تبصرے تجزئیے

  • منافقت کا موسم اور ایٹمی سیاست

    ایران ان ایک سو اکیانوے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے پانچ ایٹمی طاقتوں (امریکا، سوویت یونین ، برطانیہ ، فرانس، چین ) کی یقین دہانی کے بھروسے انیس سو اڑسٹھ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کیے کہ اگلے پچیس برس میں پانچوں جوہری طاقتیں اپنے ایٹمی اسلحہ خانے خ [..]مزید پڑھیں

  • انون کا دائرہ اور اختیار کا نشہ

    اچھی خبر ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پیرا فورس کے اہلکاروں کی مسلسل شہریوں سے بدتمیزی اور برے سلوک کا نوٹس لیا ہے۔30جون تک افسروں اور اہلکاروں کو باڈی کیم لگانے کا حکم بھی دےدیا ہے۔ 5مئی کے کالم  ’ایک معصومانہ سوال‘ میں اسی موضوع پر لکھتے ہوئے میں نے کہا تھا پنجاب میں � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مولانا فضل الرحمن کیلئے دعا

    مولانا فضل الرحمن کی جرأتِ رندانہ حیران کن ہے۔ سچ پوچھئے تو پریشان کن بھی۔مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی جلسے سے ان کا خطاب سن کر یہ احساس ہوا کہ یہ ایک ایسے حق گو مذہبی راہنما کا نعرۂ مستانہ تھا جو جذبات، دور اندیشی اور جرأت کا مرقع ہے۔ دل کا درد اُن کی آنکھوں سے عیاں تھ [..]مزید پڑھیں

  • پھر وہی مکھڈی حلوہ

    اسے آپ حیران کن اتفاق کہیں، میں نے جب صبح اخبار کا ادارتی صفحہ کھولا تب میں برادرِ عزیز وہاب نیازی کا کالا باغ سے بھیجا گیا ماما حنیف کا مکھڈی حلوہ کھا رہا تھا۔ صبح صبح برادر محترم اظہار الحق کا کالم پڑھنا اس عاجز کیلئے بقیہ سارا دن سرخوشی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔  ملکی مس� [..]مزید پڑھیں

  • باسٹھ برس کی معذرت : مبارک باد تو بنتی ہے

    اگرچہ ہم نے یکم مئی کو ہی دوستوں کو بتا دیا تھا کہ ہم اس مرتبہ اپنے جنم دن پر کوئی تقریب نہیں کررہے ( ویسے بھی جنم دن کی تقریبات سے ہم مدت ہوئی کنارہ کشی اختیار کر چکے)۔ لیکن اس کے باوجود احباب  نے گزشتہ دو روز کے دوران ہمیں جس محبت سے نوازا اس کے لیے اظہار تشکر ایک معمولی سا ل� [..]مزید پڑھیں

  • قلم چھوڑ ہڑتال: اضطراری کیفیت یا ٹھوس حکمت عملی؟

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خیبرپختونخوا میں قلم چھوڑ ہڑتال کا فیصلہ کیا تو دریچہِ دل پر اس سوال نے دستک دی کہ اگر ملا نصیر الدین حیات ہوتے تو اس طرز حکومت  کا کیسا سہرا کہتے؟   ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، اسمبلی کی شان دار عمارت کے ہوتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس ایک سٹ [..]مزید پڑھیں

  • کشمیر میں آپریشن سندور کی برسی

    ’آپریشن سندور‘ کو ختم ہوئے تقریباً دو ماہ گزر چکے تھے کہ علی اصغر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے نکل کر مجھے یورپ کے ایک خوبصورت شہر وینس میں ایک سیمنار میں شرکت کے دوران ملے۔ آپریشن سندور سے نہ صرف علی کی سوچ  بدل گئی تھی بلکہ اس کی اونچی آواز میں بات کرنا بھی بند ہوگیا ت [..]مزید پڑھیں

  • غمگین سلیمانی کا خط

    پیارے عطا ! ان دنوں شہر میں شادیاں بہت ہو رہی ہیں۔ اس لیے تمہارے خط کا جواب جلدی نہ دے سکا۔ شہر میں جس طرف نکل جائیں قناتوں اور سائبانوں سے رستہ بند ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے لمبا چکر کاٹنا پڑتا ہے۔ پھر ان دنوں کوئی بارات بینڈ باجے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اور یوں شور و شغب سے کانوں ک [..]مزید پڑھیں

  • سوشل میڈیا کے اوباش لَونڈے

    صحافت تو اب رہی نہیں ’’بیانیہ سازی‘‘  بن چکی ہے۔ خود کو پرانی وضع کا  ’’اصلی اور خالص‘‘  صحافی کہلوانے کے دعوے دار مجھ جیسے قلم گھسیٹ بھی شعوری نہیں تو لاشعوری طورپر بیانیہ فروشی ہی کے دھندے میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئے کالموں کے لئے زی� [..]مزید پڑھیں