تبصرے تجزئیے

  • قیدی اور ’قیدو‘!

    عربی، فارسی، اردو، ہندی اور پنجابی ادب میں صیّاد (شکاری) اور صید ( شکار یا قید پرندہ) اسیر اور آسر کی اصطلاحات سے بھری پڑی ہیں ۔ اردو میں قیدی کا لفظ ہے مگر قید کرنے والے کیلئے عربی اور فارسی کی طرح کا اسی جڑسے نکلا ہوا، ملتا جلتا کوئی لفظ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ قید کرنے والے ک [..]مزید پڑھیں

loading...
  • امین مغل کے نام ایک خط

    استاد من، برادر بزرگ، پروفیسر امین صاحب مغل، عالم ہمہ داں، تفقہ فی العصر، تفقہ فی السان، تفقہ فی الادب، حضرت بعد ایک طویل مدت کے اگلے روز فون پر آپ کی شفیق آواز گوش نواز ہوئی۔ آپ غالباً شفا خانے میں تھے۔ جس آواز نے عشرہ در عشرہ آئندگاں کو تاریخ کے پیچاک کا درس دیا تھا، سیاست کے [..]مزید پڑھیں

  • تعصب ایک عالمی ورثہ ہے

    امریکی ریاست منی سوٹا میں صومالی تارکینِ وطن کی آبادی دو فیصد ہے۔ یہاں سے ایک صومالی نژاد رکنِ کانگریس الہان عمر صدر ٹرمپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ ٹرمپ منی سوٹا کے صومالی نژاد ووٹروں کو ایسا کچرہ کہتے ہیں جو کسی کام کا نہیں اور اس کچرے کی صفائی کے بغیر امریکا عظیم نہیں بن سکت� [..]مزید پڑھیں

  • ٹرمپ کی تعریفیں

    غزہ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دئے ہیں۔ انہوں نے دونوں کی خوب جم کر تعریف کی ہے اور دونوں شخصیات کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ امریکا کی دوستی اور امریکی صدر [..]مزید پڑھیں

  • مقامی اور عالمی عقلمندی

    ابھی صدر زرداری کی قید میں بتدریج ہونے والے اضافے پر لکھے گئے کالم کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ اور سات مئی کی درمیانی رات ہونے والی فضائی جھڑپ میں تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے گیار [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی جماعت یا فورس؟

    اور اب ’رہائی فورس‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ’اس فورم سے خان صاحب کی رہائی کیلئے آئینی جدوجہد کی جائے گی‘۔ جواب میں کہا جا سکتا ہے: یہ جدوجہد تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیوں نہیں؟ ایسے سوالوں کے جواب افراد نہیں، تاریخ کے پا س ہوتے ہیں۔ � [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر نجیب جمال اور نصف صدی کا قصہ

    یونیورسٹی دور کے کلاس فیلو نے جب مجھے خبر دی کہ استادِ گرامی ڈاکٹر نجیب الدین جمال کی تدریسی زندگی کو پچاس سال یعنی نصف صدی ہو چکی ہے اور یہ کسی استاد کے لئے ایک بہت فخر کی بات ہے۔ تو مجھے یکدم خیال آیا کہ اُن پر لکھنے کے لئے تو میرے پاس بہت سا مواد ہے، بہت سی یادیں ہیں اور بہت س [..]مزید پڑھیں