ٹونی عثمان

  • دھورندھر: آرٹ اور بی جے پی کا نفرت بھرا بیانیہ

    آج کل بھارت اور پاکستان کشیدگی کے پس منظر میں تیار کی گئی بھارتی فلم ”دھورندھر“ کے متعلق بہت چرچا ہو رہا ہے۔ بعض لوگ اسے مختلف وجوہات کے باعث تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ ایک فلم ہے اور اسے خالصتاً فلم کے طور پر دیکھا اور انجوائے کیا جانا چاہیے۔ مگر یہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • منٹو: ہماری ننگی سوسائٹی کا آئینہ

    اچھے لکھاری کے متعلق عام طور پر کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا ہتھیار قلم ہے۔ مگر اُردو کے عظیم لکھاری سعادت حسن منٹو، جنہیں فحش اور رُجعت پسند کہا گیا، کا سب سے بڑا اور مظبوط ہتھیار اُن کی ایمانداری تھا۔ یہی ہتھیار مرتے دم تک اُن کے لئے مسائل کی وجہ بنا رہا۔ اس لئے کہ [..]مزید پڑھیں

  • نُور جہاں: پاکستانی ثقافت کی سریلی شناخت

    بلہے شاہ کے شہر قصور کے قصبے کوٹ مُراد خان میں 21 ستمبر 1926 کو ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام اللہ وسائی رکھاگیا۔ اللہ وسائی نے محض 5 سال کی عمر میں گانا شروع کیا اور 9 سال کی عمر تک وہ لاہور میں اسٹیج کی اہم پرفارمر بن چکی تھیں۔ یوں وہ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک، مسلسل سات عشرے فن کی خدمت � [..]مزید پڑھیں

  • ابسن کے ڈرامے اور پاکستانی سماج

    ناروے کے عالمی شہرت یافتہ عظیم ڈرامہ نگار ہینرک ابسن کے ڈرامے پڑھتے اور دیکھتے وقت بعض دفعہ یہ گمان ہوتا ہے کہ یا تو ابسن پاکستانی تھے یا اس وقت کا ناروے، جس کی وہ عکاسی کرتے ہیں، پاکستان جیسا تھا۔ ابسن 1828 میں اوسلو سے 130 کلومیٹر دور ایک قصبہ نما چھوٹے سے شہر شیئن کے ایک خوشحال [..]مزید پڑھیں

  • ناروے کا کلاسیکی ادب اردو میں

    ناروے کے سرکردہ ناول نگاروں میں سے ایک کھنیوت ہامسن ہیں۔ انہیں 1920 میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ اُن کے کئی ناولوں کو اسٹیج کے لیے ڈرامائی شکل دی گئی اور سنیما کی سکرین پر بھی پیش کیا گیا۔ وہ ناروے کے سب سے زیادہ فلمائے گئے مصنفین میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ متنازعہ بھی سمجھے جاتے ہی [..]مزید پڑھیں

  • ستر کی دہائی، بھٹو اور فلمی صنعت

    ایک پھلتا پھولتا سنیما کلچر ایک ایسے معاشرے کی نشاندہی کرتا ہے ، جس میں لوگ تفریح کے ذریعے اپنے مسائل، امیدوں اور خواہشات پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ایسا پھلتا پھولتا سنیما کلچر پاکستان میں 70 کی دہائی میں تھا۔ اس دہائی میں وہ سیاسی بیداری اور سماجی ترقی پسند اقدار واضح تھیں جن کی [..]مزید پڑھیں

  • بھٹو کا خون کبھی ہضم ہو گا؟

    ذوالفقار علی بُھٹو کی 45ویں برسی ایسے وقت میں آئی ہے، جب حال ہی میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنایا ہے کہ بُھٹو کو ان کے خلاف مقدمہ قتل میں فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ ویسے تو یہ سب ہمیشہ سے جانتے تھے مگر اتنے اہم ادارے کی طرف سے ایسا فیصلہ سُنانا خوش آئند اور امید افزا ہے۔ 3 ست� [..]مزید پڑھیں