فاروق سلہریا

  • خواجہ آصف سیالکوٹی کے نام ایک مختصر مراسلہ

    خواجہ صاحب! اسلام علیکم۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ آپ کو اپنا مندرجہ ذیل ٹویٹ بھی یاد ہو گا۔اور حالیہ بیان بھی نہیں بھولا ہو گا۔ خواجہ صاحب! آپ علامہ اقبال سیا لکوٹی کے بعد، ان دنوں سب سے وائرل سیالکوٹی ہیں۔ آپ کا سابق گرائیں ہونے کے ناطے، صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ سب آپ کیسے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • حکومت نہیں ریاست بحران کا شکار ہے

    پہلی بات پہلے: جب معاشی بحران کی بات کی جاتی ہے تو عموماً تاثر دیا جاتا ہے گویا سرمایہ داروں کے اربوں ڈوب گئے ہیں کیونکہ جب اربوں کھربوں کی بات کی جاتی ہے تو عام انسان سوچتا ہے کہ اس کا اربوں کروڑوں کی رقم سے کیا لینا دینا۔ سچ تو یہ ہے کہ اکثر معاشی بحرانوں کے دوران بھی بہت سے ار� [..]مزید پڑھیں

  • کورونا پر مولانا طارق جمیل کو ایک کھلا خط

    ڈئیر مولانا، سلام۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ دین آپ کا کاروبار اور آپ کی سیاست ہے، جس کی بدولت بغیر ٹیکس دیے، آپ ایک شاہانہ زندگی گزارتے ہیں اور اس سیاست کی بدولت وزیر اعظم ہاؤس سے لے کر آرمی ہاؤس تک، طاقت کے ہر محل کا در آپ پر وَا رہتا ہے۔ یہ آپ کی کامیاب سیاست کا کرشمہ ہے کہ آپ جس [..]مزید پڑھیں

  • چچا سام کے نام منٹو کا تازہ خط

    از عالم بالا۔ دو جنوری 2018 786 پیارے چچا جان آداب۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ ایک عرصے کے بعد میرے خط لکھنے کی فوری وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ ٹویٹ ہے جس میں انہوں نے "پاکستان" پر سخت برہمی کا اظہار یہ کہہ کر کیا ہے کہ "پاکستان" دہشت گردی کے نام پر انکل سام کے 33 ارب کھا گیا ہے ا� [..]مزید پڑھیں

  • منافقوں کی سامراج مخالفت

    21 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بارے اپنی حکومت کی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوِئے پاکستان کو شدید تنقید کا سامنا بنایا۔ اوراپنے مخصوص انداز میں اربوں روپے دینے کا طعنہ دیا۔ اس کے جواب میں پاکستان کے حکمرانوں اور شہری مڈل کلاس طبقے کی غیرت جاگی۔ فوری طور پر [..]مزید پڑھیں

  • آزاد کشمیر اور سنسر شپ

    "آزادیِ اظہار سے مراد ہمیشہ ان کے اظہار کی آزادی ہے جو مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ روزا لکسمبرگ" 24 اگست کو راولا کوٹ کی انتظامیہ نے روزنامہ مجادلہ کے دفتر کو یہ کہہ کر بند کر دیا کہ اخبار کے پاس اجازت نامہ (ڈیکلریشن) نہیں ہے۔ اخبار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈیکلریشن کے لئے [..]مزید پڑھیں

  • راجہ گدھ : منطق پر بانو قدسیہ کا ادبی حملہ

    نوے کی دہائی میں بطور طالب علم جب میں پنجاب یونیورسٹی لاہور پہنچا تو دو کتابوں کا چرچا تھا۔ ہم جیسے بگڑے تگڑے راجہ انور کی ‘جھوٹے روپ کے درشن’ کا پرچار کرتے۔ یہ خوبصورت کتاب راجہ انور کے ان محبت ناموں پر مبنی ہے جو انہوں نے اپنے ایامِ طالب علمی میں اپنی محبوبہ کو لکھے تھے۔ [..]مزید پڑھیں