان اور ٹینک کے نیچے لیٹ جانے والے میجر کی داستان۔  اور اسی ملک کے پاسباں اور [..]مزید پڑھیں

  • یک منفرد کانفرنس کی روداد

    شعبہ اردو جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی جانب سے ایک دو روزہ عالمی آن لائن کانفرنس بعنوان اکیسویں صدی میں اردو ادب منعقد ہوئی۔ جس میں پاکستان، ہندوستان، جموں و کشمیر، ڈنمارک، جرمنی، برطانیہ، فرانس، مصر اور ماریسیش سےچیدہ چیدہ مندوبین شریک تھے۔ اس کانفرنس کا انعقاد جامعہ & [..]مزید پڑھیں

  • لاقانونیت کا سیلاب

    جب عدالتیں صرف طاقتور اور دولت مندوں کی مرضی کے مطابق فیصلے کریں اور ان میں بھی طاقتور ترین کو فوقیت دیں تو معاشرے سے انصاف کا بھرم ختم ہوجاتا ہے۔  جس معاشرے سے انصاف اٹھ جائے وہ انارکی کے ایک نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنس جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں جو امہ کا تصور ہے وہ بین [..]مزید پڑھیں

  • مدرسی اخلاقی سلیبس

    جانے کیا ہوا کہ زمانے کی منفی روش نے پنجاب کی زمین جو صوفیوں اور بزرگ دین پھیلانے والوں کی آماجگاہ تھی اس قدر بے راہ روی کا شکار ہوگئی۔ ان صوفیوں کی تعلیم نے اپنا اثر دکھانا چھوڑ دیا توایک مردحق تشریف لایا اور خواص جو کہ پہلے ہی سے راہ راست پر تھے، ماسوائے چند ایک کے، اس نے عوام ک [..]مزید پڑھیں